مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2113
2113 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا قُلْتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا ابْتَدَرُوهَا حَتَّى رَفَعُوهَا، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي، إِلَّا أَنَّهُمْ سَأَلُوا رَبَّهُمْ: كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا؟ قَالَ: «اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي»
حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عرینہ قبیلہ کے لوگ مدینہ شریف آئے تو ان کو آپ و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ انٹوں کے پیشاب اور دودھ پئیں ۔ کہا کہ انہوں نے ایسے ہی کیا وہ ٹھیک اور موٹے تازے ہو گئے۔پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہنکا کر لے گئے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلوانے کے لیے بھیجا ۔ سو ان کو لایا گیا تو ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور انکو دھوپ میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2113
