مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ كُرْزُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْخُزَاعِيُّ · حديث 1386
1386 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُدَّةٍ أَوْ مُنْتَهًى يَنْتَهِي إِلَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا إِلَّا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ» قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: «ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَمُ» فَقَالَ الرَّجُلُ: كَلَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَالَ: «بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ تَعُودُونَ أَسَاوِدَ صُبًّا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»
حضرت کرز بن علقمہ الخزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کی :یا رسول اللہ ! کیا اسلام کی مدت یا انتہا ء ہے جس پر اس کی انتہاء ہو گی؟آپ نے فرمایا :ہاں !اللہ کی قسم ! عرب و عجم میں سے کوئی گھر ایسا نہیں ہو گا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرلے گا تو اس گھر میں اسلام داخل کرے گا۔عرض کی :پھر کیا ہو گا؟فرمایا:پھر فتنے ہو ں گے ،گویا کہ وہ اندھیرے ہیں ۔اس آدمی نے عرض کی :اگر ا للہ نے چاہا تو ایسا ہر گذ نہیں ہو گا۔آپ نے فرمایا :کیوں نہیں (ایسا ہوگا)،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! تم رات کے وقت کالے سانپوں کی طرح ہو جاؤ گے ،حالت یہ ہو گی کہ تم میں سےایک دوسرے کی گردن مار رہا ہو گا۔
رَجُلٌ: ← كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1386
