Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2395

2395 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ جَابِرٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَتَاهُ مَوْلًى لَهُ فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا، يَعْنِي رَمَضَانَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: هَلْ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَّا لَا فَارْجِعْ فَدَعْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:39] يَقُولُ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ»

حضرت وہب بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں تھا ، آپ کے پاس آپ کا ایک غلام آیا ، اس نے عرض کی : میرا ارادہ ہے کہ میں پورا مہینہ یہاں رہوں ، یعنی رمضان کا مہینہ ، اس کو حضرت عبداللہ نے کہا : کیا تو نے اپنے گھر والوں کے لیے اتنا سازو سامان چھوڑا ہے جو ان کے لیے کافی ہو؟ اس نے عرض کی: نہیں! تو ( حضرت عبداللہ نے ) فرمایا :واپس جاؤ !سو اپنے گھر والوں کے لیے اتنا سازو سامان چھوڑ کر آؤ جو ان کے لیے تیرے آنے تک کافی ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا : آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو اس کےزیر کفالت ہیں ان کا حق ضائع کردے۔

«كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ» ← رَسُولَ اللَّهِ [ص:323] ← أَمَّا لَا فَارْجِعْ فَدَعْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ، فَإِنِّي ← لَا۔ ← لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: هَلْ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ؟ ← إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا، يَعْنِي رَمَضَانَ، ← شَهِدْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَتَاهُ مَوْلًى لَهُ ← وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2395

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2396

2396 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَكَانَ صَدُوقًا مُسْلِمًا، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ «يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، وَأَنَّهُمْ لَوْ أُرْسِلُوا عَلَى النَّاسِ لَأَفْسَدُوا عَلَيْهِمْ مَعَايِشَهُمْ، وَلَنْ يَمُوتَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَرَكَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ أَلْفًا [ص:40] فَصَاعِدًا، وَأَنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ ثَلَاثَ أُمَمٍ، تَاوِيلَ، وَتَارِيسَ وَمَنْسَكَ»

حضرت وہب بن جابر ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مثل حدیث بیان کرتے ہیں کہ مگر تھوڑا سا اس میں اضافہ ہے۔ کہا کہ وہ پھر ہم سے بیان کرنے لگے کہ یاجوج و ماجوج آدمی کی اولاد سے ہیں اور ان کو اگر لوگوں پر چھوڑ دیا جائے تو ان کی معیشت تباہ کردیں اور ان میں سے کوئی بھی مرتا تو اپنے پیچھے ایک ہزار سے زیاد اولاد چھوڑتا اور ان کے پیچھے تین قسم کی امتیں ہیں ، تاویل اور تاریس اور منسک۔

النَّبِيِّ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَكَانَ صَدُوقًا مُسْلِمًا، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2396

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2397

2397 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ عِنْدَهُ أَيَّامُ الْعَشْرِ فَقَالَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ [ص:41] أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَمَلُ فِيهِ مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَأَكْبَرَهُ وَقَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ وَكَانَ مُهْجَتُهُ فِيهِ»

حضرت عبداللہ بن باباہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ کے پاس ذی الحجہ کے دس دنوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا : کچھ ایام اللہ عزوجل کو عمل کےلحاظ سے زیادہ پسند ہیں جتنے پسند ذی الحجہ کے دن دنوں کے ہیں ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جہاد بھی نہیں ! وہ اس سے بڑا عمل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جہاد فی سبیل اللہ نہیں، مگر اس شخص کا جو اپنی ذات اور اپنے مال سمیت جہاد کے لیے نکلے اور ( راہ حق میں ) غبار آلود ہو جائے۔

عِنْدَهُ أَيَّامُ الْعَشْرِ ← حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2397

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2398

2398 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ أَيُّوبُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: «مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ تِيبَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِيَوْمٍ تِيبَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَاعَةٍ تِيبَ عَلَيْهِ» فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ} [النساء: 17] الْآيَةَ قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جس نے موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لی اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔اور جس نے مرنے سے ایک دن پہلے توبہ کر لی اس کی توبہ بھی قبول کی جائے گی۔اور جس نے مرنے سے ایک گھڑی پہلے توبہ کر لی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔راوی فرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے عرض کی کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: انما التوبۃ علی اللہ للذین یعملون السو ء بجھالۃ " توبہ صرف ان کے لیے ہے جو بڑائی کرے نہ جاننے کی بناء پر ۔ آپ نے فرمایا : میں وہی بیان کررہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ أَيُّوبُ ← رجل من بنى الحارث ← إبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2398

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2399

2399 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَطَفِقَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، يَقُولُ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ، فَقَالَ: «احْلِقْ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: فَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ أَوْ يَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ الْأُمُورِ بَعْضِهَا قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ إِلَّا [ص:43] قَالَ: «افْعَلُوا ذَلِكَ وَلَا حَرَجَ»

حضرت عیسیٰ بن طلحہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کے دن سواری پر سوار تھے، لوگوں نے آپ سے پوچھنا شروع کر دیا ، ایک آدمی نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری رائے میں رمی کرنے سے پہلے قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، سو میں نے قربانی کی ہے رمی سے پہلے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : رمی کرو کوئی حرج نہیں، دوسرے نے پوچھا : میں نہیں سمجھتا کہ حلق نحر سے پہلے ہے ، میں نے قربانی کی حلق سے پہلے ۔ آپ نے فرمایا : حلق کرالے کوئی حرج نہیں ہے، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس دن سے نہیں سنا مگر یہ کہ جو آپ سے پوچھا گیا کہ آدمی بھول کر یا انجانے کی بناء پر بعض امور پہلے کرلے ایک دوسرے سے ، مگر آپ نے یہی فرمایا کر لو کوئی حرج نہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2399

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2400

2400 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُجَادِلُوا فِي الْقُرْآنِ فَإِنَّ جِدَالًا فِيهِ كُفْرٌ»

حضر ت سلیمان بن یسار ،حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن میں نہ جھگڑو اس میں جھگڑنا کفر ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2400

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2401

2401 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي حُشٍّ مِنْ حُشَّانِ الْمَدِينَةِ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَقَرُبَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ رَفِيعُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَإِذَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَقَرُبَ يَحْمَدُ اللَّهَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ خَفِيضُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ» فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَرُبَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو [ص:45]، أَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: «أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ»

حضرت محمد بن عبید ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے باغوں میں سے کسی باغ میں تھے کہ ایک آدمی نے اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو اجازت دے دو، اور ساتھ ہی اسے جنت کی خوشخبری بھی دے دو دیکھا تو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔سو میں نے آپ کو اجازت بھی دی اور جنت کی خوشخبری بھی دی، آپ قریب ہوئے تو اللہ کی تعریف کی یہاں تک کہ بیٹھ گئے ۔ پھر ایک اور آدمی نے اجازت مانگی ، اس آدمی کی آواز اونچی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایااس کو اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو۔ تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے آپ کو اجازت اور جنت کی خوشخبری دی ، وہ قریب ہوئے تو اللہ کی تعریف کی اور بیٹھ گئے۔ پھر ایک اور آدمی نے اجازت چاہی ، اس آدمی کی آواز پست تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اس کو اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو اور ساتھ ہی اس پر آزمائش کی بھی جو اس کو پہنچے گی۔ پس میں نے ان کو اجازت دی اور جنت کی خوشخبری بھی دی تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے وہ قریب ہوئے اور اللہ کی حمد کی یہاں تک کہ بیٹھ گئے ۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں کہاں ہوں ؟ آپ نے فرمایا : تو اپنے باپ کے ساتھ ہوگا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَنَفِيِّ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2401

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2402

2402 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ: قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيََ، صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيََ، صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيََ»

حضرت ابو عیاض ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : مہینہ میں ایک روزہ رکھ تیرے لیے پورے ماہ کا ثواب ہوگا اور دو روزے رکھ تیرے لیے اس کے علاوہ کا ثواب ہوگا، تین روزے رکھ تیرے لیے اس کے علاوہ ثواب ہو گا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبَا عِيَاضٍ ← زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2402

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2403

2403 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ [ص:46] صَلَاةِ الْقَائِمِ»

حضرت ابو یحییٰ الاعرج ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ کر نماز پڑھنے کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے آدھا ثواب ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِی يَحْيَی الْأَعْرَجِ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2403

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2404

2404 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى قَوْمٍ يَتَوَضَّئُونَ، وَكَانَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: «أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ» أَوْ «لِلْعَرَاقِيبِ» قَالَ شُعْبَةُ أَحَدُهُمَا

حضرت ابو یحییٰ الاعرج ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قوم کے پاس ائے جو وضو کررہی تھی، اور آپ سفر کی حالت میں تھے، فرمایا : خوب اچھی طرح وضو کرو ، ہلاکت ہے ان اعقاب ( ایڑیوں ) کے لیے آگ کی۔ یا فرمایا: عراقیب کے لیے ۔ امام شعبہ ان دونوں میں سے ایک کے بارے میں فرماتے ہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِی يَحْيَی الْأَعْرَجِ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2404

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2405

2405 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ نُورًا مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ»

حضرت ابن دیلمی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے عرض کی : مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ یہ بیان کرتے ہیں کہ بد بخت وہ ہوتا ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت ہوگا؟ آپ نے فرمایا : میں کسی کے لیے جائز نہیں سمجھتا کہ وہ مجھ پر جھوٹ باندھے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ بے شک اللہ عزوجل نے مخلوق کو اندھیرے مین پیدا کیا ، پھر ان پر نور ڈالا اپنے نور سے ، جس کو اس نورسے کچھ پہنچا وہ ہدایت والا ہوگیا اور جس کو نہیں پہنچا وہ گمراہ ہو گیا۔

ابن الديلمي ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2405

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2406

2406 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَرْفَعُ الْعِلْمَ بِقَبْضٍ يَقْبِضُهُ، وَلَكِنْ يَرْفَعُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَحَدِّثُوا، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

حضرت عروہ بن زبیر ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ علم کو نہیں اٹھا ئے گا مگر تھوڑا تھوڑا کر کے لیکن علماء کو ان کے علم کے ساتھ اٹھائے گا یہاں تک کہ کوئی عالم نہیں رہے گا، لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے ان سے پوچھیں گے وہ ان کو بتائیں گے ، وہ خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

أَشْهَدُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2406

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter