مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا رَوَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1693
1693 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَرَوْنَ الرُّؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُصُّونَهَا عَلَيْهِ، فَيَقُولُ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، فَقُلْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِنَفْسِي: لَوْ كَانَ فِيكِ خَيْرٌ لَرَأَيْتِ رُؤْيَا كَمَا يَرَى النَّاسُ، ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ فِيَّ خَيْرًا فَأَرِنِي، فَلَمَّا نِمْتُ رَأَيْتُ فِيَ مَنَامِي كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِقْمَعَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَانْطَلَقَا بِي حَتَّى وَقَفَا بِي عَلَى جَهَنَّمَ وَهُمَا يَعْتِلَانِي، فَإِذَا جَهَنَّمُ مَطْوِيَّةٌ، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ جَهَنَّمَ حَتَّى جَاءَ مَلَكٌ، فَقَالَ: لَمْ تُرَعْ، نِعْمَ الْمَرْءُ أَنْتَ لَوْ كُنْتَ تُكْثِرُ الصَّلَاةَ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهَا فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ» قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِكَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ پاک میں خواب دیکھتے ، تو اس کو حضور کی بارگاہ میں بیان کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی تعبیر فرماتے جو اللہ چاہتا، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر تجھ میں بھلائی ہے تو میں ضرور خواب دیکھوں گا جس طرح لوگ دیکھتے ہیں ، پھر میں نے دعا کی : اے اللہ ! اگر تو مجھ میں بہتری دیکھتا ہے تو مجھے خواب دکھا۔ پس جب میں سویا تو میں نے خواب دیکھا اپنی نیند میں کہ دو فرشتے ہیں ، ان کے ہاتھوں میں لوہے کے ہتھوڑے ہیں ، وہ دونوں مجھے لے کر چلے یہاں تک کہ مجھے جہنم کے پاس لے آئے اور وہ دونوں مجھے قتل کرتے ہیں ، تو دیکھا کہ جہنم بھری ہوئی ہے ، میں نے کہا: میں پناہ مانگتا ہوں ، اللہ جہنم سے یہاں تک کہ ایک فرشتہ آیا اس نے کہا: تم نہیں دیکھتے ، تو اچھا آدمی ہے ، اگر تو کثرت سے نماز پڑھے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صبح ہوئی تو میں حضرت حفصہ کے پاس آیا ، میں نے سارا خواب ان کے سامنے بیان کیا، تو حج حفصہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ نیک آدمی ہے ۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت عبداللہ کثرت سے نماز پڑھتے تھے ۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1693
