Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2383

2383 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الذُّنُوبِ أَنْ يَسُبَّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَسُبُّ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: «يُسَابُّ الرَّجُلَ فَيَسُبُّ أَبَاهُ، أَوْ يَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ»

حضرت خالد ، حضرت عمرو بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو فرمایا : اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنے وعدہ کو سچ کیا، اور اپنے بندہ کی مدد کی ، اکیلے نے لشکر کو بھگا دیا ، خبر دار ! ہر خاندانی عزت جو قابل تعریف اور تسلیم شدہ تھی، ہر خون اور ہر مال میرے ان دو پاؤں کے نیچے ہے سوائےخانہ کعبہ کی حرمت اور حجاج کو پانی پلانے کے۔

«إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الذُّنُوبِ أَنْ يَسُبَّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ» قِيلَ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2383

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2384

2384 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، يَحْسَبُهُ خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَتَحَ مَكَّةَ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأَثَرَةٍ تُعَدُّ وَتُدْعَى وَدَمٍ وَمَالٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ إِلَّا السِّدَانَةَ وَالسِّقَايَةَ»

حضرت ریحان بن یزید ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا : صدقہ مال دار کے لیے اور قوت والے کے لیے لینا حلال نہیں ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، يَحْسَبُهُ خَالِدٌ، ← الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2384

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2385

2385 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ»

حضرت ابو کثیر زبیدی ،حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتےہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے اندھیرے میں ہوگا اور تم بے حیائی سے بچو بے شک اللہ عزوجل بے حیائی کرنے اور بے حیائی پھیلانے والے کو پسند نہیں کرتا ہے اور تم بخل سے بچو کیونکہ اس سے تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے رشتہ داری کاٹنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے کاٹا اور ان کو بخل کا حکم دیا گیا تو انہو ں نے بخل کیا اور ان کو بے حیائی کا حکم دیا تو انہوں نےبے حیائی کی۔ تو ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کون سااسلام افضل ہے ؟ حضرت شعبہ فرماتےہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے ۔ اور مسعودی فرماتے ہیں کہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تیری زبان اور تیرے ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ تو یہی آدمی یا اس کے علاوہ کوئی کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا : تیراکسی کو چھوڑنا جسے تیرا رب ناپسند کرے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ ہجرتیں دو ہیں ۔شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت ، دیہاتی کی ہجرت یہ ہے کہ وہ قبول کرے جب اس کو دعوت دی جائے اور اطاعت کرے جب اس کو حکم دیا جائے، بہر حال شہری کی ہجرت ان دونوں سےبڑی آزمائش ہے اور ان دونوں سے زیادہ ثواب ہے۔ مسعودی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کونسا شہید افضل ہے: فرمایا : یہ کہ تیرے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور تیرا خوں بہا دیا جائے۔

«لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ» ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2385

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2386

2386 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو [ص:30] بْنِ مُرَّةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا» فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ "؟ قَالَ شُعْبَةُ: «مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: «أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ» فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ» وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ، هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا الْبَادِي فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ، وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً، وَأَفْضَلُهُمَا أَجْرًا» وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَنَادَاهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْ يُعْقَرَ جَوَادُكَ وَيُهْرَاقَ دَمُكَ»

حضرت عطاء بن سائب اپنے والد سے ، وہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا : تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نےعرض کی : ایک دن اور دو راتوں میں ، کہا کہ آپ کم کرتے رہے اور میں کم کرتا رہا یہاں تک کہ فرمایا : سات دنوں میں مکمل قرآن پڑھ لیا کرو۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو [ص:396] بْنِ مُرَّةَ، ← شُعْبَةُ وَالْمَسْعُودِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2386

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2387

2387 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟» قُلْتُ: فِي يَوْمٍ وَلَيْلَتَيْنِ، قَالَ: فَنَاقَصَنِي وَنَاقَصْتُهُ حَتَّى قَالَ: «اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ»

حضرت مجاہد ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے کسی غیر کو اپنا باپ بنایا وہ جنت کی خوشبو ہر گز نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے، سو جب یہ حضرت جنادہ بن بنی امیہ نے دیکھا اور معاویہ نے ارادہ کی تھا کہ ان کو ان سے منسوب کریں تو حضرت جنادہ نے فرمایا : میں بنو کنانہ کے قبیلے سے ہوں، آپ مجھے جس سے چاہیں منسوب کردیں ۔

«اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ» ← فَنَاقَصَنِي وَنَاقَصْتُهُ حَتَّى ← لِي رَسُولُ اللَّهِ «فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟» قُلْتُ: فِي يَوْمٍ وَلَيْلَتَيْنِ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2387

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2388

2388 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَلَنْ يَرَاحَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا» فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَرَادَ أَنْ يَدَّعِيَهُ، قَالَ جُنَادَةُ: إِنَّمَا أَنَا سَهْمٌ مِنْ كِنَانَتِكَ، فَارْمِ بِي حَيْثُ شِئْتَ

حضرت یزید بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے سمجھا نہیں ہے جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2388

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2389

2389 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ» يَعْنِي الْقُرْآنَ

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2389

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2390

2390 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک پہاڑی پر رہنے اجڈ مزدور اعرابی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ) آیا ، پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں ہجرت کے متعلق آگاہ فرمائیں ! کیا ہجرت اس علاقے کو چھوڑنے کا نام ہے جہاں آپ سکونت پذیر تھے؟ یا کسی خاص جگہ پر جانے کا نام ہے؟ یا کسی قوم کے لیے خاص ہے؟یا جب آپ کا انتقال ہوجائے گا تو ہجرت ختم ہو جائےگی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات سن کر خاموش ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد پوچھا: سوال کرنے والا کہا ں ہے؟ وہ اعرابی کہتے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں یہاں ہوں ، تو آپ نے فرمایا : ہجرت سے مراد یہ ہے کہ تم ظاہری اور مخفی برائیوں سے اجتناب کر لو، پھر تم جہاجر ہو، اگر چہ تمہاراانتقال شہر میں ہی کیوں نہ ہو۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2390

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2391

2391 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حَنَانَ بْنِ خَارِجَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ عُلْوِيٌّ جَرِيءٌ جَافٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الْهِجْرَةِ، أَهِيَ إِلَيْكَ حَيْثُ كُنْتَ؟ أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْرُوفَةٍ؟ أَمْ لِقَوْمٍ خَاصَّةً؟ أَمْ إِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الْهِجْرَةُ أَنْ تَهْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، ثُمَّ أَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مِتَّ فِي الْحَضَرِ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَخَلْقٌ تُخْلَقُ، أَمْ نَسْجٌ تُنْسَجُ؟، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِمَّ تَضْحَكُونَ؟ أَمِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا؟» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ تَتَشَقَّقُ عَنْهَا ثَمَرُ الْجَنَّةِ، بَلْ تَتَشَقَّقُ عَنْهَا ثَمَرُ الْجَنَّةِ» مَرَّتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا تَقُولُ فِي الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ؟ فَقَالَ [ص:36]: «يَا عَبْدَ اللَّهِ، ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَاغْزُهَا، وَابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَجَاهِدْهَا، فَإِنَّكَ إِنْ قُتِلْتَ فَارًّا بَعَثَكَ اللَّهُ فَارًّا، وَإِنْ قُتِلْتَ مُرَائِيًا بَعَثَكَ اللَّهُ مُرَائِيًا، وَإِنْ قُتِلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللَّهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا»

حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سوال کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ہمیں جنتیوں کے کپڑوں کےمتعلق بتائیں ، کیا ان کپڑوں کو پیدا کیا جائےگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے جبکہ کچھ لوگ مسکرانے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کیوں ہنس رہے ہو؟ کیا اس جاہد کی وجہ سے جو عالم بن کر سوال کررہا ہے؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سائل کے متعلق دریافت کیا تو اس نے جواب دیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں یہاں ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جنتی پھل اس سے الگ ہوجائے گا بلکہ جنتی پھل اس سے دو مرتبہ علیحدہ ہو جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : ہجرت اور جہاد کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ ! اپنی ذات سے شروع کر اور اسی سے جہاد کر، یعنی جہاد بالنفس کر ، اپنی ذات سے ہی جہاد کر، اگر تو راہ فرار اختیار کرتا ہوا شہید کردیا گیا تو اللہ تعالیٰ تجھے فرار ہوتے ہوئے اٹھا ئے گا اگر تو ریا کاری کرتا ہوا شہید کردیا گیا تو اللہ تعالیٰ تجھے ریاکاری کرتے ہوئے ( قیامت کے دن ) اٹھائے گا، اگر تو نے صبر کرتے ہوئے اور احتساب کرتےہوئے جام شہادت نوش کیا تو اللہ تعالیٰ تجھے اسی حالت میں اٹھائے گا۔

جَاءَ أَعْرَابِيٌّ عُلْوِيٌّ جَرِيءٌ جَافٍ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2391

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2392

2392 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّ هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهَا»

حضرت جبیر بن نفیر کا بیان ہے کہ ان سے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر زرد رنگ کے دو کپڑے دیکھے تو فرمایا : اے عبداللہ ! یہ کپڑے کفار کے ہیں ، تو اس کو نہ پہن۔

رَأَی رَسُولُ اللَّهِ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ ← إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ← خالد بن معدان أن جبير بن نفير ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2392

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2393

2393 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَتَمُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهِ سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْهُ» فَقِيلَ: وَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ: «يَذْبَحُهُ فَيَأْكُلُهُ وَلَا يَقْطَعْ رَأْسَهُ فَيُرْمَى بِهِ»

حضرت صہیب مولیٰ حضرت ابن عامر ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے چڑیا کو بغیر حق کے مارا اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے پوچھے گا۔ آپ سے عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نےفرمایا : اس کو ذبح کرنا اور اس کے بعد اس کو کھانا، اس کے سر کو نہ کاٹا جائے اور اس کو پھینک دیا جائے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← صُهَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَامِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَتَمُّ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2393

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2394

2394 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ هِلَالٍ أَوْ هِلَالَ بْنَ طَلْحَةَ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَوْمُ ثَلَاثَةٍ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ، مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ: «فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا»

حضرت طلحہ بن ہلال یا ہلال بن طلحہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :ہر ماہ کے تین روزے رکھنا سال بھر روزے رکھنے کے برابر ثواب ہے، جو ایک نیکی کرے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام والا روزہ رکھ ، ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← طَلْحَةَ بْنَ هِلَالٍ أَوْ هِلَالَ بْنَ طَلْحَةَ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2394

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter