مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ صَفْوَانُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2300
2300 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ، بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا»
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم قریش کے ایک گروہ میں لیلۃ القدر کا تذکرہ کر رہے تھے ، سو میں حضرت ابو سعید کے پاس آیا، یہ میرے دوست تھے ، انہوں نے فرمایا : کیا آپ ہمارے ساتھ کھجوروں کے باغ کی طرف نہیں جائیں گے ۔ پس ہم نکلے اور آپ پر حمیصہ تھی، میں نے ان سے عرض کی : مجھے لیلۃ القدر کے متعلق بتائیں ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟َ فرمایا: ہاں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپ نے بیس کی صبح کو ہمیں خطبہ دیا، فرمایا: میں نے لیلۃ القدر کو دیکھا اور مجھے وہ بھلا دی گئی ، یا میں بھول گیا، تم اسے آخری طاق راتوں میں تلاش کرو تو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساتھ اعتکاف کیا وہ لوٹ جائے اور میں نے دیکھا گویا میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ کہا کہ پھر ہم نکلے اور ہم نے آسمان میں رائی کے برابر بادل نہیں دیکھے اور بادل آئے ہم پر برسے ، یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہہ پڑی ، اس وقت مسجد کی چھت کھوری کی چھال کی تھی، نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو میں نے آپ کو دیکھا پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے ہوئے یہاں تک کہ میں نے مٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر دیکھی، یا یہ فرمایا : مٹی کے نشان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر دیکھے ۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← صَفْوَانُ؛ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2300
