Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 23

23 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى مَرِّ الظَّهْرَانِ فَدَخَلَ عُمَرُ الْأَرَاكَ يَقْضِي حَاجَتَهُ وَقَعَدْتُ لَهُ حَتَّى خَرَجَ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مُنْذُ سَنَةٍ فَمَنَعَتْنِي هَيْبَتُكَ أَنْ أَسْأَلَكَ فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِي عِلْمًا فَسَلْنِي قَالَ: قُلْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ حَدِيثِ الْمَرْأَتَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا نَعْتَدُّ بِالنِّسَاءِ وَلَا نُدْخِلُهُنَّ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِنَا فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْإِسْلَامِ وَأَنْزَلَهُنَّ اللَّهُ تَعَالَى حَيْثُ أَنْزَلَهُنَّ وَجَعَلَ لَهُنَّ حَقًّا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَدْخُلْنَ فِي شَيْءٍ مِنْ أُمُورِنَا فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا جَالِسٌ فِي بَعْضِ شَأْنِي إِذْ قَالَتْ لِيَ امْرَأَتِي كَذَا وَكَذَا فَقُلْتُ: مَا لَكِ أَنْتِ وَلِهَذَا؟ وَمَتَى كُنْتِ تَدْخُلِينَ فِي أُمُورِنَا؟ فَقَالَتْ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَكَ وَابْنَتُكَ تُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ غَضْبَانَ فَقُلْتُ: وَإِنَّهَا لَتَفْعَلُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ فَقُمْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى [ص:28] حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا حَفْصَةُ أَلَا تَتَّقِينَ اللَّهَ تُكَلِّمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ غَضْبَانَ وَيْحَكِ لَا تَغْتَرِّينَ بِحُسْنِ عَائِشَةَ وَحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا ثُمَّ أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أَيْضًا فَقُلْتُ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَتْ: لَقَدْ دَخَلْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ، وَكَانَ لِي صَاحِبٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَحْضُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غِبْتُ وَأَحْضُرُهُ إِذَا غَابَ وَيُخْبِرُنِي وَأُخْبِرُهُ وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَخْوَفَ عِنْدَنَا أَنْ يَغْزُوَنَا مِنْ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ غَسَّانَ فَلَمَّا هَدَّأَ اللَّهُ الْأَمْرَ عَنَّا فَبَيْنَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسٌ فِي بَعْضِ أَمْرِي إِذْ جَاءَ صَاحِبِي فَقَالَ: أَبَا حَفْصٍ أَبَا حَفْصٍ مَرَّتَيْنِ فَقُلْتُ: وَيْلَكَ مَا لَكَ أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ أَجَاءَ الْغَسَّانِيُّ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَقُلْتُ: رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ وَانْتَعَلْتُ وَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِي كُلِّ بَيْتٍ بُكَاءٌ وَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ وَإِذَا عَلَى الْبَابِ غُلَامٌ أَسْوَدُ فَقُلْتُ: اسْتَأْذَنْ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لِي فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ عَلَى حَصِيرٍ تَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أُُدُمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَإِذَا قَرَظٌ وَأُهُبٌ مُعَلَّقَةٌ فَأَنْشَأْتُ أُخْبِرُهُ بِمَا قُلْتُ لِحَفْصَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ «وَكَانَ آلَى مِنْ نِسَائِهِ [ص:29] شَهْرًا فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آۓ ‘یہاں تک کہ ہم مرالظہر ان کے پاس سے گزرے‘ سوحضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت الخلا ء میں داخل ہوۓ‘ اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے‘ میں آپ کے لیے بیٹھ گیا ‘یہاں تک کہ آپ نکلے ‘میں نے عرض کی اے امیر المؤمنین! میں چاہتا ہوں کہ میں آپ سے ایک بات کے متعلق پوچھوں ‘ایک سال سے اس خیال میں مجھے آپ کی ہیبت نے رو کے رکھا کہ میں آپ سے پو چھ سکوں ۔ آپ نے فرمایا :ایسا نہ کرنا جب تو جانے کہ میرے پاس علم ہے تو مجھ سے پوچھ لیا کر۔ میں نے عرض کی: میں آپ سے ان دوعورتوں کی بات کے متعلق پو چھنا چاہتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! وہ حفصہ اور عائشہ تھیں‘ جب ہم دورِ جاہلیت میں تھے تو ہم عورتوں کو شمار نہیں کرتے تھے (یعنی اِن سے کوئی راۓ نہیں لیتے تھے) اور نہ ہم اپنے کاموں میں ان سے رائے لیتے تھے‘ جب اللہ عز وجل اسلام لا یا اور اللہ عز وجل نے ان کے لیے حکم نازل فرمایا جیسے نازل فرمایا ‘اوران کے لیے حق رکھا سواۓ اس کے کہ ہمارے اُمور میں ان کو داخل نہیں کیا‘ میں ایک دن اپنے کام کے لیے بیٹھا ہوا تھا‘ اچا نک میری بیوی نے مجھ سے اس طرح اس طرح کہا۔ میں نے اس کو کہا تجھے کیا ہوا ہے اور یہ بات کیوں کہی ہے؟ اور تو کب سے ہمارے اُمور میں داخل اندازی کر رہی ہے؟ تو اس نےکہا: اے بن خطا ب! آ پ سے کوئی بھی گفتگو کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے‘ اور حال یہ ہے کہ آپ کی بیٹی رسول اللہﷺ سے گفتگو کرتی ہے‘ یہاں تک کہ آپ سارا دن غصہ کی حالت میں گزار دیتے ہیں ۔ میں نے کہا: ( کیا) وہ ایسے ہی کرتی ہے (جیسے تو کہہ رہی ہے) ؟ اس نے کہا :جی ہاں! تو میں اُٹھ کھڑا ہوا‘ پس میں حفصہ کے پاس آیا ‘میں نے کہا: اے حفصہ ! کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتیں؟ تم رسوال اللہﷺ سے گفتگو کرتی ہو‘ یہاں تک کہ آپ سارا دن غصہ کی حالت میں گزارتے ہیں‘ تیرے لیے ہلاکت ہو! عائشہ کی اچھائی اور رسول اللہ ﷺ کی محبو بہ سے دھوکا نہ کھالینا۔ پھر میں حضرت اُم سلمہ کے پاس بھی آیا‘ میں نے اس کو بھی یہی بات کہی ۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابن خطاب! آپ ہرشی میں دخل دیتے ہیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی ازواج کے معاملات میں بھی ‘اور میرا ایک انصاری ساتھی تھا جو رسول اللہﷺکے پاس ہو تا تھا جب میں غائب ہوتا تھا۔ اور جب میں آپ کے پاس موجود ہوتا تھا ‘تو وہ انصاری غائب ہو تا تھا ‘وہ مجھے اپنی موجودگی کے بارے میں بتا تا تھا اور میں اس کو بتا تا تھا‘ ہمارے ہاں کوئی بھی اس سے زیادہ خوف نہیں کر تا تھا کہ ہم غسان کے بادشاہوں سے جنگ کر یں (یعنی ہمیں صرف غسان کے بادشاہوں کے ساتھ ہی جنگ کر نے سے ڈر لگتا تھا )جب اللہ نے ہمارے کام کی راہنمائی کی‘ تو ایک دن میں اپنے کام کے لیے بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میرا ساتھی آ یا‘ اس نے کہا: اے ابوحفص! اے ابوحفص ! دو مرتبہ کہا‘ میں نے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو! تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا غسانی آ یا ہے؟ کیا غسانی آیا ہے؟ اس نے کہا :نہیں ! لیکن رسول اللہ ﷺنے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے‘ میں نے کہا: حفصہ کی ناک خاک آلود ہو! حفصہ کی ناک خاک آلود ہو! میں پریشان ہوا ‘سو میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا تو ہر گھر میں رونے کی آواز آرہی تھی‘ اور رسول اللہ ﷺ ایک کمرے میں تھے‘ اور دروازے پر ایک سیاہ غلام تھا ‘میں نے اس کو کہا: میرے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگیں‘ سو اس نے میرے لیے اجازت طلب کی‘ تو آپ نے میرے لیے اجازت دے دی‘ آپ ایک چٹائی پر محو آرام تھے ‘آپ کے سر کے نیچے کھجور کی چھال کا بھرا ہوا ایک تکیہ تھا ‘اور اس کے نشانات آپ کے جسم اطہر پر تھے‘ میں نے بتانا شروع کر دیا ‘سو میں نے کہنا شروع کیا جو میں حفصہ اور اُم سلمہ سے کہا تھا۔ اور آپ نے اپنی ازواج سے ایک ماہ تک لعان فرمایا پس جب مہینے کے انتیس دن ہوۓ تو آپ ان (اپنی ازواج) کی طرف اتر آۓ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Hadith 23

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 24

24 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ فَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا: مجھے ایسے نہ بڑھاؤ جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسٰی ابن مریم علیہ السلام کو بڑ ھا دیا ( کہ ان کو خدا کا بیٹا کہہ دیا) بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں‘ سوتم کہو:’’عبد الله ورسوله ‘‘ (اللہ کے بندے اور اس کے رسول )۔

عُمَرَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 24

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 25

25 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [ص:30] رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ فِينَا فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ الرَّجْمَ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَلَا تُخْدَعُنَّ عَنْهُ فَإِنَّهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ «رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمَ أَبُو بَكْرٍ وَرَجَمْتُ»

حضرت يوسف بن مہران فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ کی مسجد کے منبر پر ہم کو خطبہ دیا ‘پس فرمایا: اے لوگو! بےشک حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہم میں کھڑے ہوۓ تو فرمایا: اے لوگو! سنو! رجم اللہ کی حدود میں سے ایک حد ہے‘ یہ حد انہوں نے اپنی طرف سے نہیں بنائی بلکہ اس کو اللہ نے اپنی کتاب میں اور نبی اکر مﷺ نے اپنی سنت میں بیان کیا‘ اور بے شک رسول اللہﷺنے بھی رجم کیا‘ اور حضرت ابوبکر نے بھی رجم کیا‘ اور میں بھی رجم کر تا ہوں ۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [ص:30] قَامَ فِينَا ← خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 25

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 26

26 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ طُعِنَ فَقَالَ: " يَا أَبَا عَبَّاسٍ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا [ص:31] يُدْرِكَنِي النَّاسُ، إِنِّي لَمْ أَقْضِ فِي الْكَلَالَةِ وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ عَلَى النَّاسِ خَلِيفَةً، وَكُلُّ مَمْلُوكٍ لِي عَتِيقٌ فَقِيلَ لَهُ: اسْتَخْلِفْ قَالَ: أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتُ فَقَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي إِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدِ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَإِنْ أَدَعِ النَّاسَ إِلَى أَمْرِهِمْ فَقَدْ تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأطَلْتَ صُحْبَتَهُ، ثُمَّ وَلِيتَ فَعَدَلْتَ وَأَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَّا تُبْشيِرُكَ إِيَّايَ بِالْجَنَّةِ فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَوْ أَنَّ لِيَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَافْتَدَيْتُ بِهِ مِمَّا هُوَ أَمَامِي قَبْلَ أَنْ أَعْلَمَ الْخَبَرَ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْهَا كَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِيَ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَاكَ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا‘ تو میں سب سے پہلے آپ کے پاس آیا‘ آپ نے فرمایا: اے ابن عباس! مجھ سے تین باتیں یاد کر لو‘ مجھے خوف ہے کہ لوگوں کے ساتھ میری ملاقات نہ ہو سکے: (۱) بے شک میں نے کلالہ کے بارے کوئی فیصلہ نہیں کیا (۲)اور میں نے لوگوں پرکسی کو خلیفہ نہیں بنایا(۳) اور میرا ہر غلام آزاد ہے ۔ آپ سے عرض کی گئی: آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں ‘آپ نے فرمایا: اگر میں ایسا کروں تو بے شک مجھ سے بہتر انسان نے خلیفہ مقرر کیا تھا (یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ) ‘اور اگر چھوڑ دوں اس معاملہ کولوگوں پر تو بے شک رسول اللہﷺ نے اس معاملہ کو لوگوں پر چھوڑا ہے ‘میں نے عرض کی : اے امیر المؤمنین ! آپ کو جنت کی خوشخبری ہو! آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں‘ آپ دیر تک آپ ﷺ کی صحبت میں رہے‘ پھر والی بن گئے ‘سو آ پ نے عدل کیا اور امانت کا حق ادا کر دیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھے جنت کی خوشخبری دیتے ہیں‘ اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ‘اگر میرے ی پاس دنیا اور دنیا کے اندر جونعمتیں ہیں تو میں انہیں صورت ِحال واضح ہو نے سے پہلے اپنے سامنے پیش آنے والے معاملات کے فدیے میں دے دیتا‘ رہی بات جو آ پ نے مسلمانوں کے معاملات کا ذکر کیا ہے‘ تو اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں اس سے نجات پا جاؤں کسی طریقہ سے‘ نہ مجھے فائد ہ ہو اور نہ مجھ پر کسی قسم کا وبال ہو‘ اور رہی بات آپ کی رسول اللہ ﷺکی صحبت کی‘ تو وہ کافی ہے ۔

أَوَّلُ النَّاسِ أَتَى عُمَرَ حِينَ طُعِنَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 26

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 27

27 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ طَافَ فَأَرَادَ أَنْ لَا يَرْمُلَ فَقَالَ: «إِنَّمَا رَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغِيظَ الْمُشْرِكِينَ» ثُمَّ قَالَ: أَمْرٌ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ فَرَمَلَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے طواف کیا تو ارادہ کیا کہ وہ رمل نہ کر یں‘ پھر فرمایا: بے شک نبی اکر م ﷺنے بھی رمل کیا تھا تا کہ مشرکین پر غصہ ( ظاہر )کیا جاۓ پھر فرمایا: یہ ایسا معاملہ ہے جو رسول اللہ ﷺنے بھی کیا ہے اور آپ نے اس سے منع نہیں کیا‘ پھر آپ نے بھی رمل کیا۔

أَمْرٌ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ فَرَمَلَ ← «إِنَّمَا رَمَلَ النَّبِيُّ لِيَغِيظَ الْمُشْرِكِينَ» ثُمَّ ← عُمَرَ أَنَّهُ طَافَ فَأَرَادَ أَنْ لَا يَرْمُلَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 27

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 28

28 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ خَالَكَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: «لَوْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهُ مَا قَبَّلْتُهُ»

حضرت جعفر بن عثمان القرشی جو اہلِ مکہ سے ہیں‘ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن عباد بن جعفر کو دیکھا‘ انہوں نے حجراسود کا بوسہ لیا اور اس پر سجدہ کیا ‘پھر فرمایا میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے بھی اس کا بوسہ لیا اور اس پرسجدہ کیا ‘پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے اس کا بوسہ لیا اور اس پر سجدہ کیا‘ پھر حضرت عمر نے فرمایا: اگر میں نے رسول اللہﷺکوا سے بوسہ دیتے ہوۓ نہ دیکھا ہوتا تو میں اس کا بوسہ نہ لیتا۔

ابْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ ← رَأَيْتُ خَالَكَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَبَّلَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ← رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ ← جَعْفَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 28

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 29

29 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» نَهَى عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تُشْرِقَ الشَّمْسُ "

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے پسند ید ہ لوگ میرے پاس موجود تھے‘ اُن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے‘ حضرت عمر مجھے ان لوگوں میں سب سے زیا دہ پسندیدہ تھے ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ) بے شک رسول اللہﷺنے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا ‘سورج کے غروب ہونے تک‘ اور صبح کی نماز کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا سورج کے بلند ہونے تک ۔

شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ، فِيهِمْ عُمَرُ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 29

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 30

30 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَقَالَ لِي عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ: «مَنْ مَاتَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ قِيلَ لَهُ ادْخُلِ الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ»

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا‘ اور رسول اللہ ﷺخطبہ ارشادفر ما رہے تھے ‘تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کہ تیرے آنے سے پہلے رسول اللہﷺنے فرمایا: جو انسان اس حالت میں مرے کہ وہ اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ‘اس کو کہا جاۓ گا کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چا ہے داخل ہو جا!

دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ فَقَالَ لِي عُمَرُ: ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 30

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter