مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعُمَرُ بْنُ حَرْمَلَةَ · حديث 2846
2846 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ [ص:443]، وَغَيْرُهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: ابْنُ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَضُبًّا وَلَبَنًا، وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ يَسَارِهِ، وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ، فَتَفَلَ عَلَيْهِ، يَعْنِي عَلَى الْأَضُبِّ، أَوْ كَلِمَةً شَبِيهَهَا، فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: كَأَنَّكَ قَذِرْتَهُ قَالَ: «أَجَلْ» أَوْ قَالَ: «نَعَمْ» فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّبَنِ وَقَالَ: «إِنَّ الشَّرْبَةَ لَكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَهَا خَالِدًا» أَوْ قَالَ: «عَمَّكَ» أَوِ: «ابْنَ عَمِّكَ» يَعْنِي خَالِدًا، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ مُؤْثِرًا بِسُؤْرِكَ أَحَدًا، قَالَ: فَنَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ، ثُمَّ سَقَيْتُ خَالِدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَعْلَمُ شَرَابًا يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ إِلَّا اللَّبَنَ، فَإِذَا شَرِبَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْكُمْ طَعَامًا، يَعْنِي مِنْ ذَاكَ الضَّبِّ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ "
حضرت عمر بن حرملہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میری خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھنی ہوئی گوہ بطور ہدیہ بھیجی اور دودھ ، آپ کے پاس بائیں طرف حضرت خالد بن ولید تھے، اور میں آپ کی دائیں جانب تھا، تو آپ نے گوہ کو پھینک دیا ، یا اس طرح کا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا، حضرت خالد نے ان کو بتایا کہ گویا کہ آپ نے اسے ناپسند کیا، آپ نے فرمایا: بالکل ! یا فرمایا : ہاں ! سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ نوش کیا، آپ نے فرمایا : یہ پینا تیرے لیے ہے ، اگر تو چاہے تو خالد کو دے دوں ، یا یہ فرمایا: تیرے چچا یا چچا زاد کو ، یعنی خالد کو دے دوں ۔ میں نے عرض کی: ( یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !) میں آپ کے تبرک پر کسی کو ترجیح نہ دوں گا، فرمایا کہ آپ نے مجھے پکڑا دیا تو میں نے پیا پھر میں نے خالد کو پلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نہیں جانتا ہوں کہ کوئی شربت کھانے کی کفایت کرے سوائے دودھ کے کہ یہ کھانے کے قائم مقام ہے، جب تم میں سے کوئی پئے تو یہ دعا کرے: اے اللہ ! ہمارے لیے اس میں برکت دے ! اس میں اضافہ فرما! اور جو تم میں سے کوئی کھانا کھائے یعنی گوہ وغیرہ ، تو یہ دعا کرے : اے اللہ ! اس میں ہمارے لیے برکت دے۔ اور اس سے بہتر عطا فرما!
فَنَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ، ثُمَّ سَقَيْتُ خَالِدًا، ← «عَمَّكَ» أَوِ: «ابْنَ عَمِّكَ» يَعْنِي خَالِدًا، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ مُؤْثِرًا بِسُؤْرِكَ أَحَدًا، ← «إِنَّ الشَّرْبَةَ لَكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَهَا خَالِدًا» أَوْ ← «نَعَمْ» فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ مِنَ اللَّبَنِ ← «أَجَلْ» أَوْ ← لَهُ خَالِدٌ: كَأَنَّكَ قَذِرْتَهُ ← يَمِينِهِ، فَتَفَلَ عَلَيْهِ، يَعْنِي عَلَى الْأَضُبِّ، أَوْ كَلِمَةً شَبِيهَهَا، ← يَسَارِهِ. ← أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ سَمْنًا وَأَضُبًّا وَلَبَنًا، وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← غَيْرُهُ: ابْنُ حَرْمَلَةَ، ← عَمْر بن حرملة، ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ [ص:443]، وَغَيْرُهُ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Hadith 2846
