مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2156
2156 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ النِّسَاءُ يَدْخُلْنَ بِالْقِرَبِ يَوْمَ أُحُدٍ»
حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خالو حضرت انس بن نضر آئے جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے وہ اس کو بہت عظیم سمجھتے تھے ، اور کہا کہ پہلی جنگ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود شریک ہوئےتھے میں شریک نہیں ہوسکا۔اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے موقع دیا اس کے بعد کسی اور جنگ کا پھر ضرور اللہ بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ وہ اس کےعلاوہ کچھ کہتے کو عیب سمجھتے ۔ پس جب اگلے سال احد کا دن آیا تو وہ ( حضرت انس بن نضر ) شریک ہوئے ۔ انہوں نے حضرت سعد بن معاذ کو بھاگتے ہوئے دیکھا ۔ ( حضرت انس بن نضر نے) کہا: اے ابو عمرو ! کہا ں جارہے ہو۔ میں احد کی جانب سے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں ۔ سو آپ لڑے اور شہید ہو گئے۔ ان کے جسم پر اٹھا سی سے زائد تلوار ، نیزے اور تیر کے زخم پائے گئے۔ ان کی بہن ربیع بنت نضر فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں نے اپنے بھائی کو صرف اس کے پوروں سے پہچانا تھا۔ ان کے پورے بہت حسین تھے ۔ کہا کہ یہ آیت انہی کے متعلق اتری: " اہل ایمان میں کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے وعدہ کرتے ہیں تو اس کو پورا کر دیتے ہیں " ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم خیال کرتے تھے کہ یہ آیت انہیں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
«كَانَ النِّسَاءُ يَدْخُلْنَ بِالْقِرَبِ يَوْمَ أُحُدٍ» ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Hadith 2156
