مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَتَّابٌ مَوْلَى هُرْمُزَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2197
2197 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَتَّابٍ، سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
حضرت ابو التیاح ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ شریف تشریف لائے تو مدینہ شریف کی بلندی والی جگہ سے انصار کے اس قبیلہ کے پاس تشریف لائے جن کو بنو عمرو بن عوف کہا جاتا ہے۔ آپ ان میں (14) راتیں ٹھہرے ۔ پھر آپ نے بنی نجار کی طرف کسی کو بھیجا ۔ وہ اس حال میں آئے کہ تلواریں لٹکائے ہوئے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ سواری پہ سوار تھے اور آپ کے پیچھے حضرت ابوبکر صدیق تھے ۔ سو آپ چلتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ کے صحن میں اترے ۔ تو انہوں نے کہا: اے بنی نجار ! میرے ساتھ اپنے باغوں کا سودا طے کرو۔ انہوں نے کہا : نہیں ! ہم آپ سے اس کی قیمت نہیں لیں گے سوائے اللہ اور اس کے رسول کے ۔ یا کہا : ہم اس کی قیمت اللہ اور اس کے رسول سے ہی لیں گے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے جہاں نماز کا وقت پاتے ۔ اور آپ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے ۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ : اور آپ اس میں تھے جو میں تمہیں بتاؤں گا اس میں کھجوروں کے باغ فتھے ۔ عبداالورات فرماتے ہیں : گڑھے اور مشرکین کی قبر یں تھیں آپ نے حکم دیا تو کھجور کے درخت کاٹ دئیے گئے اور مشرکین کی قبروں کو اکھاڑ دیا گیا اور گڑھوں کو برابر کیا گیا۔ سو مسجد کے قبلہ کی جانب کھجور کا درخت لگایا گیا۔ سو وہ لوگ پتھر اٹھانے لگے اور رجز پڑھنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ تھے ۔ آپ یہ دعا کررہے تھے: اے اللہ ! کوئی بھلائی نہیں سوائے آخرت کی بھلائی کے۔ سو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما دے۔
أَنَسًا ← عتاب ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2197
