Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 397

397 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ، عَنْ شَيْخٍ، لَنَا لَمْ أُدْرِكْهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ نُهِينَا عَنْ هَذَا، فَكُرِهَ لَنَا؟» قَالَ خَبَّابٌ: اشْتَدَّ الْبَلَاءُ فَقَالَتِ الْأَطِبَّاءُ: لَا دَوَاءَ لَكَ إِلَّا ذَلِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «مَا كُنْتُ أَخَافُكَ عَلَى هَذَا»

حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے شیخ نے اپنے شیخ سے حدیث بیان کی کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس آ یا ‘انہوں نے داغ لگایا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس سے منع کیا گیا ہے؟ اور ہمارے لیے اسے ناپسند کیا گیا ہے ۔ حضرت خباب نے کہا: سخت بیماری کی وجہ سے لگایا ہے ‘طبیب حضرات نے کہا تھا کہ اس کی دواصرف یہی ہے ۔ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے آپ پر اس کا خوف نہیں ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ: «مَا كُنْتُ أَخَافُكَ عَلَى هَذَا» ← الْأَطِبَّاءُ: لَا دَوَاءَ لَكَ إِلَّا ذَلِكَ، ← خَبَّابٌ: اشْتَدَّ الْبَلَاءُ ← هَذَا، فَكُرِهَ لَنَا؟» ← قَدْ نُهِينَا ← عَبْدُ اللَّهِ: «أَمَا عَلِمْتَ ← دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى، ← شَيْخٍ، لَنَا لَمْ أُدْرِكْهُ ← شَيْخٌ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 397

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 398

398 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَشَيْبَانُ، وَقَيْسٌ، كُلُّهُمْ عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ فَجَعَلَ يُعْطِي أَهْلَ الْبَيْتِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا، وَكَرِهَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس قیدی لاۓ گئے تو آپ نے سارے کے سارے اپنے اہل بیت کو دے دیئے ‘اس وجہ سے کہ آپ کوان کے درمیان جدائی نا پسندتھی ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← جَابِرٍ ← أبو عوانة وشيبان وقيس كلهم ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 398

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 399

399 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: بَايَعَ عَبْدُ اللَّهِ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ بِرَقِيقٍ مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ يَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: بِعْتَنِي بِعَشَرَةِ آلَافٍ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: اخْتَرْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا، فَقَالَ الْأَشْعَثُ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَخْتَارَنَّ، أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا وَاللَّهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بِقَضَاءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَهُوَ بِمَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَانِ» وَيَرْوِيهِ هُشَيْمٌ عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ الاشعث بن قیس نے حکومت کے غلام کے بدلے ایک غلام خریدا ‘سوانہوں نے کسی کوان کی طرف پسینے لینے کے لیے بھیجا تو حضرت اشعث نے کہا: میں نے آپ سے دس ہزار کے بد لے خرید لیے ‘حضرت عبداللہ نے کہا: میرے اور اپنے درمیان جس آدمی کو چاہیں اختیار کر یں‘ حضرت عبداللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہارے اور اپنے درمیان وہی فیصلہ کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے ‘آپ ﷺنے فرمایا: جب دو بیع کرنے والوں کے درمیان اختلاف ہو جاۓ اور ان دونوں کے درمیان گواہ بھی نہ ہوتو دہ وہی کچھ کرے جو سامان کا مالک کہتا ہے‘ یا دونوں چھوڑ دیں ۔ اور اسے ہشیم نے از حضرت قاسم از والد خود از حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ۔

الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 399

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 400

400 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:317] قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ إِنَّهُنَّ لَيَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ» ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُوَيدِ حَتَّى جَمَعُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا ثُمَّ أَجَّجُوا نَارًا فَأَنْضَجَتْ مَا قُذِفَ فِيهَا»

حضرت عبداللہ (بن مسعود )رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچو! یہ ادنیٰ گناہ جس میں جمع ہو جائیں اسے ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں ‘نبی اکرم ﷺنے ان کی مثال ایسی قوم سے دی ہے جو خشک زمین پر اُترے اور ان کے پاس (دوسری )قوم کا کھانا بھی آ جاۓ ایک آدمی بڑی لکڑیاں جبکہ دوسرا آ دمی دو چھوٹی لکڑیاں اکٹھی کر نی شروع کر دے ‘یہاں تک کہ وہ اندھیرے میں جمع ہو جائیں ‘تھوڑی دیر بعد آگ جلائیں اور وہ چیز پک کر تیار ہو جاۓ جو اس آگ میں ڈالی گئی تھی ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عِيَاضٍ، ← عَبْدِ رَبِّهِ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 400

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 401

401 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ لِلْحُسْنِ، وَالْمُسْتَحِلَّ، وَالْمُسْتَحَلَّ لَهُ، وَلَاوِيَ الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدَّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت عبد الله ( بن مسعود) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک سود کھانے والا ‘اس کا وکیل بننے والا ‘اس کا گواہ بننے والا ‘اور اس کو لکھنے والا ‘اور خوبصورتی کے لیے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں ‘اور زکوٰۃ چھپانے والے‘ اور ہجرت کے بعد مرتد ہونے والے ‘یہ حضرت محمد ﷺکی زبان مبارک سے لعنتی قرار دیئے گئے ہیں ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 401

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 402

402 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ، أَلَا وَإِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَمَا تَهَافَتُ الذِّبَّانُ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ عز وجل نے کوئی چیز حرام نہیں کی مگر یہ کہ بے شک وہ جانتا ہے کہ تم میں سے اسے جھانک کر دیکھنے والا دیکھے گا ‘خبر دار! میں تم کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے تمہاری کمر سے پکڑ کر تمہیں کھینچ رہا ہوں ‘مگر اس میں تم گر ر ہے ہو جیسے کہ مکھیاں گرتی ہیں ( روشنی کے قریب)۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ، ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 402

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 403

403 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ [ص:319] عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي امْرُؤٌ مَقْبُوضٌ فَتَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ وَتَعَلَّمُوا الْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ وَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ فَإِنِّي مَقْبُوضٌ وَإِنَّهُ سَيُنْقَصُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ حَتَّى يَخْتَلِفَ الِاثْنَانِ فِي الْفَرِيضَةِ فَلَا يَجِدَانِ مَنْ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا»

حضرت عبداللہ ( بن مسعود )رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلا شبہ میں بھی آ دمی ہوں ‘میں دنیا سے جانے والا ہوں ‘سوتم قرآن سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ‘ اور تم علم الفرائض سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ ‘اور علم سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ ‘کیونکہ میں دنیا سے جانے والا ہوں اور عنقریب علم کم ہو جاۓ گا اور فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آ دمی کسی مسئلہ کے متعلق اختلاف کر یں گے تو کوئی ان کے درمیان فیصلہ کر نے کےلیے نہیں ملے گا۔

[ص:73] عَبْدِ اللَّهِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، ← بلغني ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيُّ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 403

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 404

404 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى أَهَالِينَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأُمَمِهَا وَأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَمِهَا فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ مَعَهُ الثَّلَاثَةُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ النَّفَرُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ مَعَهُ الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ مَا مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِهِ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي فَقُلْتُ: يَا رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قُلْتُ: يَا رَبِّ فَأَيْنَ أُمَّتِي؟ قَالَ: «انْظُرْ عَنْ يَمِينِكِ» فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ قَدْ سُدَّتْ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ قُلْتُ يَا: رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ قِيلَ: «أَرَضِيتَ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ قَدْ [ص:321] رَضِيتُ قِيلَ: «انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ» فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ قُلْتُ: يَا رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: " هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ قِيلَ: أَرَضِيتَ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ رَبِّ رَضِيتُ، قِيلَ: «فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» ، فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَخُو بَنِي أَسَدٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، فَأَنْشَأَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، قَالَ: وَذُكِرَ لَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِدَاكُمْ أَبِي وَأُمِّي إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ فَكُونُوا فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ كَثِيرًا، قَالَ: وَذُكِرَ لَنَا أَنَّ رِجَالًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ نَاسًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ تَرَاجَعُوا بَيْنَهُمْ فَقَالُوا: مَا تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ أَلْفًا؟ حَتَّى صَيَّرُوا مِنْ أُمُورِهِمْ أَنْ قَالُوا: نَاسٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ فَلَمْ يَزَالُوا يَعْمَلُونَ بِهِ حَتَّى مُوِّتُوا عَلَيْهِ فَبَلَغَ حَدِيثُهُمْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَيْسَ كَذَاكُمْ وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» وَذُكِرَ لَنَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ [ص:322] يَتْبَعُنِي مِنْ أُمَّتِي رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَكَبَّرْنَا فَقَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ " قَالَ: فَكَبَّرُوا قَالَ: وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ} [الواقعة: 40]

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ ﷺکے پاس تھے یہاں تک کہ ہم نے بہت زیادہ احادیث یاد کیں ‘پھر ہم اپنے گھر واپس آ گئے ‘پس جب صبح ہوئی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آ تے ‘رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ پر انبیاء کرام اور اُن کی اُمتیں اور ان کی اتباع کرنے والے پیش کیے گئے‘ چنانچہ ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ تین اُن کے اُمتی تھے اور ایک نبی گزرے اُن کے ساتھ اُن کی امت کا ایک گردہ تھا ‘اور ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ اُن کے اُمتیوں کی ایک جماعت تھی اور ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ اُن کا ایک اُمتی تھا اور ایک نبی گزرے تو اُن کے ساتھ اُن کا کوئی بھی اُمتی نہ تھا ‘یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزرے ان کے ساتھ بنی اسرائیل کی ایک جماعت تھی ‘پس جب میں نے ان کود یکھا تو مجھے تعجب ہوا ‘میں نے عرض کی :اے میرے رب ! یہ کون ہیں؟ فرمایا یہ آپ کے بھائی حضرت موسی ٰبن عمران علیہ السلام ہیں اور جنہوں نے بنی اسرائیل میں سے ان کی اتباع کی ‘میں نے عرض کی :اے میرے رب! میری اُمت کہاں ہے؟ فرمایا: اپنی دائیں جانب دیکھیں !سو میں نے دیکھا تو مکہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا ہے ‘میں نے عرض کی :اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ فرمایا گیا: آپ کی اُمت ہے ‘کہا گیا :کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! میں راضی ہوں‘ پھر کہا گیا:ا اپنے بائیں جانب دیکھیں !سو میں نے د یکھا کہ آ سمان کا کنارہ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا ہے ‘میں نے عرض کی اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ کہا گیا :آپ کی اُمت ہے! کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے عرض کی: اے میرے رب! میں راضی ہوں‘ فرمایا ان کے ساتھ ستّر ہزار بھی ہوں گے جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔ توبنواسد کے حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض شروع کی: یا رسول اللہ !دعا کر یں کہ اللہ تعالی ٰمجھے بھی اُن میں شامل کرے!آ پ نے فرمایا:اے اللہ ! اس کو اُن لوگوں میں شامل کر !سوایک دو سراآ دمی اُٹھااور اس نے عرض کی :یا رسول اللہ ! میرے لیے بھی دعا کر یں کہ اللہ تعالی ٰمجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کرے! فرمایا: عکاشہ بن محصن تجھ سے سبقت لے گئے ہیں ۔ پھر فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں! ہو سکے تو اُن ستّر ہزار میں سے ہو جاؤ‘ اگر تم اس سے عاجز آ جاؤ ‘اور اگر اس میں کم ہو جاؤ تو ہو سکے تو اہل الظر اب میں سے ہو جاؤ‘ اور اگر اس سے بھی عاجز آ جاؤ ‘اور ہو سکے تو اُفق والوں میں سے ہو جاؤ کیونکہ میں نے بہت سے لوگوں کو ملتے ہوۓ دیکھا ہے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا کہ بہت سے مؤمن مرد یا مؤمن لوگ آپس میں مذاکرہ کرنے لگے کہ یہ کون لوگ ہوں گے جوستّر ہزار بے حساب و کتاب جنت میں جائیں گے‘ بعض نے کہا وہ لوگ جو اسلام پر پیدا ہوۓ اور اسلام پر ہی عمل کر تے رہے یہاں تک کہ ان کا وصال ہوا‘ ان کی یہ بات اللہ کے نبی ﷺتک پہنچی تو آپ نے فرمایا :یہ وہ نہیں ہوں گے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ لگا کر علاج کرنے والے نہیں ہوں گے‘ اور نہ جھاڑ پھونک کر نے والے ہوں گے‘ اور اپنے رب پر ہی تو کل کرتے ہوں گے‘اور ہم سے ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺنے فرمایا :میں اُمید کرتا ہوں کہ جو میری اتباع کریں گے میری اُمت میں سے وہ جنت میں چوتھائی حصہ ہوں گے ۔ سو ہم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا یا ‘آ پ ﷺ نے فر مایا: مجھے اُمید ہے کہ وہ آ دھے اہل جنت میں سے ہوں گے ‘ہم نے پھراللہ اکبر کا نعرہ لگا یا ‘پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ’’ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ ‘‘(الواقعہ: ۴۰)۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 404

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 405

405 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: " إِنِّي [ص:323] غَالٌّ مُصْحَفِي فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفًا فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ {وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 161] وَلَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَصَبِيُّ مِنَ الصِّبْيَانِ، فَأَنَا أَدَعُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "

حضرت (عبداللہ) ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے مصحف میں غلو کر تا ہوں ‘پس جو مصحف میں غلو کر نے کی طاقت رکھتا ہے وہ غلو کرے ‘بے شک اللہ عز وجل فرماتا ہے: اور جو چھپا کر رکھے گا وہ قیامت کے دن اپنی چھپائی ہوئی چیز یں لے کر آئے گا ‘اور بے شک میں نے رسول اللہ ﷺکے منہ مبارک سے ستّر سورتیں یاد کی ہیں‘ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اس وقت بچوں میں سے ایک بچے تھے ‘پس میں نے ان چیزوں کو اپنے پاس بطور امانت رکھا ہوا ہے ‘جو میں نے نبی اکر م ﷺکی زبانی نبوت سے سنی ہیں۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عمرو بن ثابت ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 405

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 406

406 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ قوم کے کوڑے کے ڈھیر پر تشریف لاۓ تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی مانگا تو میں آپ کے پاس پانی لے کر آ یا ‘سوآپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 406

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 407

407 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ قَالَ: قِيلَ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ أَبَا مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ جَرِيرٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: إِنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ يَبُولُ [ص:325] فِي قَارُورَةٍ وَيُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، قَالَ حُذَيْفَةُ: وَدِدْتُ أَنَّهُ لَا يَفْعَلُ هَذَا، إِنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا»

حضرت ابووائل بیان فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پیشاب کے معاملہ میں سختی کرتے ہیں ۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ حضرت جریر نے اس حدیث میں فرمایا کہ حضرت ابوموسی ٰاشعری رضی اللہ عنہ ایک شیشی میں پیشاب کرتے تھے اور پیشاب کے معاملہ میں سختی کرتے تھے ‘حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں چاہتا ہوں کہ وہ ایسا نہ کر یں کیونکہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ‘آ پ قوم کے کوڑے کے ڈھیر پر آۓ تو آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔

أَبُو دَاوُدَ، ← قيل لحذيفة إن أبا موسى يشدد في البول ← أَبَا وَائِلٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 407

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 408

408 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، كِلَيْهِمَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الْفِتْنَةِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، قَالَ: أَنْتَ؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ يُكَفِّرُهَا الصَّوْمُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، قَالَ: لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنِ الْفِتْنَةِ الَّتِي قَبْلَ السَّاعَةِ تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ [ص:326] بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابٌ مُغْلَقٌ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْبَابِ يُكْسَرُ كَسْرًا أَمْ يُفْتَحُ فَتْحًا؟ قَالَ: بَلْ يُكْسَرُ كَسْرًا فَقَالَ عُمَرُ: إِذًا لَا يُغْلَقُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو وَائِلٍ: قُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْ حُذَيْفَةَ عَنِ الْبَابِ مَنْ هُوَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: الْبَابُ عُمَرُ وَرَوَى النَّاسُ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ: مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟

حضرت ابووائل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم کوفتنوں کے متعلق کون بتاۓ گا ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بتاؤں گا ! ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (فرمایا: آ پ بتائیں گے! انہوں نے عرض کی : اے امیرالمؤ منین ! آ دمی کے لیے فتنہ اس کے اہل خانہ اور اس کا مال ہوں گے ‘اس کا کفار ہ روزے صد قہ ‘نیکی کا حکم اور بُرائی سے منع کرنا ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا: میں نے اس کے متعلق نہیں پوچھا ‘میں ان فتنوں کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں جو قیامت سے پہلے سمندر کی موجوں کی طرح ہوں گے‘انہوں نے عرض کی اے امیر المؤمنین! آپ کے اور اس (فتنہ) کے درمیان ایک بند دروازہ ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے )فرمایا مجھے اس دروازے کے متعلق بتائیں کہ وہ توڑا جاۓ گا یا کھولاجاۓ گا ؟ ( حضرت حذیفہ نے )کہا: بلکہ وہ سختی سے توڑا جاۓ گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو وہ قیامت تک بند نہیں ہو گا ۔ حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسروق سے کہا: آ پ حضرت حذیفہ سے پوچھیں کہ وہ درواز ہ کون ہے؟ انہوں (حضرت مسروق ) نے پوچھا تو ( حضرت حذیفہ نے )کہا: وہ درواز ہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود ہیں ۔ اور لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کون ہے جو ہم کو نبی اکر مﷺکے حوالہ سے فتنہ کے متعلق حدیث بیان کرےگا۔

أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، كِلَيْهِمَا ← الْأَعْمَشِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 408

chevron_left Previous
1…333435…241
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter