مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَلْقَمَةَ الثَّقَفِيُّ · حديث 1433
1433 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَّاطُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ قَعَاصٍ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلْقَمَةَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَوْا إِلَيْهِ هَدِيَّةً فَقَالَ: «أَصَدَقَةٌ أَمْ هَدِيَّةٌ؟ فَإِنَّ الصَّدَقَةَ يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ اللَّهِ وَإِنَّ الْهَدِيَّةَ يُبْتَغَى بِهَا وَجْهُ الرَّسُولِ وَقَضَاءُ الْحَاجَةِ» فَسَأَلُوهُ فَمَا زَالُوا يَسْأَلُونَهُ حَتَّى مَا صَلَّوُا الظُّهْرَ إِلَّا مَعَ الْعَصْرِ
حضرت عبدالملک بن علقہ الثقفی رضی اللہ سے روایت ہے کہ ثقیف کا وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ،انہوں نے آپ کو ہدیے دیئے توآپ نے فرمایا :کیا یہ صدقہ ہے یا ہدیہ ؟بے شک صدقے سے اللہ کی رضا مطلوب ہوتی ہے اور ہدیہ کے ساتھ رسول کو رضا مطلوب ہوتی ہے ۔پس انہوں نے آپ سے سوال پوچھنے شروع کیئے یہا ں تک کہ آپ نے ظہر کی نماز عصر کے وقت پر پڑھائی (یعنی عصر کا وقت قریب آگیا تھا)۔
أبي حذيفة ← يَحْيَى بْنُ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ قَعَاصٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَّاطُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1433
