Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 517

517 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: «مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ كَمَثَلِ الْعَطَّارِ إِنْ لَمْ يُحِذْكَ مِنْ عِطْرِهِ أَصَابَكَ مِنْ رِيحِهِ وَمَثَلُ جَلِيسِ السُّوءِ كَصَاحِبِ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْ نَارِهِ أَصَابَكَ مِنْ دُخَانِهِ» لَمْ يَرْفَعْهُ أَبُو دَاوُدَ

حضرت انس ( بن مالک )رضی اللہ عنہ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نیک آدمی کے ساتھ اٹھنے والے کی مثال عطار کی سی ہے اس کی خوشبو تجھے پہنچ کر رہے گی اور برے آدمی کے پاس بیٹھنے والے کی مثال لو ہار کی سی ہے‘ اگر تجھ تک آگ نہ بھی پہنچے تو اس کا دھواں تجھ تک ضرور پہنچے گا۔ ابوداؤ د نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 517

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 518

518 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ [ص:416]، قَالَ: سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ لِي: «كَيْفَ أَهْلَلْتَ؟» قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ» ، فَفَعَلْتُ وَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتَ رَأْسِي فَجَعَلْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ فَقَالَ لِي رَجُلٌ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدًا بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ بَعْدَكَ قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَفْتَيْتُهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْهِ فَبِهِ فَائْتَمُّوا قَالَ: فَقَدِمَ فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ

حضرت طارق بن شہاب‘ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میں نبی اکر مﷺ کی بارگاہ میں آ یا ‘اس حال میں کہ آپ بطحاء کے مقام میں ٹھہرے ہوۓ تھے‘ آپ نے مجھے فر مایا تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟ کہا کہ میں نے عرض کی "لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‘‘ ا ٓپ ﷺ نے فرمایا :تو نے اچھا کیا ‘بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر و پھر احرام کھول دے‘ سو میں نے ایسے ہی کیا اور میں بنی قیس کی ایک عورت کے پاس آیا ‘اس نے میرے سر کی جو یں نکالیں اور میں لوگوں کو یہی فتوی ٰدیتا رہا۔ تو ایک آدی نے مجھے آ کر کہا :اے عبداللہ بن قیس! فتویٰ دینے میں جلدی سے مت کام لیجئے کیونکہ تیرے بعد امیر المومنین ( حضرت عمر فاروق رضي الله عنه )نے مناسک حج کے حوالے سے کچھ نئے احکامات جاری کیے ہیں۔ میں نے لوگوں کو کہا کہ جسے میں نے حج کے حوالے سے کوئی فتویٰ دیا ہو وہ رک جائے کیونکہ امیرالمؤمنین آنے والے ہیں ان کی اقتداء کرنا۔ کہا کہ آپ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) جب آۓ تو میں نے آپ سے اس حوالے سے گفتگو کی ( کہ کیا آپ نے حج کے نئے احکامات جاری کیے ہیں ) آپ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا: اگر ہم کتاب اللہ کو لیں تو بے شک کتاب اللہ ہمیں اسے مکمل کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم اللہ کے رسول ﷺ کی سنت کولیں تو بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے جانور کے اپنے مقام تک پہنچنے تک احرام نہیں کھولا تھا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 518

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 519

519 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ [ص:417] بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ، صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً فَلَمَّا جَلَسَ فِي صَلَاتِهِ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ خَلْفَهُ: أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا قَضَى الْأَشْعَرِيُّ صَلَاتَهُ قَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ: يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا قُلْتُ: مَا قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: أَمَا تَعْلَمُونَ مَا تَقُولُونَ فِي صَلَاتِكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ: وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ " قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ "، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الطَّيِّبَاتُ [ص:418] الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ "

حضرت حطان بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ( ابوموسٰی ) اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑ ھائی جب نماز میں بیٹھے تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے پیچھے سے کہا نماز کو نیکی اور زکو ٰۃسےقرار دیا گیا ہے ‘جب حضرت ابوموسٰی رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوۓ‘ فرمایا: تم میں سے کس نے اس طرح کہا؟ تو قوم خاموش ہوگئی‘ آ پ نے فرمایا: اے حطان! شاید تو نے یہ کلمات کہے ہوں ‘میں نے کہا: میں نے یہ کلمات نہیں کہے ‘اور بے شک میں بھی ڈر رہا تھا کہ آپ مجھے بیوقوف نہ کہیں ۔ حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ تم کو اپنی نماز میں کیا پڑھنا چاہیے؟ بے شک رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مرتبہ خطبہ دیا او رہم کو سنتیں سکھلا ئیں اور ہمیں نماز کا طریقہ بتلا یا‘ فرمایا: اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو پھر ایک جوتم میں سے قاری ہو ‘وہ تمہاری امامت کرائے اور جب وہ اللہ اکبر کے تو تم بھی اللہ اکبر کہواور جب وہ ولا لضالین کہے تو تم آمین کہو اللہ تمہاری پکا رقبول کرے گا اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور کیونکہ اما م تم سے پہلے اٹھے گا اور تم سے پہلے رکوع کرے گا ۔ اور اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا :یہ تو برابر برابر ہوگیا اور جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم کہو اللھم ربنا لک الحمد‘ اللہ تمہاری سنے گا اور بے شک اللہ عزوجل نے اپنے نبی کریم مﷺ کی زبان پر کہا ہے: سمع اللہ لمن حمدہ اور جب امام اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو ‘بےشک امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے اور تم سے پہلے اٹھتا ہے ۔ اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا : یہ برابر برابر ہو گیاپس جب اما م قعدہ میں بیٹھے تو تم سے ہر ایک سب سے پہلے یہ پڑ ھے التحيات’’ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ‘‘

حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 519

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 520

520 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ: مَا رَدَّكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ الْمُسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ» ، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي بِمَنْ يَعْلَمُ هَذَا أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ وَلَأَفْعَلَنَّ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: جَاءَنِي الْأَشْعَرِيُّ يُرْعَدُ قَدِ اصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَامَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا [ص:419] عَلِمَ مِنْ هَذَا عِلْمًا إِلَّا قَامَ بِهِ فَإِنِّي قَدْ خِفْتُ هَذَا الرَّجُلَ عَلَى نَفْسِي فَقُلْتُ: أَنَا مَعَكَ فَقَالَ آخَرُ: وَأَنَا مَعَكَ فَسُرِّيَ عَنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے که حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت مانگی ‘آپ کو اجازت نہیں ملی ‘تو آپ واپس آ گئے‘ آپ ( حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) نے ان کی طرف آ دمی بھیجا کہ وہ کیوں واپس لوٹ گئے ‘( حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: میں نے آپ سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن آپ نے مجھے اجازت نہیں دی اور میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب تم سے اجازت مانگنے والا تین مرتبہ اجازت مانگے اور اس کو اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جاۓ‘ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے )فرمایا: اس حد یث پرگواہ لاؤ جو اسے جانتا ہو ورنہ میں تمہارے ساتھ ایسا ایسا برتاؤ کروں گا۔ حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ حضرت ابوموسٰی اشعری میرے پاس آۓ اور ڈ ر ہے تھے اور ان کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا‘ آپ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام کے مجمعے میں کھڑے ہوۓ ‘کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘کیا کوئی آدمی ہے جو اس حدیث کے متعلق گواہی دے ‘بے شک میں خوف کرتا ہوں اس آ دمی سے اپنی جان پر ۔ ( حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ ) میں نے کہا: میں آپ کے ساتھ ہوں‘ تو ایک دوسرے آدمی نے کہا: میں بھی تمہارے ساتھ ہوں تو ان کی پریشانی دور ہوگئی ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 520

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 521

521 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ قَدِمَ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ حُدِّثَ بِأَحَادِيثَ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْهَا فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْأَشْعَرِيُّ: إِنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ زَمَانِكَ وَإِنِّي لَمْ أُحَدِّثْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يَبُولَ فَمَالَ إِلَى دَمْثِ حَائِطٍ فَبَالَ وَقَالَ [ص:420]: «إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضَهُ بِالْمَقْرَاضَيْنِ» ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ

حضرت ابوالتیاح فرماتے ہیں کہ میں نے ایک کالے آدمی سے سنا ‘وہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے ساتھ بصرہ میں آ یا‘ جب حضرت عبد اللہ بن عباس بصرہ میں آۓ تو انہوں نے حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیثیں بیان کیں جو نبی اکرم ﷺ کے حوا لے سے تھیں‘ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف اس کے متعلق پوچھنےکے لیے خط لکھا تو حضرت ابوموسٰی اشعری نے جوابا خط لکھا کہ آپ اپنے زمانے کے ایک معتبر آ دمی ہیں‘ اور میں رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے کوئی چیز بیان نہیں کرتا سواۓ اس کے کہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھا ‘آپ ﷺنے پیشاب کا ارادہ کیا تو آپ نے ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا: بے شک بنی اسرائیل میں سے جب کوئی پیشاب کرتا تو پیشاب ان میں سے کسی کے جسم پر لگ جاتا تو اس جگہ کو قینچیوں سے کاٹ دیا جا تا ۔ حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں: پس جب تم میں سے کوئی پیشاب کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ دوز مین نرم کر لیا کر ے ۔

إِلَيْهِ الْأَشْعَرِيُّ إِنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ زَمَانِكَ، وَإِنِّي لَمْ أُحَدِّثْ ← إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْهَا ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← لَمَّا قَدِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ حُدِّثَ بِأَحَادِيثَ ← رَجُلًا أَسْوَدَ كَانَ قَدِمَ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 521

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 522

522 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَتْ مَعَكَ أَسْهُمٌ فَخُذْ بِنُصُولِهَا أَنْ لَا تَجْرَحَ مُسْلِمًا أَوْ تَخْرِقَ ثَوْبَهُ» ، قَالَ الْأَشْعَرِيُّ [ص:421]: وَهَؤُلَاءِ يَأْمُرُونِي أَنْ أَسْتَقْبِلَ بِهَا حَدَقَ الْمُسْلِمِينَ

حضرت ابو برده بن ابوموسٰی اپنے والد سے اور وہ نبی اکرﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جب تیرے پاس تیر ہوتو ان کو اپنے ترکش میں ڈال لیا کر تا کہ تو کسی مسلمان کو زخمی نہ کرے اور نہ اس کے کپڑے کو پھاڑے۔ حضرت اشعری نے فرمایا :اور یہ ( امراء وقت) ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم اسے مسلمان پرچلائیں۔

أَبِيهِ ← أبي بردة بن أبي موسى ← أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 522

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 523

523 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ يُسْرِعُونَ بِهَا الْمَشْيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَكُنْ عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ»

حضرت ابو برده حضرت ابوموسٰی (اشعری )رضی اللہ عنہ سے روایت کر تے ہیں کہ نبی اکرﷺ کے پاس سے جنازہ گز را ‘اسے تیزی سے لے کر جا رہے تھے‘ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم پر سکون لازم ہے (یعنی جناز ہ آ رام سے لے کر چلو )۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← لَيْثٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 523

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 524

524 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ وَهِيَ يُسْرَعُ بِهَا وَهِيَ تَمَخَّضُ تَمَخُّضَ الزِّقِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ [ص:422] فِي الْمَشْيِ بِجَنَائِزِكُمْ»

حضرت ابو برده ‘حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکر ﷺ کے پاس سے جنازہ گز را‘ تو اسے تیزی سے لے کر جا یا جا رہا تھا اور وہ ہچکولے کھا رہا تھا‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم پر تمہارے جنازے اٹھا کر لے جانے میں میانہ روی لازم ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← لَيْثٌ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 524

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 525

525 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»

حضرت بو برده ‘حضرت ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: نکاح ولی کی اجازت کے بغیر نہیں ہوتا ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 525

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 526

526 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا عَلَى قَوْمٍ قَالَ: «اللَّهُمَّ [ص:424] إِنِّي أَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ»

حضرت ابو بر وہ ‘ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ جب کسی قوم کے لیے بد دعا کرتے تو آ پ یوں عرض کرتے ’’ اللَّهُمَّ إِنِّي أَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ “ اے اللہ! میں تجھے ان کے سامنے کرتا ہوں اور ان کے شر سے تیری پناہ میں آ تا ہوں ۔

«اللَّهُمَّ [ص:424] إِنِّي أَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ» ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا دَعَا عَلَى قَوْمٍ ← أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 526

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 527

527 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَوْ رَأَيْتَنَا مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ مَا شَبَّهْتَ رِيحَنَا إِلَّا بِرِيحِ الضَّأْنِ»

حضرت ابو بردہ ‘اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ کاش تو ہم کو ہمارے نبی ﷺکے ساتھ دیکھتا کہ جب ہمیں آ سمان سے بارش پہنچتی تو ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی بو آ رہی ہوتی ۔

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 527

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو مِجْلَزٍ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي مُوسَى · حديث 528

528 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: لَقِيَ عُمَرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ [ص:425] عُمَيْسٍ فَقَالَ: نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّا سَبَقْنَاكُمْ إِلَى الْهِجْرَةِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «بَلْ لَكُمُ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ هِجْرَةٌ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَهِجْرَةٌ إِلَى الْمَدِينَةِ»

حضرت ابو برده ‘حضرت ابوموسٰی ( اشعری) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی ‘تو انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: تم سب سے بہتر قوم ہو‘ اگر ہم تم سے مدینہ کی ہجرت میں سبقت نہ کرتے ‘سو میں نے نبی اکر مﷺ کی بارگاہ میں اس کا ذکر کیا‘ تو آپ نے فرمایا :تمہارے لیے دو ہجرتیں ہیں‘ ایک ہجرت حبشہ کی سرزمین کی طرف اور دوسری مد ینہ کی طرف ۔

سَبَقْنَاكُمْ إِلَى الْهِجْرَةِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا ← لَقِيَ عُمَرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ [ص:425] عُمَيْسٍ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 528

chevron_left Previous
1…434445…241
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter