Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2156

2156 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ النِّسَاءُ يَدْخُلْنَ بِالْقِرَبِ يَوْمَ أُحُدٍ»

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے خالو حضرت انس بن نضر آئے جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے وہ اس کو بہت عظیم سمجھتے تھے ، اور کہا کہ پہلی جنگ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود شریک ہوئےتھے میں شریک نہیں ہوسکا۔اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے موقع دیا اس کے بعد کسی اور جنگ کا پھر ضرور اللہ بھی دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ وہ اس کےعلاوہ کچھ کہتے کو عیب سمجھتے ۔ پس جب اگلے سال احد کا دن آیا تو وہ ( حضرت انس بن نضر ) شریک ہوئے ۔ انہوں نے حضرت سعد بن معاذ کو بھاگتے ہوئے دیکھا ۔ ( حضرت انس بن نضر نے) کہا: اے ابو عمرو ! کہا ں جارہے ہو۔ میں احد کی جانب سے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں ۔ سو آپ لڑے اور شہید ہو گئے۔ ان کے جسم پر اٹھا سی سے زائد تلوار ، نیزے اور تیر کے زخم پائے گئے۔ ان کی بہن ربیع بنت نضر فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں نے اپنے بھائی کو صرف اس کے پوروں سے پہچانا تھا۔ ان کے پورے بہت حسین تھے ۔ کہا کہ یہ آیت انہی کے متعلق اتری: " اہل ایمان میں کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے وعدہ کرتے ہیں تو اس کو پورا کر دیتے ہیں " ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم خیال کرتے تھے کہ یہ آیت انہیں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

«كَانَ النِّسَاءُ يَدْخُلْنَ بِالْقِرَبِ يَوْمَ أُحُدٍ» ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2156

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2157

2157 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ [ص:527] ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " جَاءَ خَالِي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَبِهِ سَمِّيتُ، لَمْ يَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا، فَعَظُمَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَقَالَ: أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِبْتُ عَنْهُ، أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِي اللَّهُ مَشْهَدًا بَعْدَهُ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ، قَالَ: فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، شَهِدَ فَرَأَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ مُنْهَزِمًا، فَقَالَ: أَيْنَ يَا أَبَا عَمْرٍو؟ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهَا دُونَ أُحُدٍ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَوُجِدَ بِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مَا بَيْنَ ضَرْبَةٍ وَطَعَنَةٍ وَرَمْيَةٍ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ: وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُ أَخِي إِلَّا بِبَنَانِهِ، كَانَ حَسَنَ الْبَنَانِ، قَالَ: وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: 23] الْآيَةَ قَالَ أَنَسٌ: فَكُنَّا نَرَى أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ "

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے حضرت فاطمہ نے فریاد کی: ہائے آپ کی مصیبت ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: بے شک آج کے دن کے بعد تیرے بابا پر کوئی تکلیف نہیں آئے گی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2157

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2158

2158 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ»

حضرت عمارہ بن زاذان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ثابت کے پاس اور ان کے پاس ایک بزرگ تھے۔ ہم نے ذکر کیا کہ نماز عیدین میں کیا پڑھا جائے ۔ تو اس شیخ نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک کی زاویہ میں عید کے دن صحبت اختیار کی ۔ اس وقت آپ کے غلام نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی ، تو اس وقت آپ کے غلام نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی ، تو اس نے سبح اسم ربک الا علیٰ واللیک اذا یغثی پڑھی ۔ حضرت انس فرمانے لگے : یہ ہی دو سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز میں پڑھی تھیں ۔

فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمِ» ← لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2158

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2159

2159 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ثَابِتٍ، وَعِنْدَهُ شَيْخٌ، فَذَكَرْنَا مَا يُقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ، فَقَالَ الشَّيْخُ: صَحِبْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ إِلَى الزَّاوِيَةِ يَوْمَ عِيدٍ، وَإِذَا مَوْلًى لَهُ يُصَلِّي بِهِمْ، فَقَرَأَ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى فَقَالَ أَنَسٌ: «لَقَدْ قَرَأَ بِالسُّورَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدِ»

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا میں اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ حضرت امام شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی بن زید کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ نے یہ نماز استقاء میں کیا تھا۔ میں نے کہا : اس کو میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے ۔ تو انہوں فرمایا: سبحان اللہ۔

عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2159

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2160

2160 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ» قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، قُلْتُ: سَمِعْتُهُ مِنْ أَنَسٍ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت انجشہ عورتوں کی سواریوں کو چلاتے تھے، حضرت انجشہ ایسے آدمی تھے جن کی آواز بڑی اچھی تھی اور جب حدی گاتے تو اونٹ تیز چلتے تھے، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے انجشہ ! تیرے لیے ہلاکت ہو! ٹھہر ٹھہر کر تو شیشوں کا چلا۔

مِنْ أَنَسٍ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ ← شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، قُلْتُ: ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ. ← أَنَسًا ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2160

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2161

2161 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ أَنْجَشَةُ يَحْدُو بِالنِّسَاءِ، وَكَانَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ يَحْدُو بِالرِّجَالِ، وَكَانَ أَنْجَشَةُ حَسَنَ الصَّوْتِ، وَكَانَ إِذَا حَدَا أَعْنَقَتِ الْإِبِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس بیماری میں تشریف لائے جس میں آپ کا انتقال ہوا تھا۔ تو آپ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، وہ پاکدامن اوربرد بار یعنی صبر کرنے والے لوگ ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2161

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2162

2162 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَ: «أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سب سے پہلی چیز جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی وہ آگ ہے، تمہیں مشرق سے مغرب کی جانب اکٹھا کرے گی۔

«أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ» ← دَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى النَّبِيِّ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، ← أَنَسٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2162

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2163

2163 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ نَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ مچھلی کا جگر تلا ہوا ہوگا۔

«أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ نَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2163

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2164

2164 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ»

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہود کی عورت کو جب حیض آتا تو نہ اس کے ساتھ کھاتے اور نہ پیتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھا رہتے تھے۔ پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری : " آپ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں آپ فرمائیں وہ گندگی ہے" حتی یطھرن تک ۔ سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ کھائیں اور پئیں اور انہیں گھروں میں اکٹھا رکھیں اور وہ جو چاہیں کریں سوائے جماع کے ۔ یہودی کہنے لگے : اس آدمی نے اس سے کیا مراد لیا ہے کہ وہ ایسی چیز کو چھوڑ دے سوائے اس کے کہ وہ ہمارے معاملات کی مخالفت کرے۔ سو حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر آئے ۔ انہوں نے یہودیوں کی اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم ان سے جماع نہ کریں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا یہاں تک کہ ہم کو گمان ہوا کہ ہم دونوں کی بات پر غصہ کیا ہے پس وہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ تو پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ کا ہدیہ لے کر آئے ۔ تو آپ نے ان دونوں کے پیچھے انہیں بھیجا حتیٰ کہ ان دونوں نے دودھ پیا۔ تو ان کو یقین ہو گیا کہ ان پر غصہ نہیں کیا گیا۔

«أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2164

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2165

2165 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنَ الْيَهُودِ إِذَا حَاضَتْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُشَارِبُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى} [البقرة: 222] إِلَى قَوْلِهِ: {حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: 222] ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَأَنْ يُشَارِبُوهُنَّ وَأَنْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَيَفْعَلُوا مَا شَاءُوا إِلَّا الْجِمَاعَ " فَقَالَتِ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَذَكَرَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُجَامِعُهُنَّ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ، فَجَاءَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةُ لَبَنٍ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا حَتَّى سَقَاهُمَا مِنَ اللَّبَنِ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو دو ادمی اللہ کے لیے باہم محبت کرتے ہیں ان میں سے افضل وہ ہے جو اپنے صاحب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2165

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2166

2166 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَحَابَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ أَفْضَلَهُمَا أَشَدُّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ کو سات اروس کے بدلے میں خریدا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2166

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2167

2167 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ [ص:534]، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اشْتَرَى صَفِيَّةَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ»

امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ ہم سے ایک شخص نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت نضر بن انس سے سنا ، اس شخص نے ایک حدیث کو دوسری حدیث سے ملا دیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت مالک جو حضرت انس کے والد ہیں ، انہوں نے اپنی بیوی حضرت ام سلیم سے کہا، یہ حضرت انس کی والد ہ ہیں کہ اس آدمی نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کو حرام قرار دیا ہے۔ سو وہ چلے یہاں تک کہ شام آئے ، وہ یہاں فوت ہوگئے ، پس حضرت ابو طلحہ آئے ، انہوں نے حضرت ام سلیم کو نکاح پیغام بھیجا۔ حضرت ام سلیم نے ان سے گفتگو کی انہوں نے کہا : اے ابو طلحہ ! تیرے جیسے آدمی کو واپس نہیں کرتی ہوں ، لیکن تو کافر مرد ہے اور میں مسلمان عورت ہوں ، میں تیرے ساتھ شادی کرنا مناسب نہیں سمجھتی ہوں۔ ابو طلحہ نے کہا : یہ تیری کیا عادت ہے ۔ ام سلیم نے کہا : میری کوئی عادت ہے؟ ابو طلحہ نے کہا : صفراء اور بیضا ( یعنی سونا یا چاندی) ۔ حضرت ام سلیم نے کہا : میں تیرا مسلمان ہونا چاہتی ہوں ۔ حضرت ابو طلحہ نے کہا : اس سے میرے لیے کیا ہوگا؟ حضرت ام سلیم نے کہا: میں اس کے بدلے تیری ہو جاؤں گی، جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ۔حضرت ابو طلحہ نبی اکرم کے پاس جانے کے لیے چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: تمہارے پاس ابو طلحہ آیا ہے، اسلا م اس کی آنکھوں کے درمیان چمک رہا ہے ۔ حضرت ابو طلحہ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی جو ام سلیم نے کہی تھی، آپ نے اس پر شادی کروادی۔ حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ ہم کو خبر پہنچی کہ ان کا مہر بہت بڑا تھا کہ وہ ان کے اسلام کو بطور مہر ان پر راضی ہوگئیں ۔ اس کے بعد شادی ہوئی اور ام سلیم بہت خوبصورت آنکھوں والی تھیں ، حضرت ابو طلحہ کے ساتھ رہیں یہاں تک کہ ان کےہاں بیٹا پیدا ہوا ، حضرت ابو طلحہ اس سے بہت پیار کرتے تھے ، وہ بچہ بیمار ہو گیا اور حضرت ابو طلحہ اس کی دوائی لینے کے لیے گئے ۔حضرت ابو طلحہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں چلے گئے اور بچہ فوت ہو گیا۔ حضرت ام سلیم نے کہا کہ ابو طلحہ کو کوئی نہ بتائے بیٹے کی موت کے متعلق یہاں تک کہ میں ان کوا س کی موت کے بارے میں بتاؤں گی، سو انہوں نے بچہ کے اوپر کپڑا وغیرہ رکھ دیا اور حضرت ابوطلحہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے آئے یہاں تک کہ وہ ام سلیم کے پاس آئے ، کہا : میرا بیٹا کیسا ہے ؟ ام سلیم نے کہا : ابو طلحہ ! جب آپ بیمار چھوڑ گئے ہیں اس سے اب بہت بہتر ہے ، انہوں نے کہا : شکر ہے اللہ کی ہی تمام تر تعریفیں ہیں ، سو وہ ان کے پاس رات کا کھانا لائیں تو انہوں نے کھانا کھایا ، پھر حضرت ام سلیم اٹھیں ، خوشبو لگائی ان کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا تو حضرت ابو طلحہ نے ان سے جماع کیا ، جب ام سلیم کو معلوم ہوا کہ انہوں نے کھانا کھالیا ہے اور جماع کر لیا ہے تو کہا: اے ابو طلحہ ! آپ بتائیں کہ اگر کوئی قوم کسی قوم کے پاس عاریتاً کوئی شئے رکھے ، پھر وہ ان سے مانگیں تو کیا وہ ان کو دینے سے منع کردیں گے؟ ابو طلحہ نے کہا : نہیں ! حضرت ام سلیم نے کہا : بے شک اللہ عزوجل نے آپ کو بیٹا عاریتاً دیا تھا پھر اس کو لے لیا ہے ، سو آپ اپنے بیٹے پر ثواب کی امید رکھیں اور صبر کریں ۔ تو حضرت ابو طلحہ کو غصہ آگیا ، پھر کہا: مجھے تو نے چھوڑے رکھا جب میں نے جماع کر لیا پھر مجھے میرے بیٹے کی وفات کا بتایا ہے ۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے صبح کو اور ساری خبر بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری رات میں برکت دے ! پھر ام سلیم حاملہ ہو گئیں اور حضرت ام سلیم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کرتی تھیں جب آپ نکلتے تھے ، حضرت ام سلیم بھی نکلتی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں داخل ہوتے آپ بھی داخل ہوتیں تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تیرے ہاں بچہ پیدا ہو تو اس کو میرے پاس لانا۔ فرماتی ہیں کہ میں ایک رات کو مدینہ کے قریب ہوئی تو مجھے درد شروع ہو گئی تو انہوں نے دعا کی : اے اللہ ! میں داخل ہوتی جب تیرا نبی داخل ہوتا تھا اور میں نکلتی تھی جب تیرا نبی نکلتا تھا۔ اور اب یہ معاملہ ہو گیا ہے ۔ سو انہوں نے بچہ جنا اور انہوں نے اپنے بیٹے سے انس کہا : اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤ۔ سو حضرت انس نے بچے کو اٹھا یا اور اس کو لے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گئے اور آپ اونٹوں یا بکریوں کو داغ رہے تھے، جب آپ نے دیکھا تو حضرت انس سے فرمایا: بنت ملحان نے بچہ جنا ہے ؟ حضرت انس نے عرض کی جی ہاں! آپ کے ہاتھ جو تھا اس کو پھینک دیا اور اس بچے کو پکڑا ، اس کے بعد فرمایا : عجوہ کھجوریں لاؤ! سو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کو پکڑا ، اس بچے کو تحنیک ( یعنی گھٹی ) دی اور بچہ ان کھجوروں کو چوسنے لگا، اس کے بعد فرمایا: انصار کی کھجور سے محبت دیکھو ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے گھٹی دی اور اس نام عبداللہ رکھا۔ حضرت ثابت نے فرمایا ان کو بہترین مسلمانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 2167

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter