مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ · حديث 2870
2870 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ [ص:466]، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: مِنْ رَبِيعَةَ قَالَ: «مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرِ الْخَزَايَا وَلَا النَّدَامَى» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَإِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّهُ يَحُولُ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ " وَرُبَّمَا قَالَ: «الْمُقَيَّرِ، فَاحْفَظُوهُنَّ، وَادْعُوا إِلَيْهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ»
حضرت ابو مرہ بن عمران فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ عبدالقیس کاوفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کس قوم سے ہو؟ انہوں نے عرض کی : قبیلہ ربیع سے، آپ نے فرمایا : خوش آمدید ! بغیر رسوائی اور ندامت کے ۔ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !ہم قبیلہ ربیعہ سے ہیں ، اور ہم آپ کےپاس بڑی دور سے آئے ہیں ، ہمارے اور آپ کے درمیان یہ قبیلہ مضر حائل ہے، ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں ہی آ سکتے ہیں ، آپ ہمارے لیے کوئی حکم فرمائیں تاکہ ہم اپنے پیچھے رہنے والوں کو بتادیں ، اور ہم اسکی وجہ سے جنت میں داخل ہو جائیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تم کو چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں ۔میں تمہیں اللہ وحدہ، پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں ، کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور یہ کہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا ، اور زکوٰہ ادا کرنا ، اور رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت سے خمس ادا کرنا۔ اور میں تمہیں چار باتوں سے منع کرتا ہوں : دباء ، حنتم ، نقیر ، مزفت سے ، بسا اوقات فرمایا : مقیر خودبھی انہیں یاد کرو اور اپنے پیچھے والوں کو بھی ان کی دعوت بتا دو۔
مرحبا بالوفد غير الخزايا ولا الندامى فقالوا ← مِنْ رَبِيعَةَ ← «مَنِ الْقَوْمُ؟» ← إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ، ← شُعْبَةُ، [ص:21] ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2870
