مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ · حديث 1423
1423 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ قَيْسٍ أَوْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ قَاضِي الْمِصْرَيْنِ شُرَيْحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَدْعُو صَاحِبَ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: «يَا ابْنَ آدَمَ فِيمَ أَضَعْتَ حُقُوقَ النَّاسِ؟ فِيمَ أَذْهَبْتَ أَمْوَالَهُمْ؟» فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَمْ أُفْسِدْهُ وَلَكِنْ أُصِبْتُ إِمَّا غَرَقًا وَإِمَّا حَرَقًا فَيَقُولُ عَزَّ وَجَلَّ: «أَنَا أَحَقُّ مَنْ قَضَى عَنْكَ الْيَوْمَ» فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ عَلَى سَيِّئَاتِهِ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ
حضرت عبدالرحمن ٰ بن ابن ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :بے شک اللہ تعالیٰ قیامت والے دن قرض والے کو بلائے گا ،فرمائے گا،اے ابن آدم ! تو نے لوگوں کے حقوق کیوں ضائع کیئے ؟تو ان کے اموال کو کیوں لیتا رہا ؟وہ بندہ عرض کرے گا اے میرے رب میں نے اس کو برباد نہ کیا لیکن میں نے اس کو اس لیئے کیا کہ یہ برباد نہ ہو جائے یا جل نہ جائے ۔اللہ عزوجل فرمائے گا:میں آج تیری طرف سے قرض ادا کرنے کا زیادہ حق دار ہوں سو اس کی نیکیوں کو اس کی برائیوں پر زیادہ کردیا جائے گااور اس کو جنت میں جانے کا حکم دے دیا جائے گا۔
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← قاضي المصرين شريح، ← زيد بن قيس، أو قيس بن زيد، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← صدقة بن موسى ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1423
