مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1550
1550 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَقَّاصٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ: وَأَخْبَرَنَاهُ ابْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ سَائِلَةٌ وَمَعَهَا ابْنَانِ لَهَا، فَأَمَرْتُ لَهَا بِثَلَاثِ تَمَرَاتٍ، فَأَطْعَمَتْ صَبِيَّيْهَا تَمْرَةً تَمْرَةً وَأَدْخَلَتْ تَمْرَةً فِي فِيهَا، فَأَكَلَ الصَّبِيَّانِ تَمَرَتَيْهِمَا، ثُمَّ لَحَظَا إِلَى أُمِّهِمَا، فَأَخْرَجَتِ التَّمْرَةَ مِنْ فِيهَا، فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ عَجَبًا، قَالَ: «وَمَا ذَلِكَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «وَمَا تَعْجَبِينَ مِنَ امْرَأَةٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا بِرَحْمَتِهَا وَلَدَهَا» وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ: بَحْرٌ السَّقَّاءُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْوَالِدَةُ وَرَحْمَتُهَا وَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْهُنَّ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ»
حضرت حس، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مانگنے والی آئی اور اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے ، میں نے اس کو تین کھجوریں دینے کے لیے حکم دیا، اس نے ایک ایک کھجور اپنے دونوں بیٹوں کی دی اور ایک کھجور اپنے منہ میں ڈالی تو بچوں نے اپنی کھجوریں کھا لی تھیں ، پھر وہ اپنی ماں کا دیکھنے لگے ، سو اس نے اپنے منہ سے وہ کھجور بھی نکال کر ان کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کر دی ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آج میں نے عجیب معاملہ دیکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : وہ کیا ؟ تو میں نے آپ کو بتایا ، تو آپ نے فرمایا: تو اس عورت پر تعجب کر رہی ہے ، اللہ نے اس عورت کو اپنے دونوں بچوں پر شفقت کرنے کی وجہ سے بخش دیا ہے ۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ بحر السقاء نے از حضرت زہری از حضرت عروہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے اس حالت میں کہ میں رو رہی تھی ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! تو کیوں رو رہی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مان کے اپنے بچوں پر شفقت کی وجہ سے اور میں نے اپ کو واقعہ کی خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی ان میں سے کسی چیز کے ساتھ ( یعنی بچیوں ) آزمایا گیا پھر اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ قیامت کے دن اس کے لیے پردہ ہو جائیں گی۔
عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← ابْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← حَدَّثَتْنِي أُمِّي، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ. ← الْحَسَنُ بْنُ وَقَّاصٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Hadith 1550
