Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2787

2787 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بَعَثَ إِلَى أَبِي طَيْبَةَ عِشَاءً، فَحَجَمَهُ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ»

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابی طیبہ کی رات کو بلا بھیجا تو اس نے آپ کو پچھنا لگایا، اور آپ نے اس کی مزدوری دی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2787

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2788

2788 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ مَا تَحْتَجِمُونَ فِيهِ سَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ»

حضرت عکرمہ ،حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بہتر وقت جس میں تم پچھنا لگاؤ سترہ ، انیس ، اکیس ( چاند کی ) تاریخیں ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبَّادٌ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2788

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2789

2789 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ [ص:389]: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ} [النور: 4] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: أَهَكَذَا أُنْزِلَتْ؟ فَلَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا مُتَفَخِّذُهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أُحَرِّكَهُ، وَلَا أُهَيِّجَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ فَوَاللَّهِ لَا آتِي بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَلُمْهُ؛ فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ، وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ فِينَا قَطُّ إِلَّا عَذْرَاءَ، وَلَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهُ إِنِّي لَأَعْلَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّهَا الْحَقُّ، وَأَنَّهَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَكِنِّي عَجِبْتُ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ، وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ الْبَارِحَةَ عِشَاءً مِنْ حَائِطٍ لِي كُنْتُ فِيهِ، فَرَأَيْتُ عِنْدَ أَهْلِي رَجُلًا، وَرَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ، وَسَمِعْتُ بِأُذُنَيَّ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ، فَقِيلَ: أَيُجْلَدُ هِلَالٌ وَتَبْطُلُ شَهَادَتُهُ فِي الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ هِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِكَ أَنَّكَ تَكْرَهُ مَا جِئْتُ بِهِ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ فَرَجًا قَالَ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:390] إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ تَرَبَّدَ لِذَلِكَ جَسَدُهُ وَوَجْهُهُ، وَأَمْسَكَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ، فَلَمَّا رُفِعَ الْوَحْيُ قَالَ: «أَبْشِرْ يَا هِلَالُ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعُهَا» فَدُعِيَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟» فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قُلْتُ إِلَّا حَقًّا، وَلَقَدْ صَدَقْتُ قَالَ: فَقَالَتْ هِيَ عِنْدَ ذَلِكَ: كَذَبَ قَالَ: فَقِيلَ لِهِلَالٍ: أَتَشْهَدُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّكَ لِمِنَ الصَّادِقِينَ؟، وَقِيلَ لَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ: يَا هِلَالُ اتَّقِ اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ النَّاسِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ قَالَ: وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا أَبَدًا، كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا، فَشَهِدَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ وَقِيلَ: اشْهَدِي أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمِنَ الْكَاذِبِينَ وَقِيلَ لَهَا عِنْدَ الْخَامِسَةِ: يَا هَذِهِ، اتَّقِي اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ النَّاسِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ؛ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ، فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي، فَشَهِدَتِ الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تُرْمَى، وَلَا يُرْمَى [ص:391] وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا وَرَمَى وَلَدَهَا جُلِدَ الْحَدَّ، وَلَيْسَ لَهَا عَلَيْهِ قُوتٌ وَلَا سُكْنَى؛ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ بِغَيْرِ طَلَاقٍ، وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْصِرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُثُيْبِجَ، أُصَيْهِبَ، أَرْسَحَ، حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، أَوْرَقَ، جَعْدًا، جُمَالِيًّا فَهُوَ لِصَاحِبِهِ» قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ، جَعْدًا، جُمَالِيًّا، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا أَمْرٌ» قَالَ عَبَّادٌ: فَسَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ أَمِيرَ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ، لَا يُدْرَى مَنْ أَبُوهُ

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہیں کہ جب یہ آیت اتری :" والذین یر مون المحصنات ثم لم یاتواباربعۃ شھداء" وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ، پھر وہ چار گواہ نہ لا سکیں " آخر آیت تک ۔ تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا یہ آیت اسی طرح اتری ہے؟ اگر میں کسی گندی عورت کو پاؤں اس حالت میں کہ اسے کسی آدمی نے رانوں سے دبوچ رکھا ہو، مجھ سے تو نہیں ہوسکتا کہ میں حرکت بھی نہ کروں اور غصہ بھی نہ کروں یہاں تک کہ چار گواہ لاؤں ۔اللہ کی قسم ! میرے چار گواہ لانے تک وہ اپنی ضرورت پوری کر چکے ہوگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ ! کیا تم سنتے ہو کہ تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے؟ انصار نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ اس کی بات پر غصہ نہ کریں ، کیونکہ یہ غیرت مند آدمی ہے، اللہ کی قسم ! یہ شادی کنواری لڑکی سے کرتا ہے ، اگر یہ کسی عورت کو طلاق دے تو ہم میں سے کسی آدمی کو جراءت نہیں ہوتی ہے کہ وہ اس عورت سے شادی کرے، اس کی شدت غیرت کی وجہ سے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ یہ حق ہے، یہ اللہ عزوجل کی جانب سے ہے لیکن مجھے تعجب ہو رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں تھے کہ اچانک حضرت ہلال بن امیہ الوافقی آئے ، وہ ان تین میں ایک تھے جن کی تو بہ اللہ نے قبول کی تھی۔ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں عشاء کے وقت اپنے باغ میں آیا ، جس مکان میں، میں رہتا تھا، میں نے اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو دیکھا اور میں نے اپنی دو آنکھوں سے دیکھا اور اپنے دونوں کانوں سے سنا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا جو خبر وہ لے کر آیا ، کہا گیا : کیا ہلال کوڑے کھائے گا؟ یا اپنی گواہی مسلمانوں میں باطل کروائے گا۔ حضرت ہلال نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں دیکھتا ہوں کہ میری خبر کی وجہ سے آپ کےچہرے پر ناپسندیدگی کا اظہار ہے، اور میں امید کرتا ہوں اللہ عزوجل اس کےلیے کوئی راستہ نکال دے گا۔ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان اسی حال میں تھے کہ اچانک آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب وحی آتی تو صحابہ کرام آپ کے جسم اور چہرے سے معلوم کر لیتے تھے اور صحابہ کرام اپنے آپ کو گفتگو کرتے ہوئے روک لیتے تھے۔ان میں سے کوئی بھی آپ سے کلام نہیں کرتا تھا، پس جب وحی آنا ختم ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہلال کے لیے خوشخبری ہے ! پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کی بیوی کو بلاؤ سو اس کو بلایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟حضرت ہلال نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے سچ کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہتی ہے کہ تو جھوٹا ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت ہلال سے کہا گیا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے چار مرتبہ اس طرح کہ اللہ کی قسم ! بے شک وہ سچوں میں سے ہے ، پانچویں مرتبہ اس سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈر اللہ کا عذاب ان لوگوں کے عذاب سے زیادہ سخت ہے،یہ پانچویں مرتبہ کی قسم تم پر عذاب ثابت کر دے گی۔حضرت ہلال نے کہا : اللہ کی قسم اللہ مجھے عذاب نہیں دے گا جس طرح اس نے مجھے کوڑے نہیں پڑنے دئیے۔ سو پانچویں مرتبہ انہوں نے قسم اٹھائی : اللہ کی لعنت اس پر اگر وہ جھوٹا ہے، اس عورت کو کہا گیا ،چارمرتبہ تو قسم اٹھا اس طرح کہ اللہ کی قسم کہ بے شک یہ جھوٹ بول رہا ہے، اس عورت کو کہا گیا کہ پانچویں مرتبہ : اے عورت ! اللہ سے ڈر اللہ کا عذاب لوگوں کے عذاب سے سخت ہے۔ بلاشبہ یہ پانچویں مرتبہ قسم تجھ پر عذاب واجب کردے گی۔ وہ کچھ دیر ٹھہری پھر کہنے لگی: اللہ کی قسم ! میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی، سو اس نے پانچویں مرتبہ قسم اٹھائی : اللہ کا غضب ہو اس پر اگر وہ سچ بورہا ہے ۔فرمایا کہ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: کوئی شخص نہ اس پر اور نہ اس کی اولاد پرتہمت لگائے جو اس پر اور اس کی اولاد پر تہمت لگائے گا اس کو کوڑے لگائے جائیں گے، اس عورت کے شوہر پر کھانا پینا اور گھر کی ذمہ داری نہیں ، اس وجہ سے کہ یہ دونوں جدا ہورہے بغیر طلاق کے ، نہ اس کا شوہر فوت ہوا ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو دیکھو اگر یہ عورت سرخ اور سفید رنگ کا بچہ پیدا کرے اور وہ پتلی سرین والا ، پتلی پنڈلیوں والا ، گھنگھریالے بالوں والا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا، پس اس عورت نے گھنگھریالے بالوں والا موٹی پنڈلیوں والا ، موٹی سرین والا ہو بچہ جنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے قسم کا خیال نہ ہوتا تو اس کا معاملہ میرے اور اس عورت کا معاملہ اور ہوتا ۔حضرت عباد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ کو فرماتے سنا کہ بے شک میں نےدیکھا کہ وہ مصر کے شہروں میں کسی شہر کا گورنر تھا، کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کا باپ کون ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2789

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2790

2790 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أُتِيتُ فِي مَنَامِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا نَائِمٌ، فَقِيلَ لِي: اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ الْقَدْرِ، فَاسْتَيْقَظْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَأَخَذْتُ بِطُنْبِ الْفُسْطَاطِ، فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَنَظَرْتُ إِلَى الشَّمْسِ صَبِيحَتَهَا، فَإِذَا لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ "

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے رمضان المبارک میں خواب آیا میں سویا ہوا تھا، سو مجھے کہا گیا کہ یہ لیلۃالقدر کی رات ہے۔پس میں جاگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہےتھے، میں نےخیمہ کا بانس پکڑا تو وہ رات چوبیسویں تھی، پس میں نے سورج کی طرف دیکھا تو صبح کے وقت اس کی شعاع میں تپش نہیں تھی۔

أُتِيتُ فِي مَنَامِي فِي رَمَضَانَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← سَلَّامٌ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2790

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2791

2791 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، وَسَلَامٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ؟، قَالَ: " لَا، بَلْ حَجَّةٌ، فَلَوْ قُلْتُ: كُلَّ عَامٍ، كَانَ كُلَّ عَامٍ "

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ ایک مرتبہ فرض ہے، اگر میں ہر سال کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہوجاتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيكٌ، وَسَلَامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2791

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2792

2792 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا»

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ، اس نے آپ کے سامنے بڑا واضح کلا م کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک بعض بیان جادو اور بعض شعر حکمت ہوتے ہیں ۔

قَدِمَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2792

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2793

2793 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صُومُوا رَمَضَانَ لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ غَمَامَةٌ أَوْ ضَبَابَةٌ فَأَكْمِلُوا شَهْرَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ»

حضرت عکرمہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے روزے چاند دیکھ کر رکھو اور عید کرو چاند دیکھ کر ، سو اگر چاند اور اس کے اور تمہارے درمیان بادل ہوں تو رمضان کے روزے تیس دن مکمل کرو، رمضان سے پہلے ایک دن شعبان کا روزہ نہ رکھو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2793

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2794

2794 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ»

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← سَلَّامٌ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2794

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2795

2795 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ [ص:397] عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَمَّا وَجَّهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ وَالصَّلَاةِ إِلَيْهَا قَالُوا: كَيْفَ بِمَنْ مَاتَ مِنْ أَصْحَابِنَا وَهُوَ يُصَلِّي إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ} [البقرة: 143] "

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک کو خانہ کعبہ کی طرف پھیرا تو آپ اس کی طرف منہ کرکے نما ز پڑھنے لگے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جو ہمارے ساتھی وصال کر گئے ہیں اور وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نما پڑھتے تھے ، ان کا کیا بنے گا؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری: " ﴿ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمۡۚ ١٤٣﴾"، " اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے" (البقرۃ:143)

لَمَّا وَجَّهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ إِلَى الْكَعْبَةِ وَالصَّلَاةِ إِلَيْهَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← [ص:2221] عِكْرِمَةَ ← سِمَاكٍ، ← قَيْسٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2795

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2796

2796 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَمَّةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَسْلَمَتْ وَهَاجَرَتْ وَتَزَوَّجَتْ، وَقَدْ كَانَ زَوْجُهَا أَسْلَمَ قَبْلَهَا، «فَرَدَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى زَوْجِهَا»

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی پھوپھی مسلمان ہوئی اور اس نے ہجرت کی اور شادی کی، اور ان کا شوہر ان سے پہلے مسلمان ہوگیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ان کے شوہر کی طرف لوٹا دیا۔

عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2796

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2797

2797 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَايَعَ رَجُلًا، فَلَمَّا بَايَعَهُ قَالَ: «اخْتَرْ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَكَذَا الْبَيْعُ»

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے بیع کی، جب آپ نےاس سے بیع کی تو آپ نے فرمایا: تو اختیار کر ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیع اس طرح ہوتی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2797

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2798

2798 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، وَوَرَّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ حَتَّى نَزَلَتْ: {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ} [الأحزاب: 6] فَتَرَكُوا ذَلِكَ وَتَوَارَثُوا بِالنَّسَبِ "

حضرت عکرمہ ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیاں مواخات قائم فرمائی تو ان میں سے بعض کو وارث بنانے لگے یہاتک کہ :"﴿ أُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ ٦﴾"(الاحزاب : 6) والی آیت نازل ہوئی ، پس ان کو چھوڑ دیا اور آپس میں نسبی وارث بنائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2798

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter