مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2125
2125 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ إِنْسَانٍ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ، فَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: مَا أَنْفَقْتَ فَلَكَ، وَمَا أَمْسَكْتَ فَلَيْسَ لَكَ، فَذَلِكَ مَالَهُ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ، فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ وَرَجَعْتُ، فَذَاكَ أَهْلُهُ وَحَشَمُهُ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ وَحَيْثُ خَرَجْتَ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ، فَيَقُولُ: إِنْ كُنْتَ لَأَهْوَنَ الثَّلَاثَةِ عَلَيَّ " أَوْ قَالَ: «عَلَيْكَ»
حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے تین آدمی اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے کہ ان پر بارش آئی تو انہوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی تو ان پر ایک پتھر آ گرا ، تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: بے شک نشان مٹ گیا ، تم دیکھ رہے ہو کہ پتھر گیا ہے۔اللہ کے سوا اس جگہ تمہارے بارے میں کوئی نہیں جانتا ، اس جگہ سے اٹھا سکتا ہے صرف اللہ ، پس تم اللہ سے اپنے پختہ اعمال کے وسیلہ سے دعا کرو۔ ان میں سے ایک کہنے لگا : اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے ماں باپ تھے، میں ان دونوں کے لیے برتن میں دودھ دوھتا تھا ، ایک دن میں ان کے پاس آیا تو وہ سوئے ہوئے تھے ، میں دودھ لے کر کھڑا رہا یہاں تک کہ وہ تب جاگے جب انہیں جاگ آئی اور میں نے ان کو اٹھانا ناپسند کیا ، میں ان کے سرہانے کھڑا رہا ، جب وہ دونوں جاگے تو ان دونوں نے پیا ، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تیری رحمت کی امید اور تیرے عذاب سے ڈر کی وجہ سے کیا تھا تو اس کو کھول دے ۔ کہا کہ وہ پتھر ایک تہائی اپنی جگہ سے کھل گیا اور دوسرے نے کہا: اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ مجھے ایک عورت بڑی پسند تھی، وہ مجھے اپنے اوپر قدرت دینے سے منع کرتی تھی، ایک دفعہ میں نے اس کو پیسے دئیے ، اس نے مجھے اپنے اوپر قدرت دی تو میں نے اپنا آپ اس سے بچایا ، اے اللہ ! اگر میں نے تیرے خوف کے ڈر سے اور تیری رحمت کی امید کی وجہ سے کیا ہے تو ہم پر اسے کھول دے۔ تو وہ ایک تہائی اور پیچھے ہوا اور تیسرے نے کہا : اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میرا ایک مزدور تھا اس نے میرے ہاں ایک دن مزدوری کی ، جب رات ہوئی تو میں نے اس کو مزدوری دی تو وہ ناراض ہو کر چلا گیا ، اس نے اپنی مزدوری نہیں لی، میں نے وہ لے کر اس سے ( اونٹ ) خریدے یہاں تک کہ بہت زیادہ ہوگئے ، پھر وہ میرے پاس اپنی مزدوری لینے کے لیے آیا تو میں نے کہا : یہ سارے تیرے ہیں ، اگر میں چاہتا تو اس کو صرف مزدوری ہی دیتا ، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تیرے عذاب کے ڈر اور تیری رحمت کی امید کرتے ہوئے کیا تھا تو اس چٹان کو ہمارے لیے ہٹا دے تو وہ تیسری تہائی بھی ہٹ گئی۔اور وہ چلتے ہوئے نکل گئے۔
أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2125
