مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1750
1750 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي مُلْكِ آلِ الزُّبَيْرِ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا، هَلْ لَهَا نَفَقَةٌ؟ فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، لَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقُلْتُ [ص:215]: إِنَّهُ لَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةً، قَالَ: «صَدَقَ» ثُمَّ قَالَ: «اعْتَدِّي فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ يَأْتُونَهَا وَلَكِنِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، وَعَسَى أَنْ تُلْقِينَ عَنْكِ ثِيَابَكِ أَوْ بَعْضَ ثِيَابِكِ» قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي أَبُو الْجَهْمِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَهُوَ رَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَى النِّسَاءِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ» قَالَتْ: ثُمَّ خَطَبَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهُ، فَبَارَكَ اللَّهُ لِي فِي أُسَامَةَ
حضرت ابو بکر بن ابی الجہم فرماتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، آل زبیر کے دور حکومت میں ،ہم نے ان سے طلاق ثلاثہ والی عورت کے متعلق پوچھا کہ کیا اس کے لیے نفقہ ہے ؟ ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں، مجھے سکنیٰ ( گھر ) و نفقہ ( خرچ) نہیں دیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے اپ سے اس بات کا ذکر کیا ، میں نے عرض کی : میرے لے اس نے گھر و خرچہ نہیں رکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اس نے سچ کہا، پھر آپ نے فرمایا : تو ام شریک کے گھر عدت گزار پھر فرمایا: مہاجرین اس کے پاس آتے ہیں تو عدت ابن ام مکتوم کے گھر گزار ، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے ، ہو سکتا ہے کہ تیرا کپڑا اتر جائے یا تیرا بعض کپڑا اتر جائے ۔ آپ فرماتی ہیں پس میں نے ایسے ہی کیا تو جب میری عدت گزر گئی تو مجھے ابوجہم نے نکاح کا پیغام بھیجا، یہ قریش کے ایک آدمی تھے اور معاویہ بن سفیان نے بھی ۔ پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رہا ابوجہم تو وہ عورتوں پر بڑا سخت ہے ، اور رہ گیا معاویہ تو وہ مال دار نہیں ہے ۔ آپ فرماتی ہیں : پھر مجھے حضرت اسامہ بن زید نے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے ان سے شادی کر لی ، سو اللہ تعالیٰ نے اسامہ کے ساتھ نکاح میں مجھے برکت دی ۔
دَخَلْتُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1750
