Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2161

2161 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ أَنْجَشَةُ يَحْدُو بِالنِّسَاءِ، وَكَانَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ يَحْدُو بِالرِّجَالِ، وَكَانَ أَنْجَشَةُ حَسَنَ الصَّوْتِ، وَكَانَ إِذَا حَدَا أَعْنَقَتِ الْإِبِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس بیماری میں تشریف لائے جس میں آپ کا انتقال ہوا تھا۔ تو آپ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، وہ پاکدامن اوربرد بار یعنی صبر کرنے والے لوگ ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2161

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2162

2162 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَ: «أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سب سے پہلی چیز جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی وہ آگ ہے، تمہیں مشرق سے مغرب کی جانب اکٹھا کرے گی۔

«أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ» ← دَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى النَّبِيِّ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، ← أَنَسٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2162

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2163

2163 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ نَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ مچھلی کا جگر تلا ہوا ہوگا۔

«أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ نَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2163

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2164

2164 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ»

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہود کی عورت کو جب حیض آتا تو نہ اس کے ساتھ کھاتے اور نہ پیتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھا رہتے تھے۔ پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری : " آپ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں آپ فرمائیں وہ گندگی ہے" حتی یطھرن تک ۔ سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ کھائیں اور پئیں اور انہیں گھروں میں اکٹھا رکھیں اور وہ جو چاہیں کریں سوائے جماع کے ۔ یہودی کہنے لگے : اس آدمی نے اس سے کیا مراد لیا ہے کہ وہ ایسی چیز کو چھوڑ دے سوائے اس کے کہ وہ ہمارے معاملات کی مخالفت کرے۔ سو حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر آئے ۔ انہوں نے یہودیوں کی اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم ان سے جماع نہ کریں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا یہاں تک کہ ہم کو گمان ہوا کہ ہم دونوں کی بات پر غصہ کیا ہے پس وہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ تو پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ کا ہدیہ لے کر آئے ۔ تو آپ نے ان دونوں کے پیچھے انہیں بھیجا حتیٰ کہ ان دونوں نے دودھ پیا۔ تو ان کو یقین ہو گیا کہ ان پر غصہ نہیں کیا گیا۔

«أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2164

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2165

2165 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنَ الْيَهُودِ إِذَا حَاضَتْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُشَارِبُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى} [البقرة: 222] إِلَى قَوْلِهِ: {حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: 222] ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَأَنْ يُشَارِبُوهُنَّ وَأَنْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَيَفْعَلُوا مَا شَاءُوا إِلَّا الْجِمَاعَ " فَقَالَتِ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَذَكَرَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُجَامِعُهُنَّ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ، فَجَاءَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةُ لَبَنٍ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا حَتَّى سَقَاهُمَا مِنَ اللَّبَنِ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو دو ادمی اللہ کے لیے باہم محبت کرتے ہیں ان میں سے افضل وہ ہے جو اپنے صاحب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2165

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2166

2166 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَحَابَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ أَفْضَلَهُمَا أَشَدُّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ کو سات اروس کے بدلے میں خریدا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2166

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2167

2167 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ [ص:534]، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اشْتَرَى صَفِيَّةَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ»

امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ ہم سے ایک شخص نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت نضر بن انس سے سنا ، اس شخص نے ایک حدیث کو دوسری حدیث سے ملا دیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت مالک جو حضرت انس کے والد ہیں ، انہوں نے اپنی بیوی حضرت ام سلیم سے کہا، یہ حضرت انس کی والد ہ ہیں کہ اس آدمی نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کو حرام قرار دیا ہے۔ سو وہ چلے یہاں تک کہ شام آئے ، وہ یہاں فوت ہوگئے ، پس حضرت ابو طلحہ آئے ، انہوں نے حضرت ام سلیم کو نکاح پیغام بھیجا۔ حضرت ام سلیم نے ان سے گفتگو کی انہوں نے کہا : اے ابو طلحہ ! تیرے جیسے آدمی کو واپس نہیں کرتی ہوں ، لیکن تو کافر مرد ہے اور میں مسلمان عورت ہوں ، میں تیرے ساتھ شادی کرنا مناسب نہیں سمجھتی ہوں۔ ابو طلحہ نے کہا : یہ تیری کیا عادت ہے ۔ ام سلیم نے کہا : میری کوئی عادت ہے؟ ابو طلحہ نے کہا : صفراء اور بیضا ( یعنی سونا یا چاندی) ۔ حضرت ام سلیم نے کہا : میں تیرا مسلمان ہونا چاہتی ہوں ۔ حضرت ابو طلحہ نے کہا : اس سے میرے لیے کیا ہوگا؟ حضرت ام سلیم نے کہا: میں اس کے بدلے تیری ہو جاؤں گی، جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ۔حضرت ابو طلحہ نبی اکرم کے پاس جانے کے لیے چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: تمہارے پاس ابو طلحہ آیا ہے، اسلا م اس کی آنکھوں کے درمیان چمک رہا ہے ۔ حضرت ابو طلحہ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی جو ام سلیم نے کہی تھی، آپ نے اس پر شادی کروادی۔ حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ ہم کو خبر پہنچی کہ ان کا مہر بہت بڑا تھا کہ وہ ان کے اسلام کو بطور مہر ان پر راضی ہوگئیں ۔ اس کے بعد شادی ہوئی اور ام سلیم بہت خوبصورت آنکھوں والی تھیں ، حضرت ابو طلحہ کے ساتھ رہیں یہاں تک کہ ان کےہاں بیٹا پیدا ہوا ، حضرت ابو طلحہ اس سے بہت پیار کرتے تھے ، وہ بچہ بیمار ہو گیا اور حضرت ابو طلحہ اس کی دوائی لینے کے لیے گئے ۔حضرت ابو طلحہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں چلے گئے اور بچہ فوت ہو گیا۔ حضرت ام سلیم نے کہا کہ ابو طلحہ کو کوئی نہ بتائے بیٹے کی موت کے متعلق یہاں تک کہ میں ان کوا س کی موت کے بارے میں بتاؤں گی، سو انہوں نے بچہ کے اوپر کپڑا وغیرہ رکھ دیا اور حضرت ابوطلحہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے آئے یہاں تک کہ وہ ام سلیم کے پاس آئے ، کہا : میرا بیٹا کیسا ہے ؟ ام سلیم نے کہا : ابو طلحہ ! جب آپ بیمار چھوڑ گئے ہیں اس سے اب بہت بہتر ہے ، انہوں نے کہا : شکر ہے اللہ کی ہی تمام تر تعریفیں ہیں ، سو وہ ان کے پاس رات کا کھانا لائیں تو انہوں نے کھانا کھایا ، پھر حضرت ام سلیم اٹھیں ، خوشبو لگائی ان کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا تو حضرت ابو طلحہ نے ان سے جماع کیا ، جب ام سلیم کو معلوم ہوا کہ انہوں نے کھانا کھالیا ہے اور جماع کر لیا ہے تو کہا: اے ابو طلحہ ! آپ بتائیں کہ اگر کوئی قوم کسی قوم کے پاس عاریتاً کوئی شئے رکھے ، پھر وہ ان سے مانگیں تو کیا وہ ان کو دینے سے منع کردیں گے؟ ابو طلحہ نے کہا : نہیں ! حضرت ام سلیم نے کہا : بے شک اللہ عزوجل نے آپ کو بیٹا عاریتاً دیا تھا پھر اس کو لے لیا ہے ، سو آپ اپنے بیٹے پر ثواب کی امید رکھیں اور صبر کریں ۔ تو حضرت ابو طلحہ کو غصہ آگیا ، پھر کہا: مجھے تو نے چھوڑے رکھا جب میں نے جماع کر لیا پھر مجھے میرے بیٹے کی وفات کا بتایا ہے ۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے صبح کو اور ساری خبر بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری رات میں برکت دے ! پھر ام سلیم حاملہ ہو گئیں اور حضرت ام سلیم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کرتی تھیں جب آپ نکلتے تھے ، حضرت ام سلیم بھی نکلتی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں داخل ہوتے آپ بھی داخل ہوتیں تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تیرے ہاں بچہ پیدا ہو تو اس کو میرے پاس لانا۔ فرماتی ہیں کہ میں ایک رات کو مدینہ کے قریب ہوئی تو مجھے درد شروع ہو گئی تو انہوں نے دعا کی : اے اللہ ! میں داخل ہوتی جب تیرا نبی داخل ہوتا تھا اور میں نکلتی تھی جب تیرا نبی نکلتا تھا۔ اور اب یہ معاملہ ہو گیا ہے ۔ سو انہوں نے بچہ جنا اور انہوں نے اپنے بیٹے سے انس کہا : اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤ۔ سو حضرت انس نے بچے کو اٹھا یا اور اس کو لے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گئے اور آپ اونٹوں یا بکریوں کو داغ رہے تھے، جب آپ نے دیکھا تو حضرت انس سے فرمایا: بنت ملحان نے بچہ جنا ہے ؟ حضرت انس نے عرض کی جی ہاں! آپ کے ہاتھ جو تھا اس کو پھینک دیا اور اس بچے کو پکڑا ، اس کے بعد فرمایا : عجوہ کھجوریں لاؤ! سو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کو پکڑا ، اس بچے کو تحنیک ( یعنی گھٹی ) دی اور بچہ ان کھجوروں کو چوسنے لگا، اس کے بعد فرمایا: انصار کی کھجور سے محبت دیکھو ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے گھٹی دی اور اس نام عبداللہ رکھا۔ حضرت ثابت نے فرمایا ان کو بہترین مسلمانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2167

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2168

2168 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ ثَابِتٍ. حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: عَنْ أَنَسٍ وَحَدَّثَنَاهُ شَيْخٌ، سَمِعَهُ مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَقَدْ دَخَلَ حَدِيثُ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ أَبُو أَنَسٍ لِامْرَأَتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّمُ الْخَمْرَ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الشَّامَ فَهَلَكَ هُنَاكَ، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ فَخَطَبَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَكَلَّمَهَا فِي ذَلِكَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، مَا مِثْلُكَ يُرَدُّ، وَلَكِنَّكَ امْرُؤٌ كَافِرٌ، وَأَنَا امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ، لَا يَصْلُحُ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ، فَقَالَ: مَا ذَاكَ دَهْرُكِ قَالَتْ: وَمَا دَهْرِي؟ قَالَ: الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَا أُرِيدُ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ، أُرِيدُ مِنْكَ الْإِسْلَامَ، قَالَ: فَمَنْ لِي بِذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَكَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:535]، وَرَسُولُ اللَّهِ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: «جَاءَكُمْ أَبُو طَلْحَةَ، غُرَّةُ الْإِسْلَامِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ» فَجَاءَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَتَزَوَّجَهَا عَلَى ذَلِكَ، قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا بَلَغَنَا أَنَّ مَهْرًا كَانَ أَعْظَمَ مِنْهُ، إِنَّهَا رَضِيَتِ الْإِسْلَامَ مَهْرًا فَتَزَوَّجَهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلِيحَةَ الْعَيْنَيْنِ، فِيهَا صِغَرٌ، فَكَانَتْ مَعَهُ حَتَّى وُلِدَ لَهُ بُنَيٌّ، وَكَانَ يُحِبُّهُ أَبُو طَلْحَةَ حُبًّا شَدِيدًا، وَمَرِضَ الصَّبِيُّ وَتَوَاضَعَ أَبُو طَلْحَةَ لِمَرَضِهِ أَوْ تَضَعْضَعَ لَهُ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَاتَ الصَّبِيُّ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: لَا يَنْعَيَنَّ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ أَحَدٌ ابْنَهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَنْعَاهُ لَهُ، فَهَيَّأَتِ الصَّبِيَّ وَوَضَعَتْهُ، وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: كَيْفَ ابْنِي؟ فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، مَا كَانَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ السَّاعَةَ، قَالَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ، فَأَتَتْهُ بِعَشَائِهِ، فَأَصَابَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَتْ فَتَطَيَّبَتْ وَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَأَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنَّهُ طَعِمَ وَأَصَابَ مِنْهَا، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، أَرَأَيْتَ لَوَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا قَوْمًا عَارِيَّةً لَهُمْ، فَسَأَلُوهُمْ إِيَّاهَا، أَكَانَ لَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ [ص:536] أَعَارَكَ ابْنَكَ عَارِيَّةً ثُمَّ قَبَضَهُ إِلَيْهِ، فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ وَاصْبِرْ، فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ: تَرَكْتِينِي حَتَّى إِذَا وَقَعْتُ بِمَا وَقَعْتُ بِهِ، نَعَيْتِ إِلَيَّ ابْنِي، ثُمَّ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا» فَتَلَقَّتْ مِنْ ذَلِكَ الْحَمْلَ، وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَخْرُجُ مَعَهُ إِذَا خَرَجَ، وَتَدْخُلُ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَلَدَتْ فَأْتُونِي بِالصَّبِيِّ» فَأَخَذَهَا الطَّلْقُ لَيْلَةَ قُرْبِهِمْ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ أَدْخُلُ إِذَا دَخَلَ نَبِيُّكَ، وَأَخْرُجُ إِذَا خَرَجَ نَبِيُّكَ، وَقَدْ حَضَرَ هَذَا الْأَمْرُ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، وَقَالَتْ لِابْنِهَا أَنَسٍ، انْطَلِقْ بِالصَّبِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ أَنَسٌ الصَّبِيَّ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَسِمُ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ لِأَنَسٍ: «أَوَلَدَتْ بِنْتُ مِلْحَانَ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَأَلْقَى مَا فِي يَدِهِ، فَتَنَاوَلَ الصَّبِيَّ، فَقَالَ: «ائْتُونِي بِتَمْرَاتٍ عَجْوَةٍ» فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرَ فَجَعَلَ يُحَنِّكُ الصَّبِيَّ، وَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ: «انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ» فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ ثَابِتٌ: وَكَانَ يُعَدُّ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ

حضرت علی بن زید بن جدعان ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ روم کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک ریشم کا جبہ بھیجا ۔ آپ نے اس کو پہنا گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپ کے سینے پر آگے پیچھے ہورہا ہے، سو صحابہ کرایم اس کو ہاتھ لگانے لگے اور کہنے لگے : ہمیشہ آپ پر اس قسم کا آسمان سے اترتا ہی رہے ۔ آپ نے فرمایا : تم اس پر تعجب کر رہے ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! معاذ کے لیے جنت میں اس سے بھی زیادہ نرم رومال ہے۔ پھر آپ نے اس جبہ کو حضرت جعفر کی طرف بھیجا ۔ تو انہوں نے اس کو پہن لیا۔ پھر وہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا تھا ۔ انہوں نے عرض کی : اس کے ساتھ میں کیا کروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔اس کو اپنے نجاشی بھائی کی طرف بھیج دے۔

مَالِكٌ أَبُو أَنَسٍ لِامْرَأَتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ: ← شَيْخٌ، سَمِعَهُ مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَقَدْ دَخَلَ حَدِيثُ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ ← أَنَسٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2168

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2169

2169 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتُقَةَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثَدْيَيْهِ يَتَذَبْذَبَانِ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَلْمِسُونَهَا وَيَقُولُونَ: لَأُنْزِلَ [ص:538] عَلَيْكَ هَذَا مِنَ السَّمَاءِ، فَقَالَ: «مَا تَعْجَبُونَ مِنْهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمِنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَلْيَنُ مِنْ هَذَا» ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ، فَلَبِسَهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا» قَالَ: مَا أَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: «أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ»

حضرت علی بن زید ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی بھی موت کی تمنا نہ کرے ۔ سو اگر کوئی ضرور ہی یہ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ یہ کہے : اے اللہ ! جب تک میری زندگی میرے لیے بہتر ہے تو مجھے زندگی دے ، اور جب میرے لیے میری وفات بہتر ہے تو مجھے وفات دے دے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2169

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2170

2170 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، فَإِنْ كَانَ لَابُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي "

حضرت علی بن زید ،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ماہ صبح کی نماز سے قبل (پہلے ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرے ۔ آپ فرماتے : نماز ! اے اہل بیت! " انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیرا"۔

النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2170

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2171

2171 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَمُرُّ عَلَى بَابِ فَاطِمَةَ شَهْرًا قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَيَقُولُ: " الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ، {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ} [الأحزاب: 33] "

حضرت علی بن زید سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب معراج کی رات مجھے سیر کرائی گئی تو میرا گزر ایسی قوم کے پاس سے ہوا کہ ان کے ہونٹ آگ سے کاٹے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا : اے جبریل ! یہ کو ن لوگ ہیں ۔ تو انہوں نے بتایا : یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے خطیب حضرات ہیں ۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَمُرُّ عَلَى بَابِ فَاطِمَةَ شَهْرًا قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ← أَنَسٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2171

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2172

2172 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا أُسْرِيَ بِي أَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ تُقْطَعُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنَ نَارٍ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْخُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ "

حضرت عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے ریشم دنیا میں پہنچا اس کو آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔

أَنَسٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← ابْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2172

chevron_left Previous
1…180181182…241
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter