Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1550

1550 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَقَّاصٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ: وَأَخْبَرَنَاهُ ابْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ سَائِلَةٌ وَمَعَهَا ابْنَانِ لَهَا، فَأَمَرْتُ لَهَا بِثَلَاثِ تَمَرَاتٍ، فَأَطْعَمَتْ صَبِيَّيْهَا تَمْرَةً تَمْرَةً وَأَدْخَلَتْ تَمْرَةً فِي فِيهَا، فَأَكَلَ الصَّبِيَّانِ تَمَرَتَيْهِمَا، ثُمَّ لَحَظَا إِلَى أُمِّهِمَا، فَأَخْرَجَتِ التَّمْرَةَ مِنْ فِيهَا، فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ عَجَبًا، قَالَ: «وَمَا ذَلِكَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «وَمَا تَعْجَبِينَ مِنَ امْرَأَةٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا بِرَحْمَتِهَا وَلَدَهَا» وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ: بَحْرٌ السَّقَّاءُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْوَالِدَةُ وَرَحْمَتُهَا وَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْهُنَّ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ»

حضرت حس، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مانگنے والی آئی اور اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے ، میں نے اس کو تین کھجوریں دینے کے لیے حکم دیا، اس نے ایک ایک کھجور اپنے دونوں بیٹوں کی دی اور ایک کھجور اپنے منہ میں ڈالی تو بچوں نے اپنی کھجوریں کھا لی تھیں ، پھر وہ اپنی ماں کا دیکھنے لگے ، سو اس نے اپنے منہ سے وہ کھجور بھی نکال کر ان کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کر دی ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آج میں نے عجیب معاملہ دیکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : وہ کیا ؟ تو میں نے آپ کو بتایا ، تو آپ نے فرمایا: تو اس عورت پر تعجب کر رہی ہے ، اللہ نے اس عورت کو اپنے دونوں بچوں پر شفقت کرنے کی وجہ سے بخش دیا ہے ۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ بحر السقاء نے از حضرت زہری از حضرت عروہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے اس حالت میں کہ میں رو رہی تھی ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! تو کیوں رو رہی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مان کے اپنے بچوں پر شفقت کی وجہ سے اور میں نے اپ کو واقعہ کی خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی ان میں سے کسی چیز کے ساتھ ( یعنی بچیوں ) آزمایا گیا پھر اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ قیامت کے دن اس کے لیے پردہ ہو جائیں گی۔

عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← ابْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← حَدَّثَتْنِي أُمِّي، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ. ← الْحَسَنُ بْنُ وَقَّاصٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1550

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1551

1551 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ قَدْ سَرَقَتْ، فَقَالُوا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا حِبُّهُ أُسَامَةُ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُسَامَةُ أَتَدْرِي كَيْفَ هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ، إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ مِنْهُمْ لَمْ يُقْطَعْ» فَقَطَعَهَا، قَالَ: وَكَانَتِ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً

حضرت عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے چوری کی ہوئی تھی ، ان لوگوں نے کہا: اس بات کو کرنے کی جرات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محبوب اسامہ ہی کر سکتے ہیں ، پس وہ ( حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ) آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے اسامہ ! کیا تجھے معلوم ہے کہ بنو اسرائیل کیسے ہلاک ہوئے کیونکہ جب ان کا کوئی امیر چوری کرتا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا، اور جب کوئی غریب آدمی کرتا تو اس کے ہاتھ کاٹے جاتے تھے ، کہتے ہیں : اور وہ عورت قبیلہ مخزومیہ کی تھی ۔

وَكَانَتِ امْرَأَةً مَخْزُومِيَّةً ← مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا حِبُّهُ أُسَامَةُ، فَأَتَاهُ، ← أُتِيَ النَّبِيُّ بِامْرَأَةٍ قَدْ سَرَقَتْ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1551

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1552

1552 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ، وَقَالَ: «نَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ نُوتِرُ بِخَمْسٍ»

حضرت عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانچ ( رکعت ) وتر پڑھتے تھے اور ہم اہل بیت بھی پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1552

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1553

1553 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمُؤَمَّلِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ يَضْطَجِعُ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ»

حضرت عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی دو رکعتیں ( سنت ) پڑھ کر لیٹ جاتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي المُؤَمِّلِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1553

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1554

1554 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ «النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْحِدَ لَهُ»

حضرت عروہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے لحد بنائی گئی تھی ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1554

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1555

1555 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ دَغْفَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ»

حضرت عروہ بن زبیر ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے تے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی ۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي، وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ» ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← إِيَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1555

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1556

1556 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَزَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ»

حضرت ہشام بن عروہ ، اپنے والد سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا ، جس میں عمامہ اور قمیص نہیں تھی ۔

«كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ» ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعْبَةُ، وَزَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1556

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1557

1557 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ [ص:66] بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتٍّ أَوْ سَبْعٍ بِمَكَّةَ، وَبَنَى بِي بِالْمَدِينَةِ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ، فَأَتَتْنِي نِسْوَةٌ، وَأَنَا جَارِيَةٌ مُجَمَّمَةٌ، أَلْعَبُ عَلَى أُرْجُوحَةٍ فَهَيَّأْنَنِي وَأَهْدَيْنَنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب مکہ میں مجھ سے شادی کی تو میں اس وقت سات یا چھ سال کی تھی اور آپ نے مجھ سے جب مدینہ منورہ میں زفاف فرمایا تو میں نو سال کی تھی ۔ سو میرے پاس عورتیں آئی اور میں کم سن لڑکی تھی ، اپنی گڑیوں سے کھیل رہی تھی ، تو انہوں نے میرا بناؤ سنگھار کیا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے کر دیا۔

بِنْتُ تِسْعٍ، فَأَتَتْنِي نِسْوَةٌ، ← بِنْتُ سِتٍّ أَوْ سَبْعٍ بِمَكَّةَ، وَبَنَى بِي بِالْمَدِينَةِ ← تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامِ {ص:82} بْنِ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1557

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1558

1558 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ» قَالَ: فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِي يَتَّقِيهِ [ص:67] النَّاسُ - أَوْ يَتْرُكُهُ النَّاسُ - خَشْيَةَ فُحْشِهِ أَوْ شَرِّهِ»

حضرت عروہ بن زبیر ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: قبیلہ کا بدترین آدمی ہے ، پس جب وہ داخل ہوا تو آ پ نے اس کے لیے نرمی کی ، ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسے ایسے فرمایا تھا ، پھر آپ نے اس کے لیے نرمی کی ہے ۔ آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ کے ہاں قیامت کے دن بدترین لوگ وہ ہوں گے جن کے شر سے لوگ ڈرتے ہوں گے ، یا لوگ اس کو چھوڑ دیں اس کی بے حیائی کے ڈر سے یا اس کے شر کی وجہ سے ۔

فَقُلْتُ: ← فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ، ← دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: «بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ» ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1558

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1559

1559 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ مَرَضُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَرَضَتْ لَهُ بُحَّةٌ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " {مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ} [النساء: 69] " الْآيَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَلِمْنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخَيَّرُ

حضرت عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ ہم گفتگو کرتی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت تک وصال نہیں فرمایا یہاں تک کہ آپ کو دنیا و آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا۔ آپ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بیماری میں مبتلا تھے جس میں آپ نے وصال فرمایا ، آ پ کے لیے خالص مشروب پیش کیا گیا ، تو میں نے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھ رہے تھے : " مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین و الصدیقین والشھداء والصالحین " ( النساء : 69) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم جان گئے تھے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دنیا میں رہنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔

«كُنَّا نَتَحَدَّثُ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1559

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1560

1560 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ مُعْتَرِضَةٌ» قَالَ شُعْبَةُ: قَالَ سَعْدٌ: وَأَحْسَبُهُ قَالَتْ: «وَأَنَا حَائِضٌ»

حضرت عروہ بن زبیر ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے ، اور میں آپ کے آگے لیٹی ہوئی تھی ۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے کہا : میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا : اور میں حالت حیض میں ہوتی تھیں۔

وأنا حائض ← سَعْدٌ وَأَحْسِبُهُ ← شُعْبَةُ، ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي وَأَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ مُعْتَرِضَةٌ» ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1560

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1561

1561 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا تَقُولُونَ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: فَقَالُوا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذًا دَابَّةُ سُوءٍ «لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ وَهُوَ يُصَلِّي»

حضرت عروہ بن زبیر نے فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تم کیا کہتے ہو کہ نما ز کو کون سی چیز توڑتی ہے ؟ انہوں عرض کی : کتا، گدھا اور عورت ( توڑتے ہیں ) تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تب تو عورت برا جانور ہوا بلاشبہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے لیٹی ہوئی ہوتی تھی جس طرح جنازہ آگے رکھا ہوتا ہے اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے ۔

عَائِشَةُ: إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذًا دَابَّةُ سُوءٍ «لَقَدْ رَأَيْتُنِي ← الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، ← عَائِشَةُ: مَا تَقُولُونَ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Hadith 1561

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter