مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَابْنُ لَبِيدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ · حديث 1292
1292 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعَ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ لَبِيدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا أَوَانُ ذَهَابِ الْعِلْمِ» أَوْ «هَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ الْعِلْمِ» فَقَالَ ابْنُ لَبِيدٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ نُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُعَلِّمُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ لَبِيدٍ إِنْ كُنْتُ لَأَحْسَبُكَ أَعْقَلَ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَدْ أُوتُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ ثُمَّ لَمْ يَنْتَفِعُوا مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ؟»
انصار کے ایک فرد حضرت ابن لبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ وقت علم جانے کا ہے ' یا یہ فرمایا : یہ وقت ہے علم کے ختم ہونے کا ۔ حضرت ابن لبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! کیسے علم چلا جائے گا ؟ حالانکہ ہمارے درمیان کتاب اللہ موجود ہے ' ہم اسے اپنے بیٹوں اور پوتوں کو سکھاتے ہیں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابن لبید ! تیری ماں تجھ پر روئے ! میں تو تجھے مدینہ میں یہود کا سب سے بڑا سمجھدار آدمی سمجھتا ہوں ' کیا یہود و نصاریٰ کو تورات و انجیل نہیں دی گئی ' پھر انہوں نے ان سے کسی شی کا نفع نہیں لیا ۔
ابْنِ لَبِيدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1292
