مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو الْخَصِيبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ · حديث 2062
2062 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَصِيبِ، يَقُولُ: كُنْتُ قَاعِدًا، فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ فَقَامَ لَهُ [ص:456] رَجُلٌ مِنْ مَقْعَدِهِ، فَأَبَى ابْنُ عُمَرَ يَقْعُدَ فِيهِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ: مَا عَلَيْكَ أَنْ تَقْعُدَ؟ مَا عَلَيْكَ أَنْ تَقْعُدَ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا كُنْتُ لِأَقْعُدَ فِي مَجْلِسِكَ وَلَا مَجْلِسِ غَيْرِكَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَأَرَادَ أَنْ يَقْعُدَ فِيهِ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ»
حضرت عطاء، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئی ۔ اس نے عرض کی کہ شوہر کا اس کی عورت پر کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا : اس کو اپنی ذات سے نہ منع کرے ( وطی کے لیے ) اگر چہ وہ تنور پر ہی کیوں نہ ہو۔ (2) اور شوہر کے گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر نہ دے، اگر اس نے ایسا کیا تو اسے ( یعنی اس خاوند ) ثواب ملے گا اور اسے ( یعنی عورت کو ) گناہ ہو گا۔(3) اور نفلی روزہ شوہر کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔اگر وہ رکھے گی تو اسے گناہ ہو گا اور اسے کوئی اجر نہیں ملے گا اور یہ کہ شوہر کی اجازت کے علاوہ گھر سے نہ نکلے اگربغیر اجازت نکلی تو اس پر فرشتوں کی لعنت ، غضب والے فرشتوں کی بھی اور رحمت والے فرشتوں کی بھی۔ یہاں تک کہ وہ توبہ کرے یا واپس آجائے ۔ عرض کی گئی : اگرچہ شوہر ظالم ہی کیوں نہ ہو؟ فرمایا : اگر چہ وہ ظالم ہی ہو۔
أَبَا الْخَصِيبِ، ← عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2062
