Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ · حديث 1772

1772 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:246] عَامَ الْفَتْحِ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كُرَاعَ الْغَمِيمِ وَالنَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشَاةً وَرُكْبَانًا، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ نَاسًا قَدِ اشْتَدَّ عَلَيْهِمُ الصَّوْمُ، وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ كَيْفَ فَعَلْتَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَرَفَعَهُ وَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، فَصَامَ بَعْضُ النَّاسِ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَعْضَهُمْ صَائِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُولَئِكَ الْعُصَاةُ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح کے سال روزہ کی حالت میں نکلے ، حتیٰ کہ آپ مقام کراع الغمیم کے پاس پہنچے اور لوگ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے ، کچھ پیدل اور کچھ سوار تھے ، یہ ماہ رمضان میں ہوا تھا۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ! لوگ روزہ کی حالت میں ہیں ، ان پر روزہ کی شدت ہے ، اور وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوایا پیالے میں ، سو اس کو بلند کیا اور پیا ، اور لوگ دیکھ رہے تھے ، بعض نے روزہ رکھا ہوا تھا اور بعض نے افطار کیا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر دی گئی کہ بعض روزہ کی حالت میں ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : یہی لوگ نافرمان ہیں ۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1772

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ · حديث 1773

1773 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعًا لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذِنَ لِلنَّاسِ فِي الْحَجِّ، وَفِيهَا نَاسٌ كَثِيرٌ يُرِيدُونَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:247]، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ، فَقَالَ: «اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي، ثُمَّ أَهِلِّي» فَفَعَلَتْ، قَالَ: فَلَمَّا اطْمَأَنَّ صَدْرُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلَلْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، قَالَ جَابِرٌ: فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي وَمِنْ وَرَائِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي مِنَ النَّاسِ مُشَاةً وَرُكْبَانًا، فَخَرَجْنَا لَا نَعْرِفُ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» فَانْطَلَقْنَا لَا نَعْرِفُ إِلَّا الْحَجَّ، لَهُ خَرَجْنَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا، وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ، وَإِنَّمَا يَعْمَلُ بِمَا أُمِرَ بِهِ، حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجَرِ، فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ طَافَ سَبْعًا، رَمَلَ فِي ذَلِكَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] ، قَالَ: صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ أَبِي: وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ [ص:248] فِيهِمَا بِالتَّوْحِيدِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ جَابِرٍ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ جَابِرٍ قَالَ: ثُمَّ أَتَى الرُّكْنَ فَاسْتَلَمَهُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا قَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، وَقَالَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158] ، قَالَ: فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، وكَبَّرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ثُمَّ يَدْعُو بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ فَمَشَى حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْمَسِيلِ سَعَى حَتَّى إِذَا أَصْعَدَ قَدَمَيْهِ فِي الْمَسِيلِ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى إِذَا أَتَى الْمَرْوَةَ، فَصَعِدَ حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَكَبَّرَ ثَلَاثًا وَقَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» هَكَذَا كَمَا فَعَلَ يَعْنِي عَلَى الصَّفَا ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً، فَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنَ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً» فَأَحَلُّوا وَقَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَرَأَى النَّاسَ قَدْ حَلُّوا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ: «فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ فَلَا تَحِلَّ» قَالَ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى فَاطِمَةَ وَقَدِ اكْتَحَلَتْ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا، فَأَنْكَرَ [ص:249] ذَلِكَ، فَقَالَ: مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا؟ فَقَالَتْ: أَمَرَنِي بِهِ أَبِي، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: فَكَانَ عَلِيٌّ يُحَدِّثُ بِالْعِرَاقِ، قَالَ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ، فَقَالَ: «صَدَقَتْ، أَنَا أَمَرْتُهَا» قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَسَتِّينَ بَدَنَةً وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ، وَكَانَتْ مِائَةَ بَدَنَةٍ، فَأَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ قِطْعَةً، فَطَبَخَ فَأَكَلَ هُوَ وَعَلِيٌّ، وَشَرِبَا مِنَ الْمَرَقَةِ، وَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ فَقَالَ: «لَا، بَلْ لِلْأَبَدِ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ» وَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں کھڑے ہوئے تو تاریخ کو آپ نے حج نہیں کیا تھا، لوگوں کے لیے اعلان حج کیا تو بہت زیادہ لوگ حج کے لیے تیار ہو گئے ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جانے کے لیے نکلے ، پس آپ نکلے حتیٰ کہ ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں حضرت محمد بن ابی بکر صدیق پیدا ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف انہوں نے پیغام بھیجا کہ آپ سے پوچھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : غسل کر لے اور کپڑا رکھ لے ، پھر حلال ہو جا۔ پس انہوں نے ایسے ہی کیا ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹنی پر بیٹھ گئے تو آپ نے تلبیہ پڑھا، اور ہم نے بھی تلبیہ پڑھا ، ہماری نیت صرف حج کی تھی ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا میرے دائیں بائیں میرے پیچھے پیدل اور سوار لوگ ہی لوگ تھے، پس ہم نکلے اور ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے آپ پڑھ رہے تھے : " لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شیریک لاک لبیک ، ان الحمد و النعمۃ لک والملک ، لا شریک لک " سو ہم چلے ہم حج کے سوا کچھ بھی نہیں جانتے تھے جس کے لیے ہی ہم نکلے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ساتھ تھے ، اور قرآن بھی نازل ہو رہا تھا اور آپ اس کی تاویل ( یعنی تفسیر ) کو جانتے ہیں اور آپ وہ وہی عمل کرتے تھے جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ آئے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طواف کی ابتداء حجر اسود سے کی ، اس کو استلام کیا ، پھر سات مرتبہ طواف کیا اس میں تین مرتبہ رمل کیا اور چارمرتبہ چلے ، پھر یہ آیت تلاوت کی : مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو " کہا کہ آپ نے دو رکعت اد ا کیں ۔ میرے والد فرماتے ہیں کہ یہ مستحب ہے کہ ان میں قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد پڑھی جائے اور یہ الفاظ حضرت جابر کی حدیث میں مذکور نہیں، پھر حج جابر کی حدیث کی طرف پلٹے ، فرمایا کہ پھر آپ رکن کے پاس آئے تو اس کو استلام کیا ، پھر آپ صفا کی طرف گئے ، آپ نے فرمایا : ہم اس سے ابتداء ایسے ہی کرتے ہیں جس طرح اللہ نے ابتداء کی اور یہ آیت پڑھی : صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں " ۔ کہا کہ آپ صفا پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو خانہ کعبہ واضح نظر آنے لگا اور آپ نے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور یہ پڑھا : " لا الہ الا اللہ ، وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک ، ولہ الحمد ، یحی و یمیت ، بیدہ الخیر، وھو علی کل شیء قدیر " پھر ان کے درمیان دعا کی ۔ کہا کہ پھر آپ اترے ، پس آپ چلے یہاں تک کہ بطن المسیل پر سعی کی ( مسیل ، اخضر سے پہلے صفا و مروہ کے درمیان کی وادی کا نام ہے ) حتیٰ کہ جب بطن مسیل میں اترے پھر آپ چلے یہاں تک کہ مروہ پر آئے ، اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو خانہ کعبہ نظر آنے لگا ۔ آپ نے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور " لا الہ الا اللہ وحدہ، لا شریک لہ " اسی طرح پڑھا جیسے صفا پر پڑھا تھا پھر اترے ، فرمایا : جس کے پاس قربانی نہیں وہ حلال ہو جائے اور اس کو عمرہ بنا لے اور اگر مجھے اس معاملے کا پہلے پتہ ہوتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا تو میں بھی اسے عمدہ بنا لیتا ، پس انہوں نے احرام کھول دئیے اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے ، آپ نے لوگوں کو دیکھا وہ حلالی ہو گئے ہیں ۔ تو بنی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا : کسی شی کے ساتھ تم نے احرام باندھا؟ کہا کہ میں نے کہا: اے اللہ ! میں اسی کا احرام باندھتا ہوں جس کے ساتھ تیرے رسول نے احرام باندھا ہے ۔ فرمایا کہ میرے پاس قربانی ہے تو میں حلالی نہ ہوا۔ کہا: میں ( حضرت علی ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پا س آئے اور انہوں نے سرمہ لگایا ہوا تھا، اور رنگ دار کپڑے پہنے ہوئے تھے ، آپ نے اس کو ناپسند کیا ، ( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا : کس نے آپ کو یہ پہننے کا حکم دیا ہے ۔ ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ) فرمایا : مجھے میرے والد نے حکم دیا ہے ۔ حضرت محمد بن علی فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ عراق میں بیان فرماتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، پوچھنے کے لیے جس کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے ذکر کیا تھا، آپ نے فرمایا : اس نے سچ کہا ، میں نے اس کو حکم دیا تھا، یہ جملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا ، پھر جب قربانی کا دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ نحر کیے ، باقی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیے تو سو ہو گئے ، آپ نے ہر اونٹ سے ایک ٹکڑا لیا ، اس کو پکایا، آپ نے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ حضرت سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے ، آپ نے حج کو عمرہ میں داخل کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1773

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ · حديث 1774

1774 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنَ أُمَّتِي» ، قَالَ: فَقَالَ لِي جَابِرٌ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ الْكَبَائِرِ فَمَا لَهُ وَلِلشَّفَاعَةِ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے۔ ( حضرت جعفر ) فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر کبیرہ گناہ کرنے والے نہ ہوتے تو شفاعت کس کے لیے ہوتی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1774

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter