Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2322

2322 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ؛ الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ»

حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کہ امام حماد فرماتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق یہ مرفوع ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا : سارے اعضاء زبان سے کہتے ہیں : ہمارے معاملے میں اللہ سے ڈرنا اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے ہوں گے، اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی ہے تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ الْحُدَّانِيِّ، ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← صدقة بن موسى ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2322

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2323

2323 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ حَمَّادٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا مَرْفُوعًا، قَالَ: " الْأَعْضَاءُ تُكَفِّرُ اللِّسَانَ، تَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ فِينَا، فَإِنَّكَ إِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا، وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا "

حضرت علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب مولیٰ حرقہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے کہا : مجھے آپ سے کچھ کام ہے، میں نے گمان کیا کہ ہو سکتا ہے کہ کچھ دنیا کا سوال کرنا ہو، میں نے عرض کی: اے ابا جان ! مانگیں جو چاہیں ! فرمایا : میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو جمعہ کی نماز کے لیے جلدی جایا کرو کیونکہ میں نے حضرت ابو سعید سے سنا انہوں نےفرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فرشتے جمعہ کے لوگوں کو لکھتے ہیں ، سب سے پہلے آنے والے کے لیے ایک اونٹ صدقہ کرنے کا ثواب لکھا جاتا ہے ، اس کے بعد آنے والے کے لیے ایک گائے صدقہ کرنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والے کے لیے ایک بکری صدقہ کرنے کا ثواب لکھا جاتا ہے، اس کے بعد آنے والے کے لیے ایک پردہ صدقہ کرنے کا ثواب لکھا جاتا ہے ، اس کے بعد آنے والے کے لیے ایک انڈہ صدقہ کرنے کا ثواب لکھا جاتا ہے ، جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو صحیفوں کو لپیٹ دیا جاتا ہے۔

حماد ولا أعلمه إلا مرفوعا ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الصَّهْبَاءِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2323

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2324

2324 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ، قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ شَيْئًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَهْ، سَلْ مَا شِئْتَ، قَالَ: فَإِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ تُبَكِّرَ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ؛ فَكَالْمُهْدِي بَعِيرًا، وَكَالْمُقَدِّمِ بَقَرَةً، وَكَالْمُقَدِّمِ شَاةً، وَكَالْمُقَدِّمِ طَائِرًا، وَكَالْمُقَدِّمِ بَيْضَةً، فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ طُوِيَتِ الصُّحُفُ»

حضرت ھلال بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ شریف آیا تو میں حضرت ابو سعید کے گھر اترا ، مجھے آپ نے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور آپ کی مجلس لگی ہوئی تھی، میں نے آپ سے سنا ، آپ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں مجھے بھوک لگی ہوتی تھی یہاں تک کہ میں نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیے ، مجھے میری بیوی نے کہا : کاش ! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جائیں ، آپ سے مانگیں ! کیونکہ آپ کے پاس فلاں آیا تھا اس نے سوال کیا تھا تو آپ نے اس کو عطا کیا تھا ، فلاں بھی آیا تھا ، اس نے آپ سے مانگا تھا تو آپ نے اس کو بھی عطا کیا تھا۔ میں نے کہا میں آپ سے نہیں مانگوں گا یہاں تک کہ کوئی شئے نہ پاؤں ، سو میں تلاش کے لیے نکلا میں نے کوئی شئے نہ پائی تو میں آپ کی طرف جانے کے لیے چلا ، میں نے آپ کو خطبہ دیتے ہوئے پایا ، سو میں نے آپ کا یہ ارشاد سنا : جو سوال کرنے سے بچنا چاہے اللہ تعالیٰ اسے بچا لیتا ہے اور جو بے نیازی کا طالب ہو اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کردیتا ہے۔ اور جو ہم سے مانگے یا تو ہم اسے عطا کردیتے ہیں یا ہم اس کی مدد کرتے ہیں ، جس کو ہم نہ دیں جو ہم سے مانگتا نہیں ، ہم کو زیادہ محبوب ہے اس سے جو ہم سے مانگے۔ سو میں واپس چلا آیا اور میں نے اس کے بعد کوئی شئے نہیں مانگی ، اس کے بعد میرے گھر والوں کے پاس دنیا اتنی آگئی کہ میں انصار کے گھر والوں میں سب سے زیادہ مال دار تھا۔

لِي أَبِي: ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَى الْحُرَقَةِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2324

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2325

2325 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ حُصَيْنٍ، يَقُولُ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ فِي دَارِهِ، فَضَمَّنِي وَإِيَّاهُ الْمَجْلِسُ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، قَالَ: أَصَابَنِي جُوعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى شَدَدْتُ عَلَى بَطْنِي حَجَرًا، فَقَالَتْ لِي امْرَأَتِي: لَوْ أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتَهُ، فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ، وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ، فَقُلْتُ: لَا أَسْأَلُهُ حَتَّى لَا [ص:663] أَجِدُ شَيْئًا، فَالْتَمَسْتُ فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا، فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ فَوَافَقْتُهُ يَخْطُبُ، فَأَدْرَكْتُ مِنْ قَوْلِهِ: «مَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلْنَا فَإِمَّا أَنَّ نَبْذُلَ لَهُ، وَإِمَّا أَنْ نُوَاسِيَهُ، وَمَنِ اسْتَغْنَى عَنَّا أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّنْ سَأَلْنَا» فَرَجَعْتُ فَمَا سَأَلْتُ أَحَدًا بَعْدَهُ شَيْئًا، فَجَاءَتِ الدُّنْيَا، فَمَا أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَكْثَرَ أَمْوَالًا مِنَّا

حضرت ابو صدیق سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو اندھیرے میں مسجد کی طرف جاتے ہیں ، قیامت کے دن ان کے لیے نور تام ہوگا( یہ اندھیرے میں چلنا)۔

أَصَابَنِي جُوعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى شَدَدْتُ عَلَى بَطْنِي حَجَرًا، ← قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ فِي دَارِهِ، فَضَمَّنِي وَإِيَّاهُ الْمَجْلِسُ، ← هِلَالَ بْنَ حُصَيْنٍ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2325

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2326

2326 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي ظُلَمِ اللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا کھانا نیک لوگ کھائیں ، اور تو دوست صرف مؤمن ہی کو بنانا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبُو الصِّدِّيقِ، ← عَبْدُ الْحَكَمِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2326

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2327

2327 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الشَّامِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ، وَلَا تَصْحَبْ إِلَّا مُؤْمِنًا»

حضرت عطاء بن یزد لیثی ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم اذان سنو تو اس کا جواب انہیں الفاظ کے ساتھ دو۔

«لَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ، وَلَا تَصْحَبْ إِلَّا مُؤْمِنًا» ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ ← حيوة بن شريح الشامي ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2327

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2328

2328 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُنَادِي يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ»

حضرت ابوالمتوکل ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے وطی کرنے کے بعد دوبارہ وطی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ وہ وضو کر لے۔

«إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُنَادِي يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2328

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2329

2329 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْعَوْدَ فَلْيَتَوَضَّأْ»

حضرت عمرو بن سلیم زرقی ، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے اور خوشبو لگانا اور مسواک کرنا ، رہا غسل تو میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ واجب ہے اور مسواک اور خوشبو کے بارے اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ واجب ہے یا نہیں ، لیکن فرمایا گیا : اسی طرح ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبَا الْمُتَوَكِّلِ، ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2329

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2330

2330 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ، وَأَنْ يَمَسَّ مِنْ طِيبٍ، وَأَنْ يَسْتَاكَ» فَأَمَّا الْغُسْلُ فَأَشْهَدُ أَنَّهُ وَاجِبٌ، وَأَمَّا الِاسْتِنَانُ وَالطِّيبُ فَاللَّهُ أَعْلَمُ وَاجِبٌ أَمْ لَا، وَلَكِنْ هَكَذَا قَالَ

حضرت داؤد سراج ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نےدنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ریشم نہیں پہنے گا، اگرچہ وہ جنت میں داخل ہو ، لیکن وہ ( وہاں ) ریشم نہیں پہنے گا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2330

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2331

2331 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ دَاوُدَ السَّرَّاجِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ لَبِسَهُ أَهْلُ الْجَنَّةُ وَلَمْ يَلْبَسْهُ هُوَ»

حضرت سعید بن مسیب سےروایت ہےکہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ریان کھجور لائی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کھجور خشک تھی، آپ نے اپنے خادم سے فرمایا : یہ تمہارے لیے ہے ، کہاں سے آئی ؟ اس نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ ایک صاع ہم نے دو صاع کھجور کے بدلے خریدی ہے، آپ نے فرمایا : ایسانہ کرنا ، اپنی کھجور فروخت کر ، پھر اس سے اپنی ضرورت کی خرید۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← دَاوُدَ السَّرَّاجِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2331

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2332

2332 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ، وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا، أَيْ فِيهِ يُبْسٌ، فَقَالَ لِخَادِمِهِ: «أَنَّى لَكُمْ هَذَا؟» قَالَ: بِعْنَا صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا، فَقَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ، بِعْ تَمْرَكَ، ثُمَّ اشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ»

حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سب سے بڑا چور وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے، لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! نماز میں کیسے چوری ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا : جو رکوع اور سجدہ نماز میں مکمل نہیں کرتا ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2332

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ · حديث 2333

2333 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ؟ قَالَ: «لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا»

حضرت ابوالمتوکل ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنتم ، نقیر ، مزفت سے منع کیا ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2333

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter