مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ · حديث 1345
1345 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ دُومَةٍ وَكَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ فَقَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ أَلَا أَكْتُبُكَ؟» قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ فَجَعَلَ يُمْلِي وَيُمْلِي قَالَ: وَنَظَرْتُ فَإِذَا اسْمُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَعَرَفْتُ أَنَّهُمَا لَا يُكْتُبَانِ إِلَّا فِي خَيْرٍ، قَالَ لِي: " يَا ابْنَ حَوَالَةَ: أَلَا أَكْتُبُكَ؟ " قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا نَشَأَتْ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي؟» قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ثُمَّ [ص:578] قَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا نَشَأَتْ أُخْرَى الَّتِي قَبْلَهَا كَنَفْحَةِ أَرْنَبٍ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ؟» قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ قَالَ: وَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فَقَالَ: هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ فَأَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ وَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هَذَا» فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ
حضرت عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ ایک سایہ دار درخت کے نیچے تشریف فرما تھے ' ایک کاتب آپ کیطرف سے لکھ رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا ؛ اے ابن حوالہ ! کیامیں تیرے لیے لکھ دوں؟ میں نے عرض کی: مجھے پتا نہیں ہے کہ میرے لیے اللہ اور اس کے رسول نے کیااختیارکیا ! پس آپ دوبارہ لکھوانے لگے ' وہ کتاب لکھنے لگا ' میں نے دیکھا کہ اس میں حضرات ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کانام لکھا ہوا تھا ' سو میں نے پہچان لیا کہ ان دونوں کے لیے بھلائی ہی لکھی ہوگی ' مجھے آپ نے فرمایا : اے ابن حوالہ !میں تیرے لیے لکھ دوں ؟میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیوں نہیں ! پھرفرمایا:اے ابن حوالہ !تیر ی کیا حالت ہو گی جب فتنے پیدا ہو ں گے' ان فتنوں میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے اور کھڑاہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اورچلنے والا دوڑ نے والے سے بہتر ہو گا ۔ میں نے عرض کی: میرے لیے اللہ اور اس کے رسول نےکیا اختیار کیا ہے ؟ پھر فرمایا :اے ابن حوالہ !تیری کیا حالت ہو گی جب دوسرا فتنہ ہو گا جواس سے پہلے ہو گا ' ایسے ہو گا جیسے کہ خرگوش کی پھونک ہوتی ہے گویا کہ گائے کے سینگ ہیں ! میں نے عرض کی میرے لیے اللہ اور اس نے رسول نے کیا اختیار کیاہے؟ کہتے ہیں کہ ایک آدمی ادھر سے گزرا ' اس نے اپنے آپ کو چادر سے ڈھانپا ہوا تھا ' فرمایا: یہ اور اس کے ساتھی اس دن حق پر ہوں گے ' سو میں اس کے پاس آیا ' اس کو میں نے کندھوں سے پکڑا ' میں نے اس کا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کیا' میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! یہ ؟ آپ نے فرمایا : یہ ہی ہے ' تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ الأَزْدِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، كِلَاهُمَا، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1345
