مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا رَوَى سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ · حديث 2449
2449 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ فَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ: أَيُّكُمْ، أَوْ قَالَ: أَفِيكُمُ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: هُوَ هَذَا الْأَمْغَرُ الْمُرْتَفِقُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ مَسْأَلَتِي، أَسْأَلُكَ بِرَبِّ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ، وَبِرَبِّ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ، آللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَأَسْأَلُكَ بِذَلِكَ: أَهُوَ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ خَمْسَ [ص:92] صَلَوَاتٍ؟، قَالَ: «نَعَمْ» فَقَالَ: فَأَسْأَلُكَ بِذَلِكَ: أَهُوَ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا شَهْرًا؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَأَسْأَلُكَ بِذَلِكَ، أَهُوَ أَمَرَكَ أَنْ تَحُجَّ الْبَيْتَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَأَسْأَلُكَ بِذَلِكَ: أَهُوَ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ أَمْوَالِ أَغْنِيَائِنَا فَتَرُدَّهُ عَلَى فُقَرَائِنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: فَإِنِّي قَدْ آمَنْتُ بِكَ وَصَدَّقْتُكَ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، فَأَمَّا هَذِهِ الْهَنَّةُ وَالْهُنَيَّاتُ فَقَدْ كُنَّا نَدَعُهَا تَكَرُّمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ: فَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا كَانَ أَوْجَزَ مِنْ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ
حضرت سعید مقبری ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی آیا ، یہاں تک کہ مسجد کی طرف آیا ، سو اس نے اپنی سواری مسجد کے دروازے کے ساتھ باندھی ، پھر مسجد میں داخل ہوا، اس نے کہا : تم میں سے کون ہے ؟ یا کہا : تم میں ابن عبدالمطلب کون ہیں؟ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا : یہی سرخی مائل سفید رنگت والی شخصیت ہے جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں ، اس نے عرض کی : اے محمد !( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے سوالات تکلیف دہ ہیں ، میں آپ سے اس رب کے تصدق کا سوال کرتاہوں جو آپ سے پہلوں کا بھی رب اور بعد والوں کا بھی رب ہے، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: جی ہاں! پھر اس نے پوچھا : میں آپ سے اس ذات کے طفیل پوچھتا ہوں کہ کیا اس نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ دن رات میں پانچ نمازیں ادا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! پھر اس نے پوچھا : میں اس ذات کے طفیل دریافت کرتا ہوں کہ کیا اس نے آپ کو سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک ماہ میں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں! پھراس نے پوچھا : میں اس ذات کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اس ذات نے آپ کو بیت اللہ کے حج کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں! پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اس ذات کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اس نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے مال وصول کریں اور اس مال کو ہمارے غریبوں پر خرچ کر دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر جواباً فرمایا : جی ہاں ! بعداز یں وہ عرض گزار ہوا: میں آپ پر ایمان لایا اور آپ کی تصدیق کی اور میں اپنے پیچھے چھوڑ کر آنے والی قوم کا قاصد ہوں اور میں ہی ضمام بن ثعلبہ ہوں ، بہر حال شومئی قسمت کہ ہم زمانہ جاہلیت میں ان کی عزت و احترام بجا لانے سے اجتناب کرتے تھے ،۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ضمام بن ثعلبہ سے بڑھ کر فصیح و بلیغ شخص نہیں دیکھا ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← الْعُمَرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2449
