Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2119

2119 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَعَمَلٍ لَا يُرْفَعُ، وَقَلَبٍ لَا يَخْشَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ»

حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : اللھم انی اعوذبک من البرص و الجنون والجذام و سی ء الاسقام "۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بر ص ، جنون ، جزم و برے اخلاق سے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2119

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2120

2120 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ»

حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلیم نے مجھے ایک ڈبہ دے کر بھیجا اس میں تر کھجوریں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک مٹھی اپنی ازواج کی طرف بھیجی ۔ پھر باقی کو خود کھایا۔ اس آدمی کی طرح جس کو معلوم ہو کہ اس کو اس کی خواہش ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2120

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2121

2121 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «بَعَثَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِقِنَاعٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُ قَبْضَةً يَبْعَثُ بِهَا إِلَى أَزْوَاجِهِ ثُمَّ أَكَلَ الْبَقِيَّةَ أَكْلَ رَجُلٍ يُعْلِمُ أَنَّهُ يَشْتَهِيهِ»

حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :قیامت کے دن مومنوں کو جمع کیا جائے گا ۔ تو انہیں غم لاحق ہو جائے گا ۔وہ کہیں گے : کاش ہم اگر اپنے رب عزوجل کے ہاں سفارش لے کر جائیں گے ۔ یہاں تک کہ ہمیں اس جگہ آرام حاصل ہو جائے ۔ پس وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے ۔ عرض کریں گے : اے آدم! آپ تمام انسانیت کے باپ ہیں ۔ اللہ عزوجل نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے۔ اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور ہر چیز کے نام آپ کو سکھا دئیے۔ ہمارے رب کے ہاں ہمارے لیے سفارش کریں یہاں تک کہ ہم اس جگہ سے آرام حاصل کریں ۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے : یہاں میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ۔ اور ان کے سامنے اس غلطی کا ذکر کریں گے ۔ جو ان سے ہوئی ۔ لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ عزوجل نے زمین مین بھیجا ہے۔ وہ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے ۔ حضرت نوح علیہ السلام فرمائیں گے ۔ یہاں میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا وہ بھی ان کے سامنے اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو ان سے ہوئی ۔ لیکن تم حضرت ابراہیم خلیل الرحمٰن علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ ۔ پس وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی فرمائیں گے میں تمہارے لیے یہاں کچھ نہیں کرسکتا ۔ وہ ان سے اپنی خطاؤں کا ذکر کریں گے جو ان سے ہوئیں۔ لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ اللہ عزوجل نے ان کو تورات دی اور ان کے ساتھ کلام کیا پس وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا ہوں ۔ وہ بھی اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جو انہوں نے کی ۔ لیکن تم حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ ۔ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور اللہ کے کلمہ اور اس کی روح ہیں پس وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی فرمائیں گے میں تمہارے لیےیہاں کچھ نہیں کرسکتا تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ان کی وجہ سے ان کی امت کے پہلے اور آخری گناہ معاف کر دئیے ہیں ۔ پس وہ میرے پاس آئیں گے ۔ سو میں چلوں گا، پس میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت دے دی جائے گی۔ جب میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھوں گا تو میں سجدہ میں گر جاؤں گا، میں جو چاہوں گا دعا کروں گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد ! اپنا سر اٹھا ئیں اور کہئے آپ کی سنی جائے گی، آپ مانگیں آپ کو عطا ء کیا جائے گا اور آپ سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ پس میں اپنے رب کی حمد کروں گا ۔ ایسی حمد جو اس نے مجھے سکھائی ہوگی۔ پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی ، میں ان کو جنت میں داخل کروں گا پھر جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا میں سجدہ میں گر جاؤں گا۔ پس جو اللہ چاہے گا میں دعا کروگا ۔ پس کہا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنا سر اٹھائیے آپ عرض کریں سنی جائے گی، اور آپ مانگیں گے آپ کو عطاء کیا جائے گا، اور آپ شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، پس میں اپنے رب کی سکھائی تعریف کروں گا پھر میں شفاعت کروں گا، تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی، سو میں ان کو جنت میں داخل کروں گا، حتیٰ کہ میں لوٹ کر واپس آؤں گا۔ میں عرض کروں گا: اے میرے رب! جہنم میں کوئی باقی نہیں رہا سوائے اس کے جس کو قرآن نے روک رکھا ہے یعنی جن پر ہمیشہ ( جہنم میں ) رہنا واجب ہو گیا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2121

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2122

2122 - حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجْمَعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُهَمُّونَ لِذَلِكَ، يَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ لَهُمْ [ص:501] خَطَايَا أَصَابَهُنَّ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدًا آتَاهُ اللَّهُ التَّوْرَاةَ وَكَلَّمَهُ تَكْلِيمًا، فَيَأْتُونَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ: وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَأْتُونِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي فَيُؤْذَنُ لِي عَلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّيَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَقَعَتُ سَاجِدًا فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ أَنْ يَدَعَنِيَ , ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ , وَقُلْ تُسْمَعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمِنِيهُ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا , فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ , ثُمَّ أَرْجِعُ , فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّيَ وَقَعَتُ لَهُ سَاجِدًا , فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي فَيُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ , وَقُلْ تُسْمَعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمِنِيهُ , ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا [ص:502] فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ , ثُمَّ أَرْجِعُ , فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّيَ وَقَعَتُ لَهُ سَاجِدًا , فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي , ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ , وَقُلْ تُسْمَعْ , وَسَلْ تُعْطَهْ , وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمِنِيهُ , ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا , فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ حَتَّى أَرْجِعَ , فَأَقُولُ يَا رَبِّ , مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ " , أَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ

حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :بے شک اللہ عزوجل مومن پر ظلم نہیں کرتا ، جو بھی نیکی کرے اس کے بدلے اس کو دنیا میں رزق دیا جائے گااور آخرت میں اسے اس کے بدلے اس کی جزاء دی جائے گی۔ بہر حال کافر کو دنیا میں اس کا بدل دیا جائے گا ، سو جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے پاس نیکی نہیں ہوگی۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2122

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2123

2123 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ، حَسَنَتُهُ يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا، وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعَظَّمُ بِهَا فِي الدُّنْيَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ»

حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مومن کو جنت میں اتنی اور اتنی عورت دی جائے گی عورتوں کے واسطے ( یعنی ان سے مجامعت کے لیے) ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کو طاقت کتنی دی جائے گی؟ فرمایا سو مردوں کے برابر۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2123

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2124

2124 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُعْطَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ قُوَّةَ كَذَا وَكَذَا مِنَ النِّسَاءِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَيُطِيقُ ذَاكَ، قَالَ «يُعْطَى قُوَّةَ مِائَةٍ»

حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر انسا ن کے تین دوست ہوتے ہیں کہ جو کہتا ہے جو تو نے خرچ کیا وہ تیرے لیے ہے اور جو تونے روک لیا وہ تیرے لیے نہیں ۔ سو یہ اس کا مال ہے ۔اور دوست جو کہتا ہے میں تیرے ساتھ ہوں جب میں بادشاہ کے دروازے کے پاس آؤں گا تجھے چھوڑ دوں گا اور میں لوٹ جاؤں گا۔ تو یہ اس کے اہل خانہ اور خدام ہیں اور ایک وہ دوست ہے جو کہتا ہے میں تیرے ساتھ ہوں ۔جب تو داخل ہوگا اور جب تو نکلے گا تو یہ اس کا عمل ہے تو وہ کہتا ہے : یہ تین تو مجھ پر آسان تھے ، یافرمایا : تجھ پر ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2124

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2125

2125 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ إِنْسَانٍ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ، فَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: مَا أَنْفَقْتَ فَلَكَ، وَمَا أَمْسَكْتَ فَلَيْسَ لَكَ، فَذَلِكَ مَالَهُ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ، فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ وَرَجَعْتُ، فَذَاكَ أَهْلُهُ وَحَشَمُهُ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ وَحَيْثُ خَرَجْتَ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ، فَيَقُولُ: إِنْ كُنْتَ لَأَهْوَنَ الثَّلَاثَةِ عَلَيَّ " أَوْ قَالَ: «عَلَيْكَ»

حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم سے پہلے تین آدمی اپنے گھروں کو واپس جارہے تھے کہ ان پر بارش آئی تو انہوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی تو ان پر ایک پتھر آ گرا ، تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: بے شک نشان مٹ گیا ، تم دیکھ رہے ہو کہ پتھر گیا ہے۔اللہ کے سوا اس جگہ تمہارے بارے میں کوئی نہیں جانتا ، اس جگہ سے اٹھا سکتا ہے صرف اللہ ، پس تم اللہ سے اپنے پختہ اعمال کے وسیلہ سے دعا کرو۔ ان میں سے ایک کہنے لگا : اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے ماں باپ تھے، میں ان دونوں کے لیے برتن میں دودھ دوھتا تھا ، ایک دن میں ان کے پاس آیا تو وہ سوئے ہوئے تھے ، میں دودھ لے کر کھڑا رہا یہاں تک کہ وہ تب جاگے جب انہیں جاگ آئی اور میں نے ان کو اٹھانا ناپسند کیا ، میں ان کے سرہانے کھڑا رہا ، جب وہ دونوں جاگے تو ان دونوں نے پیا ، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تیری رحمت کی امید اور تیرے عذاب سے ڈر کی وجہ سے کیا تھا تو اس کو کھول دے ۔ کہا کہ وہ پتھر ایک تہائی اپنی جگہ سے کھل گیا اور دوسرے نے کہا: اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ مجھے ایک عورت بڑی پسند تھی، وہ مجھے اپنے اوپر قدرت دینے سے منع کرتی تھی، ایک دفعہ میں نے اس کو پیسے دئیے ، اس نے مجھے اپنے اوپر قدرت دی تو میں نے اپنا آپ اس سے بچایا ، اے اللہ ! اگر میں نے تیرے خوف کے ڈر سے اور تیری رحمت کی امید کی وجہ سے کیا ہے تو ہم پر اسے کھول دے۔ تو وہ ایک تہائی اور پیچھے ہوا اور تیسرے نے کہا : اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میرا ایک مزدور تھا اس نے میرے ہاں ایک دن مزدوری کی ، جب رات ہوئی تو میں نے اس کو مزدوری دی تو وہ ناراض ہو کر چلا گیا ، اس نے اپنی مزدوری نہیں لی، میں نے وہ لے کر اس سے ( اونٹ ) خریدے یہاں تک کہ بہت زیادہ ہوگئے ، پھر وہ میرے پاس اپنی مزدوری لینے کے لیے آیا تو میں نے کہا : یہ سارے تیرے ہیں ، اگر میں چاہتا تو اس کو صرف مزدوری ہی دیتا ، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تیرے عذاب کے ڈر اور تیری رحمت کی امید کرتے ہوئے کیا تھا تو اس چٹان کو ہمارے لیے ہٹا دے تو وہ تیسری تہائی بھی ہٹ گئی۔اور وہ چلتے ہوئے نکل گئے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2125

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2126

2126 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [ص:505]، وَعَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَرْتَادُونَ لِأَهْلِيهِمْ، فَأَصَابَتْهُمُ السَّمَاءُ فَلَجَئُوا إِلَى جَبَلٍ، فَوَقَعَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: قَدْ عَفَا الْأَثَرُ، تَرَوْنَ قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ، فَادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمُ: اللَّهُمَّ، إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ، فَكُنْتُ أَحْلُبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا، فَإِذَا أَتَيْتُهُمَا وَهُمَا نَائِمَانِ قُمْتُ قَائِمًا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا، وَكَرِهْتُ أَنْ يَدُورَ وَسَنُهُمَا فِي رُءُوسِهِمَا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَا شَرِبَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا " قَالَ: " فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ، قَالَ: وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ، إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تَعْجِبُنِي، فَأَبَتْ أَنْ تُمَكِّنَنِي مِنْ نَفْسِهَا حَتَّى جَعَلْتُ لَهَا جُعْلًا، فَلَمَّا أَخَذْتُهَا وَفَّرْتُ لَهَا نَفْسَهَا وَجُعْلَهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ خَشْيَةَ عَذَابِكَ وَرَجَاءَ رَحْمَتِكَ، فَفَرِّجْ عَنَّا، قَالَ: فَزَالَ ثُلُثٌ آخَرُ، وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا يَعْمَلُ لِي [ص:506] يَوْمًا، فَعَمِلَ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ أَعْطَيْتُهُ أَجْرَهُ فَتَسَخَّطَهُ وَلَمْ يَأْخُذْ فَأَخَذْتُ أَجْرَهُ، وَوَفَّرْتُ عَلَيْهِ حَتَّى صَارَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ، ثُمَّ أَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ، فَقُلْتُ: خُذْ هَذَا كُلَّهُ لَكَ، وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ، فَإِنْ كُنْتُ تَعْلَمُ إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَخَشْيَةَ عَذَابِكَ , فَفَرِّجْ عَنَّا " قَالَ: «فَزَالَ الثُّلُثُ الْآخَرُ، وَخَرَجُوا يَتَمَاشَوْنَ»

حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے آپ نے اس سے منع نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي عَوَانَةَ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2126

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2127

2127 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَوَانِي أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَمَا نُهِيتُ عَنْهُ»

حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ تک دعا قنوت پڑھی۔اور عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلہ کے لیے دعائے ضرر فرمائی ، پھر چھوڑ دی۔

كواني أبو طلحة ورسول الله بين أظهرنا فما نهيت عنه. ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2127

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2128

2128 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَنَتَ شَهْرًا فَدَعَا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ»

حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا۔ ( حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ ) میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : آپ کھانا کھڑے ہو کر کھانے کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ اس سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2128

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2129

2129 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا» فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: فَمَا تَقُولُ فِي الْأَكْلِ قَائِمًا؟ قَالَ: «هُوَ أَشَدُّ»

حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں قرآن چار افراد نے جمع کیا (1) حضرت ابی ابن کعب ، (2) حضرت معاذ بن جبل ، (3) حضرت زید بن ثابت ، (4) حضرت ابو زید رضی اللہ عنہم ۔ ( حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے عرض کی کہ ابو زید کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میرے چچاؤں میں سے ایک ہیں ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2129

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمَا أَسْنَدَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا رَوَى عَنْهُ قَتَادَةُ · حديث 2130

2130 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ [ص:508]: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَمُعَاذٌ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ» قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَنْ أَبُو زَيْدٍ؟ قَالَ: «أَحَدُ عُمُومَتِي»

حضرت قتادہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس قوم کا کیا حال ہے جو اپنی آنکھوں کو نماز کے دوران اوپر اٹھا تے ہیں ۔ پس آپ نے اس فرمان میں سختی کی ۔ حتیٰ کہ فرمایا : باز آجائیں اس سے ورنہ ان کی آنکھیں اچک کی جائیں گی۔

«أَحَدُ عُمُومَتِي» ← قلت لأنس من أبو زيد ← أَبُو زَيْدٍ، ← مُعَاذٌ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، ← جمع القرآن على عهد رسول الله أربعة أبي بن كعب ← أَنَسًا ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2130

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter