مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 191
191 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَقَالَ لِي: «هَلْ أَوْصَيْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ أَوْصَيْتُ بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ: «فَمَا تَرَكْتَ لِوَلَدِكَ؟» قُلْتُ: هُمْ أَغْنِيَاءُ بِخَيْرٍ، قَالَ: «أَوْصِ بِالْعُشْرِ» ، فَمَا زَالَ يُنَاقِصُنِي وَأُنَاقِصُهُ حَتَّى قَالَ: «أَوْصِ بِالثُّلُثِ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ»
حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لاۓ ‘اس حال میں کہ میں مریض تھا ‘آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا تو نے وصیت کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! میں نے تمام مال کی وصیت کی ہے ‘آپ نے ارشادفر مایا: تو نے اپنی اولاد کے لیے کیا چھوڑا؟ میں نے عرض کی: وہ خیر سے مال دار ہیں ‘آپ نے فرمایا: دسویں حصہ کی وصیت کر‘ پس آپ مسلسل کمی کرواتے رہے‘ اور میں کم کرتا رہا حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: تہائی مال کی وصیت کر‘ اور تہائی بھی زیادہ ہے ۔
أوص بالثلث والثلث كثير ← أوص بالعشر فما زال يناقصني وأناقصه حتى ← فما تركت لولدك قلت هم أغنياء بخير ← لِي: «هَلْ أَوْصَيْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ أَوْصَيْتُ بِمَالِي كُلِّهِ ← مريض ← دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← سَعْدٍ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سَلَّامٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 191
