Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو نَضْرَةَ · حديث 2833

2833 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْغَنَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ مِنْ أَرْبَعٍ، يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ»

حضرت ابو نضرہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے، آپ دعا کرتے : اعوذ باللہ من فتنۃ القبر ، ومن فتنۃ المحیا والممات، ومن فتنۃ الاعور الکذاب" میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں قبر کی آزمائش سے ، زندگی کے فتنہ سے اور موت کے فتنہ سے اور کانے جھوٹے کے فتنہ سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْغَنَوِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2833

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو نَضْرَةَ · حديث 2834

2834 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَهُ دَعْوَةٌ، كُلُّهُمْ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي ادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَلَا وَإِنِّي سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ تَحْتَهُ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ وَلَا فَخْرَ، وَيَشْتَدُّ كَرْبُ ذَلِكَ الْيَوْمِ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُونَ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ، فَلْيَشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ النَّبِيِّينَ فَيَأْتُونَ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي دَعَوْتُ دَعْوَةً أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ [ص:431] فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي " قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ مَا حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ؛ قَوْلُهُ: {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: 89] ، وَقَوْلُهُ: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: 63] ، وَقَوْلُهُ لِسَارَّةَ: قُولِي: إِنَّهُ أَخِي وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي اتُّخِذْتُ وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَلَكِنْ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ مَتَاعًا فِي وِعَاءٍ قَدْ خُتِمَ عَلَيْهِ، أَكَانَ يُوصَلُ إِلَى مَا فِي الْوِعَاءِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ؟، فَيَقُولُونَ: لَا فَيَقُولُ: فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَيَأْتِينِي النَّاسُ فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يَقْضِيَ بَيْنَنَا فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، أَنَا لَهَا، حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ [ص:432] يَشَاءُ وَيَرْضَى، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ: أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ؟ فَأَقُومُ وَيَتْبَعُنِي أُمَّتِي، غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ، أَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، وَتُفْرِجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا، وَتَقُولُ الْأُمَمُ: كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلَّهَا " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَنْتَهِي إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَأَسْتَفْتِحُ فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَأَقُولُ: أَحْمَدُ فَيُفْتَحُ لِي، فَأَنْتَهِي إِلَى رَبِّي، وَهُوَ عَلَى كُرْسِيِّهِ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ بِهَا قَبْلِي، وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي فَيُقَالُ لِيَ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَشْفَعُ فَيُقَالُ: فَاذْهَبْ فَأَخْرِجْ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِنَ الْخَيْرِ كَذَا وَكَذَا فَأَنْطَلِقُ فَأُخْرِجُهُمْ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي، فَأَخِرُّ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِيَ: ارْفَعْ [ص:433] رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ قَالَ: فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ "

حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ ہم کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا ، بصرہ کے مبر پر پس آپ نے اللہ عزوجل کی حمد کی اور اس کی تعریف کی، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی نبی ایسانہیں مگر یہ کہ اس کی ایک دعا ہے، سب اپنی دعائیں دنیا میں کر لیں اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لیے قیامت کے دن سفارش کے لیے رکھ لی ہے ، سنو! قیامت کے دن اولاد آدمی کا سردار ہوں گا اور کوئی فخر نہیں ، اور سب سے پہلے میری قبر کھلے گی قیامت کے دن اور کوئی فخر نہیں، اور حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا، سب آدم کی اولاد میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور کوئی فخر نہیں ، اس دن لوگ سخت مصیبت میں ہوں گے وہ کہیں گے کہ چلو! حضرت آدم کے پاس جو انسانیت کے باپ ہیں، وہ ہمارے لیے رب سے شفاعت کردیں گے۔ پس حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے عرض کریں گے ۔آپ وہ ہیں جن کو اللہ عزوجل نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھہرایا، آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کروایا گیا، سو ہماری ہمارے رب کے ہاں سفارش کریں ، یہاتک کہ ہمارے درمیان فیصلہ کردیا جائے۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے : میں یہاں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا، میں جنت سے اپنی غلطی کی وجہ سے نکالا گیا ہوں ، مجھے آج اپنے متعلق ڈر ہے ، تم نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ وہ تمام انبیاء میں سے سب سے پہلے ہیں ۔ پس لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، وہ عرض کریں گے : ہمارے لیے ہمارے رب کے ہاں سفارش کریں یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دیا جائے ، تو وہ بھی فرمائیں گے: میں تمہاری یہاں شفات نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ میں نے ایک دعا کی تھی تو اہل زمین غرق ہوگئے تھے، مجھے آج اپنے متعلق ڈر ہے، تم ابراہیم خلیل اللہ کے پاس چلے جاؤ۔ پس لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، عرض کریں گے : ہماری ہمارے رب کے ہاں شفاعت کریں ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ ہو جائے۔آپ فرمائیں گے کہ یہاں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا ہوں ، میں نے اسلام میں تین جھوٹ بولے تھے اور مجھے آج کے دن اپنے متعلق ڈر ہے۔ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے حیلہ صرف اللہ کے دین کے لیے کیا تھا( جیسے اللہ کا ارشاد ہے کہ آپ نے فرمایا : ) میں بیمار ہوں " ( الصافات: 89 ) اور آپ کا یہ کہنا :" بلکہ اس بڑے بت نے کیا" (الانبیاء : 63 ) اور حضرت سارہ کے لیے آپ نے کہا : تو کہنا وہ میرا بھائی ہے، لیکن تم موسیٰ کے پاس چلے جاؤ وہ ایسے بندے ہیں جن کو اللہ نے اپنی رسالت کے لیے چن لیا تھا۔ پس لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، عرض کریں گے: ہمارے لیے شفاعت کریں ، ہمارے رب کے ہاں یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ ہو جائے، آپ فرمائیں گے : میں یہاں تمہاری شفاعت نہیں کروں گا کیونکہ میں نے ایک انسان کو قتل کیا تھا بغیر کسی وجہ کے اور آج کے دن مجھے ڈر ہے ۔ لیکن تم عیسیٰ کے پاس جاؤ ، وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ۔ پس لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔عرض کریں گے ہمارے رب کے ہاں شفاعت کریں یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ ہو جائے، آپ فرمائیں گے : میں یہاں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا ہوں ، میری والدہ کو اور مجھے لوگو ں ،نے دو خدا بنا لیا تھا اللہ کو چھوڑ کر لیکن تم بتاؤ کہ اگر برتن میں سامان ہو اور اس کو بند کر دیا جائے، کیا وہ دوسرے برتن میں ڈالا جائے گا بغیر اس کا ڈھکن کھولے ، وہ عرض کریں گے : نہیں ! تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے : بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج کے دن موجود ہیں ، ان کے وسلیہ سے اللہ نے ان کی امت کے پہلے اور اگلے گناہ معاف کردئیے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس لوگ میرے پاس آئیں گے ، عرض کریں گے ۔ہماری ہمارے رب کے ہاںشفاعت کریں یہاں تک کہ ہمارے درمیان فیصلہ ہو جائے، تو میں کہوں گا : میں ہی ہوں اس کے لیے ، میں ہی ہون اس کےلیے ، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اجازت دے گا جس کو چاہے گا اور راضی ہوگا ، پس جب اللہ عزوجل ارادہ فرمائے گا اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا: کہاں ہیں احمد اور ان کی امت ! تو میں کھڑا ہوں گا اور اپنی امت کو تلاش کروں گا، میری امت کے وضو والے اعضا ء چمک رہے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے : ہم آخری والے پہلے ہیں جن کا حساب کیا جائے گا، امتیں ہمارے لیے راستہ کھول دیں گی، قریب ہے کہ یہ امت انبیاء ہوں سارے کے سارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے دروازے کے پاس پہنچوں گا، پس میں دروازہ کھٹکھاؤں گا ، کہا جائے گا: یہ کون ہے؟ میں کہوں گا : احمد ! تو میرے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا، سو میں اپنے رب کے پاس پہنچوں گا، اللہ عزوجل اپنی کرسی پر ہوگا ( جیسے اس کی شان کے لائق ہے) سو میں اپنے رب کے لیے سجدہ میں گروں گا اور ایسی حمد کروں گا کہ میرے بعد کوئی نہیں کرے گا۔ مجھے کہا جائے گا : اپنا سر اٹھاؤں ! عرض کر وہ سنی جائے گی اور مانگیے کہ آپ کو دیا جائے ، شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ کہا جائے گا : جاؤ !پس میں جہنم سے جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہے اس کو نکالوں گا، سو میں جاؤں گا اور ان کو نکال لاؤں گا۔ میں پھر اپنے رب کے پاس جاؤں گا پس سجدہ میں گر جاؤں گا، مجھے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ! عرض کرو سنی جائے گی ، آپ شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، آپ مانگیے آپ ک ودیا جائے گا۔ سو میرے لیے حد لگائی جائے گی تو میں ان کو نکال لاؤں گا۔

أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2834

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو الْجَوْزَاءِ · حديث 2835

2835 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَجْمَلُ النَّاسِ، قَالَ: فَكَانَ نَاسٌ يُصَلُّونَ فِي آخِرِ صُفُوفِ الرِّجَالِ لِيَنْظُرُوا إِلَيْهَا، قَالَ [ص:434]: وَكَانَ أَحَدُهُمْ يَنْظُرُ إِلَيْهَا مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، وَكَانَ أَحَدُهُمْ يَتَقَدَّمُ إِلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ حَتَّى لَا يَرَوْنَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ} [الحجر: 24] "

حضرت ابو الجوزاء ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز اداکرتی تھی، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، لوگ مردوں کی آخری صف میں نماز پڑھتے اس کو دیکھنے کے لیے ان میں سے ایک اپنی بغل کے نیچے سے دیکھتا ، اور ان میں سے ایک پہلی صف میں ہوتا، یہاں تک کہ وہ نہ دیکھ سکتا تھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری "﴿وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ٢٤﴾ [الحجر: 24]"ہم جانتے ہیں جو تم میں سے آگے ہوتے ہیں اور جو پیچھے ہوتے ہیں" َ

فَكَانَ نَاسٌ يُصَلُّونَ فِي آخِرِ صُفُوفِ الرِّجَالِ لِيَنْظُرُوا إِلَيْهَا، ← كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ أَجْمَلُ النَّاسِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عمرو بن مالك النكري، ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2835

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ · حديث 2836

2836 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ [ص:435]، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ»

حضرت یحییٰ بن عبید البہر انی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنتم و دباء ، نقیر ، مزفت سے منع فرمایا:۔

الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَحْيَی بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ ← شُعْبَةُ، [ص:21] ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2836

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ · حديث 2837

2837 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ فَيَشْرَبُ مِنْهُ يَوْمَهُ، وَيَوْمَ الثَّانِي إِلَى يَوْمِ الثَّالِثِ، فَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ أَهْرَاقَهُ»

حضرت یحییٰ بن عبید البہر انی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، آپ اس سے ایک دن اور دوسرے دن ، تیسرے دن پیتے تھے، اگر اس سے کوئی باقی بچ جاتی تو اس کو بہا دیتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَحْيَی بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ ← الْحَجَّاجِ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2837

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيُّ · حديث 2838

2838 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ [ص:436] يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يُنْبَذُ لَهُ النَّبِيذُ فِي السِّقَاءِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ، وَيَوْمَ الثَّانِي» قَالَ شُعْبَةُ: «إِلَى الْعَصْرِ» وَقَالَ أَبُو إِسْرَائِيلَ: «إِلَى يَوْمِ الثَّالِثِ، فَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ أَهْرَاقَهُ»

حضرت یحییٰ بن عبید البہر انی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، آپ اس سے ایک دن اور دوسرے دن ، شعبہ نے کہا عصر تک ، اور ابو اسرائیل نے کہا : تیسرے دن تک پیتے تھے، اگر اس سے کوئی باقی بچ جاتی تو اس کو بہا دیتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← [ص:436] يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ، ← شُعْبَةُ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2838

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 2839

2839 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ، فِي سَمْنٍ جَامِدٍ لِآلِ مَيْمُونَةَ، «فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُؤْخَذَ الْفَأَرَةُ وَمَا حَوْلَهَا»

حضرت عبیداللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آل میمونہ کے جمے ہوئے گھی میں چوہا گر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ چوہے اور اس کے اردگرد کو نکال دو۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2839

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 2840

2840 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى [ص:438] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَمَاتَتْ فَلَمْ تَقْضِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْضِهِ عَنْهَا»

حضرت عبیداللہ بن عبداللہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتویٰ پوچھا اس نذر کے متعلق جو ان کی ماں نے مانی تھی اور وہ فوت ہوگئی تھی اور اس نے اس کو پورا نہیں کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی طرف سے پورا کرو۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2840

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 2841

2841 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَرَجَ فِي رَمَضَانَ فَلَمَّا بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ» وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبید اللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں نکلے جب مقام کدیا کے پا پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا، اور اس کی قضا ء دوسرے دنوں میں کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری فعل ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2841

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 2842

2842 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ «تَمَتَّعَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْعَةَ الْحَجِّ»

حضرت عبید اللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ «تَمَتَّعَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مُتْعَةَ الْحَجِّ» ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2842

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ · حديث 2843

2843 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ، فَلَمْ يَزَلْ يَخْطُبُ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتِ النُّجُومُ فَعَلِقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يَقُولُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُمَّ لَكَ، أَنْتَ تُعَلِّمُنِي السُّنَّةَ؟ فَقَدْ «جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ» يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، قَالَ ابْنُ شَقِيقٍ: فَلَمْ يَزَلْ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ، فَصَدَّقَهُ

حضرت عبداللہ بن شقیق العقیلی بیان کرتے ہیں کہ ہم کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بصرہ میں خطبہ دیا، آپ مسلسل خطبہ دیتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، اور ستارے ظاہر ہوگئے ، سو بنی تمیم میں سے ایک آدمی کہنے لگا: نماز نماز۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تیری ماں نہ رہے! تو سنت کو جانتا نہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونمازوں کو جمع کیا ہے یعنی مغرب و عشاء کو ۔ حضرت ابن شقیق فرماتے ہیں کہ یہ بات مسلسل میرے دل میں رہی یہاں تک کہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا سو میں نے آپ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے ان ( یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) کو سچ کہاَ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ الْأَزْدِيُّ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2843

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ · حديث 2844

2844 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ مَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ»

حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا اور ہم ذات عرق میں تھے ، ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا کہ وہ اس کے متعلق آپ سے پوچھ کر آئے ، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے چاند کو دیکھنے کے لیے لمبا کیاہے، سو اگر تم پر غبار چھا جائے تو تم گنتی مکمل کر لو ( شعبان کے تیس دن کی)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2844

chevron_left Previous
1…236237238…241
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter