مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَوَى عَنْهُ أَبُو نَضْرَةَ · حديث 2269
2269 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ طَرِيفِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا عَلَى غَدِيرٍ فِيهِ جِيفَةٌ، فَتَوَضَّأَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضُ الْقَوْمِ حَتَّى [ص:614] يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَقَالَ: «تَوَضَّئُوا وَاشْرَبُوا، فَإِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ»
حضرت ابو نضرہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک خطبہ دیا، اس کو یاد کرلیا جس نے یاد کرنا تھا اور بھول گیا جس نے بھولنا تھا، آپ نے فرمایا: خبر دار !دنیا سر سبز اور میٹھی ہے ، اور بے شک اللہ عزوجل تم کو خلیفہ بنانے والا ہے اس میں وہ دیکھے گا تم کیا عمل کرتے ہو، خبر دار ! دنیاسے بچ کر رہو اور عورتوں سے بچو! خبردار بے شک بنی آدم کو مختلف گروہوں میں پیدا کیا گیا ہے، ان میں سے کچھ ایمان والے پیدا ہوئے ، اور حالت ایمان میں زندہ رہے اور کچھ کافر پیدا ہوئے ، کافر زندہ رہے اور کافر ہی مرے، ان میں کچھ کافر پیدا ہوئے ،کافر زندہ رہے اور مؤمن مرے ، اور ان میں سے کچھ ایمان والے پیدا ہوئے ، مؤمن زندہ رہے اور کافر مرے ، سن لو ! بہتر تجارت وہ ہے جو اچھی طرح قرض دے اور اچھی طرح مطالبہ کرے اور خبر دار ! براتاجر وہ ہے جو بری طرح قرض دے اور بری طرح طلب کرے ، پس جب اچھی طرح دینا ہو اور بری طرح طلب کرنا اور بری طرح ادا کرنا تو یہ ایک دوسرے کا بدلہ ہوگا۔ خبردار! اور برے مرد وہ ہیں جن کو جلدی غصہ آئے۔اور دیر سے جائے ، خبر دار ! اوربہترین لوگ وہ ہیں جن کو جلدی غصہ آئے اور جلدی جائے ، اگر جلدی غصہ آئے اور جلدی چلے جائے تو یہ اس کا بدلہ ہے اور جب دیر سے غصہ آئے اور دیر سے جائے تو یہ اس کا بدلہ ہے۔ خبر دار ! غصہ ایک چنگاری ہے جو انسان کے پیٹ میں جلتی ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس میں آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں ۔اور اس کی رگیں پھول جاتی ہیں ، سو جب معاملہ اس طرح کا ہو جائے تو زمین زمین پر ہو۔ خبر دار ! ہر دھوکے باز کا دھوکہ بازی کے مطابق ایک جھنڈا ہوگا ( جو قیامت کے دن اس کی سرین پر لگایا جائے گا) ۔ امام حسن فرماتے ہیں کہ اس کی سرین کے پاس لگایا جائے گا۔ پھر ابو سعید کی حدیث کی طرف لوٹتے ہیں کہ آپ نے پھر ارشاد فرمایا : خبر دار ! سب سےبڑا دھوکا اس آدمی کا ہوگا جو ملک کا حکمران ہوگا، خبردار! تم میں سے کسی کے رعب کی وجہ سے حق بات کہنے سے نہ ڈرے ، جب کہ اس کو معلوم ہو ۔خبر دار ! بے شک دنیا باقی نہیں رہے گی اس میں سے جو گزر چکی ہے، مگر جو تمہارے آج کے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت کی ہے۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← طَرِيفِ بْنِ سُفْيَانَ، ← قَيْسٍ ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2269
