Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2334

2334 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ»

حضرت حمزہ بن ابو سعید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا : سنو! اس قوم کا کیا حال ہے جو یہ خیال کرتی ہے کہ میرا رشتہ کسی کو نفع نہیں دے گا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! میری رشتہ داری دنیا اور آخرت میں ملی ہوئی ہے، سنو لوگو! میں تمہارا حوض پر پیش رو ہوں گا، اور سنو! عنقریب ایک قوم قیامت کے دن آئے گی، پس ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں فلاں بن فلاں ہوں ،تو میں کہوں گا : نسب کو تو میں نے پہچانتا ہوں ، لیکن تم میرے بعد مرتد ہوگئے تھے، تم ایڑیوں کے بل پھر گئے تھے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2334

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2335

2335 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَا مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَحِمِي لَا تَنْفَعُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ رَحِمِي لَمَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، أَلَا وَإِنِّي فَرَطُكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ عَلَى الْحَوْضِ، أَلَا وَسَيَجِيءُ قَوْمٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ [ص:670]، فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَأَقُولُ: أَمَّا النَّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُ، وَلَكِنَّكُمُ ارْتَدَدْتُمْ بَعْدِي، وَرَجَعْتُمُ الْقَهْقَرَى "

حضرت عبداللہ بن عتبہ ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دوپٹے میں ملبوس کنواری لڑکی سے بڑھ کر شرمیلے تھے، اور جب آپ کسی شئے کو ناپسند کرتے تھے تو ہم آپ کے چہرے سے پہچان جاتے تھے۔

خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عمرو بن ثابت ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2335

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2336

2336 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ»

حضرت سلیمان بن ابی سلیمان ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایسے حکمران آئیں گے جو ظلم کریں گے اور جھوٹ بولتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے، جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی، وہ مجھ سے نہیں اور میں ان سے نہیں ۔ عمران کا قول ہے: لوگوں میں سے درست ان کے پاس بار بار آئے گا۔ اور شعبہ کا قول ہے: اہل و عیال یا دوستوں میں سے کوئی ان کے پاس آئے گا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2336

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2337

2337 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَعِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ أُمَرَاءُ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ يَأْتِيهِمْ» قَالَ عِمْرَانُ: «غَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ» وَقَالَ شُعْبَةُ: «حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ»

حضرت ابراہیم انصاری ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے حدیبیہ کے دن بال منڈوائے سوائے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت ابو قتادہ کے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین مرتبہ اور کٹوانے والوں کے لیے ایک مرتبہ بخشش کی دعا مانگی۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، وَعِمْرَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2337

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2338

2338 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ «حَلَقُوا رُءُوسَهُمْ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ إِلَّا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأَبَا قَتَادَةَ، فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً»

حضرت ابوالمتوکل، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سونا سونے کےبدلے ، اور چاندی چاندی کے بدلے، برابر برابر فروخت کرو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أبي إبراهيم الأنصاري ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2338

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2339

2339 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ»

حضرت عیاض ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہم صدقہ فطر ایک ایک صاع نکالتے تھے، اگرچہ لوگوں کا کھانا اس وقت کھجور کشمش ہوتی تھی۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2339

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2340

2340 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: «كُنَّا نُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى [ص:673] عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا صَاعًا، وَإِنْ كَانَ طَعَامُهُمْ يَوْمَئِذٍ التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ»

حضرت حمید بن عبدالرحمٰن ،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب تھوک دیکھا ، تو آپ نے اسے اپنے عصا کے ساتھ اس کو کھرچ دیا اور فرمایا : تم میں سے کوئی بھی اپنے اگے اور دائیں جانب نہ تھوکے ، لیکن ( اگر تھوکنا ہے تو) اپنے بائیں جانب اور یا قدموں کے نیچے ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عِيَاضٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2340

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2341

2341 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ وَقَالَ: «لَا يَبْزُقِ الرَّجُلُ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ»

حضرت علاء بن عبدالرحمٰن مولیٰ حرقہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے تہبند کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن کا یا فرمایا : مسلمان کا تہبند دونوں پنڈلیوں کے نصف تک ہوتا ہے۔سو جو اس کے نیچے ہو گا وہ جہنم میں ہوگا، اللہ عزوجل اس کیطرف نظر رحمت نہیں فرماتا جو اپنے تہبند کو تکبر سے نیچے لٹکاتا ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2341

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2342

2342 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى الْحُرَقَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنِ الْإِزَارِ، فَقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ» أَوْ قَالَ: «الْمُسْلِمِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ، مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، فَمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ، لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا»

حضرت ابوالحکم کہتے ہیں کہ مجھے میرے بھائی نے خبر دی کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جرو دباء ، مزفت میں پینے سے منع فرمایا اور خشک اور تر کھجوروں کو ملا کر یعنی نبیذ بنانے سے منع کیا۔

الْإِزَارِ فَقَال عَلَی الْخَبِيرِ سَقَطْتَ ← سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2342

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2343

2343 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَخِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ، وَأَنْ يُخْلَطَ بَيْنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ» يَعْنِي: النَّبِيذَ

حضرت عبید اللہ بن عبداللہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا ۔امام زہری سے سوال کیا گیا: اختناث الاسقیہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا : اس سے منہ لگا کر پینا۔

الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ، وَأَنْ يُخْلَطَ بَيْنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ» يَعْنِي: النَّبِيذَ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَخِي ← أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2343

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2344

2344 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ "، فَسُئِلَ الزُّهْرِيُّ: مَا اخْتِنَاثُ الْأَسْقِيَةِ؟ قَالَ: الشُّرْبُ مِنْ أَفْوَاهِهَا

حضرت عبدالرحمٰن بن ابو سعید خدری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم غزوہ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کیونکہ کفار نے ہم کو پانچ نمازوں سے مشغول رکھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ ہر نماز کے لیے اقامت کہیں ، یہ بات " فان خفتم فرجالا او رکبانا" نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔

الشُّرْبُ مِنْ أَفْوَاهِهَا ← اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ فَسُئِلَ الزُّهْرِيُّ: مَا اخْتِنَاثُ الْأَسْقِيَةِ؟ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2344

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2345

2345 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَشُغِلْنَا عَنْ صَلَوَاتٍ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِقَامَةً، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ: {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا} [ص:677][البقرة: 239] "

حضرت اغر کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہا پر گواہ ہوں کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ( کی رحمت ) تہائی رات کے وقت آسمان دنیا پر اترتا ہے ، پس فرماتا ہے : ہے کوئی مانگنے والا؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا؟ ہے کوئی اپنے گناہوں کی بخشش مانگنے والا؟ ایک آدمی نے آپ سے عرض کی : فجر طلوع ہونے تک ؟ آپ نے فرمایا : ہاں !

كنا مع رسول الله يوم الخندق، فشغلنا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2345

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter