مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو يَحْيَى · حديث 2665
2665 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ يُؤَذِّنُ عَلَى أَطْوَلِ مَنَارَةٍ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى وَأَنَا أَطُوفُ مَعَهُ، يَعْنِي حَوْلَ الْبَيْتِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، سَمِعْتُهُ مِنْ فِيهِ: «الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا»
حضرت موسیٰ بن ابی عثمان سے روایت ہے کہ امام شعبہ فرماتے ہیں کہ یہ کوفہ میں سب سے بلند مینار پر اذان دیتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابو یحییٰ نے مجھ سے حدیث بیان کی اور میں ان کے ساتھ خانہ کعبہ کا طواف کررہا تھا، فرماتے لگے : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے سنا ، آپ نے فرمایا : مؤذن بلند آواز کی وجہ سے بخش دیا جاتا ہے، اور اس کے لیے ہر خشک و تر چیز گواہی دیتی ہے۔ اور اس کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے ( یعنی اذان و اقامت ) ان دونوں کے درمیان کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔
رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أطوف معه يعني حول البيت ← أبو يحيى ← شعبة وكان يؤذن على أطول منارة بالكوفة ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2665
