مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2131
2131 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي الصَّلَاةِ» فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ»
حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وحی لکھتا تھا وہ ایسا تھا جب اس کو لکھوایا جاتا: " سمیعًا بصیرًا" وہ لکھتا تھا سمیعاً علیماً ۔ جب اس کو لکھوایا جاتا: "سمیعاً علیماً " وہ لکھتا تھا: " سمیعًا بصیرًا"۔ حالانکہ اس نے سورۃ القرہ و آل عمران پڑھی تھی۔ حالانکہ جس نے یہ دونوں پڑھیں ان نے بلاشبہ قرآن بہت زیادہ پڑھا ، کہا کہ وہ آدمی نصرانی ہو گیا اور وہ کہتا کہ میں جو چاہوں محمد کے سامنے لکھ دیتا تھا، کہا کہ جب وہ مر گیا تو اس کو زمین میں دفن کیا گیا۔ تو زمین نے اس کو باہر پھینک دیا۔ پھر دفن کیا گیا تو زمین نے اس کو باہر پھینک دیا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ فرماتے تھے کہ میں نے اس کو زمین کی پشت پر پڑا ہو ا دیکھا۔
أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2131
