Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2557

2557 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ مُتَوَالِيَاتٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ»

حضرت صفوان بن سلیم ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے لگاتار تین جمعے چھوڑے بغیر عذر کے اللہ عزوجل اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2557

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2558

2558 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا [ص:182] أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ: «يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ» فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ فَيُنَادِي فِي السَّمَاءِ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ، قَالَ: وَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا كَانَ كَذَلِكَ

حضرت سہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ عزوجل جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلواتا ہے ، فرماتا ہے : اے جبریل ! میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان میں آواز دی جاتی ہے کہ بے شک فلاں آدمی سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو، فرمایا کہ اہل آسمان اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کی قبولیت زمین میں رکھ دی جاتی ہے، اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو اس کا حشر بھی اسی طرح ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2558

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2559

2559 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

حضرت سہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گھوڑے کی پیشانی میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک بھلائی رکھ دی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2559

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2560

2560 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ: هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ مِنْ أَهْلَكِهِمْ "

حضرت سہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے کہا کہ لوگ ہلاک ہو گئے، تو وہ بھی ان ہلاک ہونے والوں میں سے ہے۔

هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ مِنْ أَهْلَكِهِمْ ← مَنْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2560

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2561

2561 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُسْلِمٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ [ص:184] فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ»

حضرت ابو صالح ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتاہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مشکلات دور کرتے گا، اور جو کسی مسلمان پر آسانی پیدا کرتا ہے تو اللہ عزوجل دنیاو آخرت میں اس پر آسانی کرے گا، اور جو کسی مسلمان کی دنیا میں پردہ داری کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ داری کرتا ہے، اللہ عزوجل اپنے اس بندہ کی مدد میں ہوتا ہے جو اپنے بھائی کی مددکرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2561

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2562

2562 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَانَ ثِقَةً قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ كَنْزِهِ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِكَنْزِهِ فَيُحْمَى صَفَائِحًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ إِبِلِهِ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِإِبِلِهِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، وَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي [ص:186] زَكَاةَ غَنَمِهِ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِغَنَمِهِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطُؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْخَيْلُ؟، قَالَ: " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَالْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى آخَرَ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا فَيَحْبِسُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَلَهُ أَجْرٌ، وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ فَأَطَالَ لَهَا كَانَ لَهُ بِكُلِّ مَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَتْهَا أَوْ أَخْطَاهَا أَجْرٌ، وَلَوْ مَرَّ بِهَا عَلَى نَهَرٍ فَسَقَاهَا مِنْهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ «حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا» وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ اتَّخَذَهَا تَعَفُّفًا وَتَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا، وَلَا يَنْسَى حَقَّهَا فِي ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا، وَفِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، وَأَمَّا الَّتِي عَلَيْهِ وِزْرٌ فَرَجُلٌ اتَّخَذَهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَرِيَاءً النَّاسِ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الْحُمُرِ؟، قَالَ: " مَا نَزَلَ عَلَيَّ فِيهِ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ [ص:187] يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 8] "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو خزانہ کا مالک اپنے خزانہ کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہے اس کو اور اس کے خزانہ کو قیامت کےدن لایا جائے گا، اس کو جہنم کی آگ میں گرایا جائے گا، اس کے ساتھ اس کی پیشانی اور اس کی پیٹھ کو داغا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا ۔ وہ دن پچاس ہزار سال کی مقدار کا ہوگا جو سال تم شمار کرتےہو۔ جو اونٹوں کا مالک اونٹوں کی زکوٰۃ نہیں دیتا ہو گا، قیامت کے دن اسے اور اس کے اونٹوں کو لایا جائے گا، اس کے اونٹ بہت زیادہ ہوں گے ، ان کے لیےپتھریلی زمین بنائی جائے گی، وہ اونٹ اس کو اپنے پاؤں کے نیچے روندیں گے، جب ان اونٹوں کا آخری حصہ ختم ہوگا تو پہلے از سر نو شروع ہوں گے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اس دن اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا ۔ وہ دن پچاس ہزار سال کا ہوگا دنیا کے سالوں کی طرح ، اس کے بعد وہ اپنی جگہ جنت یا دوزخ میں دیکھ لیں گے۔ اور جو بکریوں کا مالک ہوگا اور ان بکریوں کی زکوٰۃ نہیں دیتا ہو گا ، وہ خود اور اس کی بکریاں قیامت کے دن لائی جائیں گی، دنیا کی مقدار سے زیادہ لائی جائیں گی اور ان کے لیے پتھریلی زمین بنائی جائے گی۔وہ بکریاں اس کو اپنے سینگوں اور پاؤں سے روندیں گی ، آخری بکری کے گزرنے کے بعد پہلی دوبارہ سے آئیں گی ، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا، اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کی مسافت جتنی ہوگی، جو دنیا میں شمار کیا جاتا ہے۔پس وہ اپنا ٹھکانہ جنت میں یا جہنم میں دیکھ لے گا۔ عرض کی گئی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اور گھوڑوں کے متعلق ؟ آپ نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں اللہ عزوجل نے قیامت کے دن تک بھلائی ہی لکھ دی ہے ، گھوڑے بھی تین قسم کے ہیں : ایک گھوڑا آدمی کے لیے ثواب کا ذریعہ ہے ، وہ گھوڑا جس کو آدمی نے اللہ کی راہ کےلیے رکھا ، وہ گھوڑا جو کچھ پیٹ میں دالتا ہے ، اس آدمی کو اس کا بھی ثواب ملتا ہے۔ اگر چرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو چرنا بھی ثواب کا ذریعہ بنے گا، اگر کسی بلندی پر چڑھے گا تو ہر قدم کے بدلے اس آدمی کو ثواب ملے گا، اگر وہ گھوڑا کسی نہر پر گزرا اور وہاں پانی پیا تو اس کا پانی پینا بھی ثواب کا ذریعہ ہوگا، یہاں تک کہ اس کی لید اور پیشاب میں بھی ثواب ہے ۔ ایک گھوڑا وہ ہے جو آدمی کے لیے پردہ بنے گا۔وہ آدمی جو گھوڑا عزت ، سوال سے بچنے کے لیے اور خوبصورتی کے لیے رکھتا ہے۔ وہ گھوڑا جو آدمی کے لیے عذاب کا ذریعہ بنے گا ۔جو اس نے لوگوں کے دکھاوے کے لیے رکھا ۔ عرض کی گئی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس کے متعلق کوئی جامع آیت نازل نہیں ہوئی ، سوائے اس کے جو ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو زرہ برابر بھی برائی کرے گا وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سهيل بن أبي صالح المدني، ← وهيب بن خالد-وكان ثقة- ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2562

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2563

2563 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ» قَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا وَاسْتَشْرَفْتُ رَجَاءَ أَنْ يُدْفَعَ إِلَيَّ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَعَا عَلِيًّا فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ فَقَالَ: «قَاتِلْ، وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ» فَسَارَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى مَا [ص:188] أُقَاتِلُ؟، قَالَ: " حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ

حضرت سہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا : میں جھنڈا اس کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتاہو گا تو اللہ تعالیٰ فتح دے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حکومت کو کبھی پسند نہیں کیا اس دن سے پہلے ، سو میں نے اس امید کی خواہش کی کہ مجھے دیا جائے گا۔ پس جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو بلوایا، اور ان کو دے دیا، فرمایا : لڑ! اورپیچھے نہ دیکھ یہاں تک کہ اللہ عزوجل تجھے فتح دے ! وہ تھوڑے چلے ، پھر عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کب تک جنگ کروں ؟ فرمایا : اس وقت تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور یہ کہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے رسول ہیں، جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے اپنے خون اور اپنے مال بچالیے سوائے اس کے مگر حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2563

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ · حديث 2564

2564 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَكَانَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لَبَعْضِنَا مِنَ الطَّعَامِ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّنْ يَصْنَعُ لَنَا فَيُكْثِرُ فَيَدْعُونَا إِلَى رَحْلِهِ قُلْتُ: لَوْ [ص:189] أَمَرْتُ بِطَعَامٍ فَصُنِعَ وَدَعْوَتُهُمْ إِلَى رَحْلِي فَفَعَلْتُ، وَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْعَشِيِّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ، فَقَالَ: سَبَقْتَنِي يَا أَخَا الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَعِنْدِي إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ؟، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ أَنْصَارِيًّا قَالَ: فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى أَحَدِ الْمُجَنِّبَتَيْنِ، وَبَعَثَ زُبَيْرًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ، ثُمَّ رَآنِي فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ، وَلَا تَأْتِنِي إِلَّا بِأَنْصَارِيٍّ» قَالَ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: «انْظُرُوا قُرَيْشًا وَأَوْبَاشَهُمْ فَاحْصُدُوهُمْ حَصْدًا» قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ يُرِيدُ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا أَخَذَهُ، وَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبِيرَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ فَقَالَ [ص:190] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ» فَأَلْقَى النَّاسُ سِلَاحَهُمْ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ وَمَعَهُ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَتِهَا فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنِ صَنَمٍ مِنْ أَصْنَامِهِمْ وَهُوَ يَقُولُ: {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: 81] ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الصَّفَا فَعَلَا مِنْهُ حَتَّى يَرَى الْبَيْتَ، وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُوهُ، وَالْأَنْصَارُ عِنْدَهُ يَقُولُونَ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَجَاءَ الْوَحْيُ، وَكَانَ الْحَقُّ إِذَا جَاءَ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رُفِعَ الْوَحْيُ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، قُلْتُمْ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ كَلَّا، فَمَا اسْمِي إِذًا، كَلَّا، إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ " فَأَقْبَلُوا يَبْكُونَ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ»

حضرت عبداللہ بن رباح فرماتے ہیں کہ ہم اپنا وفد لے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے: ہمارے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ہم میں سے بعض نے کھانا بنایا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمارے لیے کھانا بناتے تھے ، وہ بہت زیادہ کھانا بناتے تھے اور ہم کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتے ۔ میں نے عرض کی : اگر میں آپ کو کھانے کی دعو دوں جو بنایا جائے اور میں آپ کو اپنے گھر آنے کی دعوت دوں ، میں ایسا کروں گا، میں رات کو حضرت ابوہریرہ سے ملا میں میں نے عرض کی : اے ابوہریرہ ! دعوت آج رات میرے ہاں ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصاری بھائی ! تو مجھ سے سبقت لے گیا ہے، میں نے ان کو دعوت دی، آپ میرے پاس تھے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! میں تم کو ایک حدیث سناؤں ! حضرت عبداللہ انصاری تھے، فتح مکہ کا ذکر کیا اور فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خالد بن ولید کو دو طرفوں میں سے ایک طرف کو بھیجا اور حضرت زبیر کو دوسری طرف بھیجا ابو عبید بن جراح کو باقی رہی فوج کے ساتھ کمان دے کر بھیجا، پھر مجھے دیکھا اور فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! لبیک و سعد یک ک! فرمایا : میرے پاس انصار کو بلاؤ اور انصار کے علاوہ کسی کو نہ بلاؤ ۔ میں نے ایسا ہی کیا ، پھر فرمایا : قریش کے اوباش جہاں دیکھو ان کو مار دو۔ ہم چلے تو ان میں سے کوئی بھی ہماری طرف نہ بڑھتا اور نہ کوئی آگے ہوتا، ان میں جو چاہتا تو یہ اس کو پکڑ لیتے ۔ ابو سفیان آیا ، اس نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قریش کی جوانی ختم ہوگئی، آج کے بعد قریش نہیں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو ابو سفیان کے گھر آجائے وہ بھی امن والا ہے ، جو اسلحہ پھینک دے ووہ بھی امن والا ہے ۔ لوگوں نے اسلحہ پھینک دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، آپ نے طواف حجر اسود سے شروع کیا، اس کو استلام کیا ، پھر سات طواف کے چکر لگائے اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نفل اد اکیے پھر آئے تو آپ کے پاس کمان تھی، اس کی نوک بتوں کی آنکھوں میں چبھوتے اور پڑھتے : حق آگیا ، باطل چلا گیا، بے شک باطل جانے والا ہے۔ پھر چلے، یہاں تک کہ صفا پر آئے اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا ، اللہ کی حمد کی اور اس سے دعا کرنے لگے۔ انصار کے پاس ہی کہہ رہے تھے: بدحال آدمی کو قربت کی رغبت اور رشتے داروں سے نرمی کرنے کا کیال آنا شروع ہو گیا، وحی آنا شروع ہو گئی ۔ وحی جب آتی تھی تو ہم پر مخفی نہیں ہوتی تھی، جب وحی آنا ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : اے انصار ! تم کہتے ہو کہ آدمی کو رشتے داروں کی رغبت اور ان کی نرمی نے آ لیا ، ہر گز ایسا نہیں ہے ، پھر تو اس وقت میرا نام ہی نہیں رہا، ہر گز نہیں! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، میرا دنیا میں رہنا اور دنیا سے جانا تمہارے ساتھ ہی ہے۔ صحابہ کرام رونے لگے اور عرض کرنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کی قسم ! ہم نے ایسے نہیں کہا، اللہ کی قسم ! ہم نے صرف اللہ اور اس کے رسول پر رشک کرتے ہوئے کہا، بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری کرتا ہے اور تمہارا عذر قبول کرتاہے۔

وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَكَانَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لَبَعْضِنَا مِنَ الطَّعَامِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2564

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ · حديث 2565

2565 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ دُخَانُ جَهَنَّمَ وَغُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فِي مَنْخِرَيْ عَبْدٍ أَوْ قَدَمِ مُسْلِمٍ»

حضرت عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : وہ آنکھ جہنم میں داخل نہیں ہوگی جو اللہ عزوجل کے خوف کی وجہ سے روتی ہے ۔ حتیٰ کہ دودھ نکلا ہوا تھنوں میں واپس چلا جائے ( اسی طرح رونے والا جہنم میں نہیں جائے گا) اور جہنم کا دھواں اور اللہ کی راہ کا غبار دونوں جمع نہیں ہوں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2565

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو رَافِعٍ · حديث 2566

2566 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي [ص:193] هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَقَالَ: «رَأَيْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ حَتَّى أَلْقَاهُ»

حضرت ابو رافع ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے " اذالسماء انشقت" میں سجدہ کیا اور فرمایا کہ میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ، سو میں سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مر جاؤ ں۔

أَبِي [ص:193] هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ← أَبَا رَافِعٍ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2566

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو رَافِعٍ · حديث 2567

2567 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ اسْمُ مَيْمُونَةَ أَوْ زَيْنَبَ بَرَّةَ، «فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ أَوْ زَيْنَبَ»

حضرت ابو رافع ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت میمونہ یا حضرت زینب کا نام برہ تھا، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام میمونہ یا زینب رکھا۔

كَانَ اسْمُ مَيْمُونَةَ أَوْ زَيْنَبَ بَرَّةَ، «فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ مَيْمُونَةَ أَوْ زَيْنَبَ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا رَافِعٍ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2567

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو رَافِعٍ · حديث 2568

2568 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَسْوَدَ أَوِ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تُنْقِي الْأَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ فَدُفِنَتْ، فَلَمْ يُؤْذِنُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا» فَانْطَلَقَ إِلَى الْقَبْرِ فَأَتَى عَلَى الْقُبُورِ فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا عَلَيْهِمْ بِصَلَاتِي» ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي، أَوْ أَخِي مَاتَ وَدُفِنَ فَصَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْأَنْصَارِيِّ

حضرت ابو رافع ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک کالا مرد یا کالی عورت مسجد کی صفائی کرتے تھے ( وہ فوت ہوئے ) تو اس کو دفن کردیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو طلاع نہیں دی گئی ، سو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتلاؤ! پس آپ اس کی قبر کی طرف چلے ، آپ اس کی قبر پر آئے فرمایا : بے شک یہ قبریں اپنے اہل پر اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں ، اور اللہ عزوجل میری نماز کی برکت سے اس کو منور کردیتاہے۔ پھر قبر پر آئے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی، ایک انصاری آدمی نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرا باپ یا بھائی مرگیا ہے اور دفن کیا گیا ہے، اس کے لیے دعا کریں ! کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس انصاری کے ساتھ چل پڑے ( اور آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی) ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← أبو عامر الخزاز صالح بن رستم ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2568

chevron_left Previous
1…213214215…241
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter