مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 23
23 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى مَرِّ الظَّهْرَانِ فَدَخَلَ عُمَرُ الْأَرَاكَ يَقْضِي حَاجَتَهُ وَقَعَدْتُ لَهُ حَتَّى خَرَجَ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مُنْذُ سَنَةٍ فَمَنَعَتْنِي هَيْبَتُكَ أَنْ أَسْأَلَكَ فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِي عِلْمًا فَسَلْنِي قَالَ: قُلْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ حَدِيثِ الْمَرْأَتَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا نَعْتَدُّ بِالنِّسَاءِ وَلَا نُدْخِلُهُنَّ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِنَا فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْإِسْلَامِ وَأَنْزَلَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى حَيْثُ أَنْزَلَهُنَّ وَجَعَلَ لَهُنَّ حَقًّا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَدْخُلْنَ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِنَا فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا جَالِسٌ فِي بَعْضِ شَأْنِي إِذْ قَالَتْ لِيَ امْرَأَتِي كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ: مَا لَكِ أَنْتِ وَلِهَذَا؟ وَمَتَى كُنْتِ تَدْخُلِينَ فِي أُمُورِنَا؟ فَقَالَتْ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَكَ وَابْنَتُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ غَضْبَانَ فَقُلْتُ: وَإِنَّهَا لَتَفْعَلُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى [ص:28] حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا حَفْصَةُ أَلَا تَتَّقِينَ اللَّهَ تُكَلِّمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ غَضْبَانَ وَيْحَكِ لَا تَغْتَرِّينَ بِحُسْنِ عَائِشَةَ وَحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا ثُمَّ أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أَيْضًا فَقُلْتُ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَتْ: لَقَدْ دَخَلْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ، وَكَانَ لِي صَاحِبٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَحْضُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غِبْتُ وَأَحْضُرُهُ إِذَا غَابَ وَيُخْبِرُنِي وَأُخْبِرُهُ وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَخْوَفَ عِنْدَنَا أَنْ يَغْزُوَنَا مِنْ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ غَسَّانَ فَلَمَّا هَدَّأَ اللَّهُ الْأَمْرَ عَنَّا فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسٌ فِي بَعْضِ أَمْرِي إِذْ جَاءَ صَاحِبِي فَقَالَ: أَبَا حَفْصٍ أَبَا حَفْصٍ مَرَّتَيْنِ فَقُلْتُ: وَيْلَكَ مَا لَكَ أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَقُلْتُ: رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ وَانْتَعَلْتُ وَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِي كُلِّ بَيْتٍ بُكَاءٌ وَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ وَإِذَا عَلَى الْبَابِ غُلَامٌ أَسْوَدُ فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لِي فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ عَلَى حَصِيرٍ تَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أُُدُمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَإِذَا قَرَظٌ وَأُهُبٌ مُعَلَّقَةٌ فَأَنْشَأْتُ أُخْبِرُهُ بِمَا قُلْتُ لِحَفْصَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ «وَكَانَ آلَى مِنْ نِسَائِهِ [ص:29] شَهْرًا فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ»
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آۓ ‘یہاں تک کہ ہم مرالظہر ان کے پاس سے گزرے‘ سوحضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت الخلا ء میں داخل ہوۓ‘ اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے‘ میں آپ کے لیے بیٹھ گیا ‘یہاں تک کہ آپ نکلے ‘میں نے عرض کی اے امیر المؤمنین! میں چاہتا ہوں کہ میں آپ سے ایک بات کے متعلق پوچھوں ‘ایک سال سے اس خیال میں مجھے آپ کی ہیبت نے رو کے رکھا کہ میں آپ سے پو چھ سکوں ۔ آپ نے فرمایا :ایسا نہ کرنا جب تو جانے کہ میرے پاس علم ہے تو مجھ سے پوچھ لیا کر۔ میں نے عرض کی: میں آپ سے ان دوعورتوں کی بات کے متعلق پو چھنا چاہتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! وہ حفصہ اور عائشہ تھیں‘ جب ہم دورِ جاہلیت میں تھے تو ہم عورتوں کو شمار نہیں کرتے تھے (یعنی اِن سے کوئی راۓ نہیں لیتے تھے) اور نہ ہم اپنے کاموں میں ان سے رائے لیتے تھے‘ جب اللہ عز وجل اسلام لا یا اور اللہ عز وجل نے ان کے لیے حکم نازل فرمایا جیسے نازل فرمایا ‘اوران کے لیے حق رکھا سواۓ اس کے کہ ہمارے اُمور میں ان کو داخل نہیں کیا‘ میں ایک دن اپنے کام کے لیے بیٹھا ہوا تھا‘ اچا نک میری بیوی نے مجھ سے اس طرح اس طرح کہا۔ میں نے اس کو کہا تجھے کیا ہوا ہے اور یہ بات کیوں کہی ہے؟ اور تو کب سے ہمارے اُمور میں داخل اندازی کر رہی ہے؟ تو اس نےکہا: اے بن خطا ب! آ پ سے کوئی بھی گفتگو کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے‘ اور حال یہ ہے کہ آپ کی بیٹی رسول اللہﷺ سے گفتگو کرتی ہے‘ یہاں تک کہ آپ سارا دن غصہ کی حالت میں گزار دیتے ہیں ۔ میں نے کہا: ( کیا) وہ ایسے ہی کرتی ہے (جیسے تو کہہ رہی ہے) ؟ اس نے کہا :جی ہاں! تو میں اُٹھ کھڑا ہوا‘ پس میں حفصہ کے پاس آیا ‘میں نے کہا: اے حفصہ ! کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتیں؟ تم رسوال اللہﷺ سے گفتگو کرتی ہو‘ یہاں تک کہ آپ سارا دن غصہ کی حالت میں گزارتے ہیں‘ تیرے لیے ہلاکت ہو! عائشہ کی اچھائی اور رسول اللہ ﷺ کی محبو بہ سے دھوکا نہ کھالینا۔ پھر میں حضرت اُم سلمہ کے پاس بھی آیا‘ میں نے اس کو بھی یہی بات کہی ۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابن خطاب! آپ ہرشی میں دخل دیتے ہیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی ازواج کے معاملات میں بھی ‘اور میرا ایک انصاری ساتھی تھا جو رسول اللہﷺکے پاس ہو تا تھا جب میں غائب ہوتا تھا۔ اور جب میں آپ کے پاس موجود ہوتا تھا ‘تو وہ انصاری غائب ہو تا تھا ‘وہ مجھے اپنی موجودگی کے بارے میں بتا تا تھا اور میں اس کو بتا تا تھا‘ ہمارے ہاں کوئی بھی اس سے زیادہ خوف نہیں کر تا تھا کہ ہم غسان کے بادشاہوں سے جنگ کر یں (یعنی ہمیں صرف غسان کے بادشاہوں کے ساتھ ہی جنگ کر نے سے ڈر لگتا تھا )جب اللہ نے ہمارے کام کی راہنمائی کی‘ تو ایک دن میں اپنے کام کے لیے بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میرا ساتھی آ یا‘ اس نے کہا: اے ابوحفص! اے ابوحفص ! دو مرتبہ کہا‘ میں نے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو! تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا غسانی آ یا ہے؟ کیا غسانی آیا ہے؟ اس نے کہا :نہیں ! لیکن رسول اللہ ﷺنے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے‘ میں نے کہا: حفصہ کی ناک خاک آلود ہو! حفصہ کی ناک خاک آلود ہو! میں پریشان ہوا ‘سو میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا تو ہر گھر میں رونے کی آواز آرہی تھی‘ اور رسول اللہ ﷺ ایک کمرے میں تھے‘ اور دروازے پر ایک سیاہ غلام تھا ‘میں نے اس کو کہا: میرے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگیں‘ سو اس نے میرے لیے اجازت طلب کی‘ تو آپ نے میرے لیے اجازت دے دی‘ آپ ایک چٹائی پر محو آرام تھے ‘آپ کے سر کے نیچے کھجور کی چھال کا بھرا ہوا ایک تکیہ تھا ‘اور اس کے نشانات آپ کے جسم اطہر پر تھے‘ میں نے بتانا شروع کر دیا ‘سو میں نے کہنا شروع کیا جو میں حفصہ اور اُم سلمہ سے کہا تھا۔ اور آپ نے اپنی ازواج سے ایک ماہ تک لعان فرمایا پس جب مہینے کے انتیس دن ہوۓ تو آپ ان (اپنی ازواج) کی طرف اتر آۓ ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Hadith 23
