مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1861
1861 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ [ص:312] الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ يَتَأَخَّرُ فِي صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " إِنَّهُ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقُرِّبَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا، قَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ - أَوْ قَالَ: نِلْتُهُ، شَكَّ هِشَامٌ - وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةً أَنْ تَغْشَاكُمْ وَرَأَيْتُ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ [ص:313] عَزَّ وَجَلَّ، يُرِيكُمُوهَا فَإِذَا انْكَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ "
حضرت ابو زبیر سے روایت ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا، اس دن گرمی بہت زیادہ تھی ، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی ، تو آپ نے لمبا قیام فرمایا یہاں تک کہ لوگ گرنے کے قریب ہو گئے ، کہا کہ پھر آپ نے رکوع کیا تو رکوع بھی لمبا کیا پھر رکوع سے اٹھے ، پھر لمبا قیام فرمایا پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا ، پھر اٹھے تو لمبا قیام کیا پھر دو سجدے کیے ، پھر کھڑے ہوئے تو پہلی رکعت کی ہی طرح کیا، پس آپ نے چار رکوع کیے اور چار ہی سجدے کیے اور آپ مقدم کو مقدم اور مؤخر کو مؤخر کرتے رہے اپنی نماز میں۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر جنت و دوزخ پیش کی گئی ، جنت میرے قریب کر دی گئی یہاں تک کہ اگر میں اس سے کوئی ٹہنی توڑنا چاہتا تو میں توڑ سکتا تھا ، میرا ہاتھ اس سے تھوڑا دور تھا، فرمایا : میں اسے لے لیتا، ہشام کو شک ہے ۔ مجھ پر دوزخ کو پیش کیا گیا، سو میں پیچھے ہٹنے لگا، ڈر کی وجہ سے میں نے ایک عورت حمیرہ کالی لمبی دیکھی، اس کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا ، جس کو اس نے باندھا تھا، اس نے اس کو کھانے پینے کے لیے نہیں دیا تھا اور اس کو چھوڑا نہیں تھا کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے اور میں نے جہنم میں عمرو بن مالک کو دیکھا ، جس کو اس کے ڈنڈے سے کھینچ کر جہنم میں ڈال دیا گیا کیونکہ لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند کو کسی بڑے آدمی کی موت پر گرہن لگتا ہے فرمایا : حالانکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں ، جنہیں وہ تم کو دکھاتا ہے ، سو جب دونوں گرہن لگ جائے تو نماز پڑھا کرو ، یہاں تک کہ گرہن چلا جائے ۔
جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1861
