Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ · حديث 2844

2844 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ مَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ»

حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ ہم نے رمضان کا چاند دیکھا اور ہم ذات عرق میں تھے ، ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا کہ وہ اس کے متعلق آپ سے پوچھ کر آئے ، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے چاند کو دیکھنے کے لیے لمبا کیاہے، سو اگر تم پر غبار چھا جائے تو تم گنتی مکمل کر لو ( شعبان کے تیس دن کی)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2844

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ · حديث 2845

2845 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ، أَوْ يُؤْكَلَ، أَوْ حَتَّى يُوزَنَ» فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا يُوزَنُ؟، فَقَالَ [ص:442] رَجُلٌ عِنْدَهُ: حَتَّى يُحْزَرَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَكَانَ شُعْبَةُ يَغْتَاظُ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ، يَقُولُ: أَلَا سَكَتَ حَتَّى يَقُولَ ابْنُ عَبَّاسٍ

حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجوروں میں بیع سلم کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی بیع سلم سے منع کیا ، یہاں تک کہ اس سے کھائے جائے اس کو کھایا جائے یا اس کا وزن کیا جائے، ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا وزن کیا جائے؟ تو ایک آدمی نے جو آپ کے پاس تھا، اس نے کہا : یہاں تک کہ پک جائے ۔ امام ابو داؤد فرماتے : کیا تو خاموش نہیں رہ سکتا تھا یہاں تک کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَلَا سَكَتَ حَتَّى ← أَبُو دَاوُدَ: وَكَانَ شُعْبَةُ يَغْتَاظُ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ، ← [ص:442] رَجُلٌ عِنْدَهُ: حَتَّى يُحْزَرَ ← رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا يُوزَنُ؟، ← بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ، أَوْ يُؤْكَلَ، أَوْ حَتَّى يُوزَنَ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← السَّلَمِ فِي النَّخْلِ ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2845

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعُمَرُ بْنُ حَرْمَلَةَ · حديث 2846

2846 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ [ص:443]، وَغَيْرُهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ شُعْبَةُ: عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: ابْنُ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَضُبًّا وَلَبَنًا، وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ يَسَارِهِ، وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ، فَتَفَلَ عَلَيْهِ، يَعْنِي عَلَى الْأَضُبِّ، أَوْ كَلِمَةً شَبِيهَهَا، فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ: كَأَنَّكَ قَذِرْتَهُ قَالَ: «أَجَلْ» أَوْ قَالَ: «نَعَمْ» فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّبَنِ وَقَالَ: «إِنَّ الشَّرْبَةَ لَكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَهَا خَالِدًا» أَوْ قَالَ: «عَمَّكَ» أَوِ: «ابْنَ عَمِّكَ» يَعْنِي خَالِدًا، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ مُؤْثِرًا بِسُؤْرِكَ أَحَدًا، قَالَ: فَنَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ، ثُمَّ سَقَيْتُ خَالِدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَعْلَمُ شَرَابًا يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ إِلَّا اللَّبَنَ، فَإِذَا شَرِبَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْكُمْ طَعَامًا، يَعْنِي مِنْ ذَاكَ الضَّبِّ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ "

حضرت عمر بن حرملہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میری خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھنی ہوئی گوہ بطور ہدیہ بھیجی اور دودھ ، آپ کے پاس بائیں طرف حضرت خالد بن ولید تھے، اور میں آپ کی دائیں جانب تھا، تو آپ نے گوہ کو پھینک دیا ، یا اس طرح کا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا، حضرت خالد نے ان کو بتایا کہ گویا کہ آپ نے اسے ناپسند کیا، آپ نے فرمایا: بالکل ! یا فرمایا : ہاں ! سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ نوش کیا، آپ نے فرمایا : یہ پینا تیرے لیے ہے ، اگر تو چاہے تو خالد کو دے دوں ، یا یہ فرمایا: تیرے چچا یا چچا زاد کو ، یعنی خالد کو دے دوں ۔ میں نے عرض کی: ( یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !) میں آپ کے تبرک پر کسی کو ترجیح نہ دوں گا، فرمایا کہ آپ نے مجھے پکڑا دیا تو میں نے پیا پھر میں نے خالد کو پلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نہیں جانتا ہوں کہ کوئی شربت کھانے کی کفایت کرے سوائے دودھ کے کہ یہ کھانے کے قائم مقام ہے، جب تم میں سے کوئی پئے تو یہ دعا کرے: اے اللہ ! ہمارے لیے اس میں برکت دے ! اس میں اضافہ فرما! اور جو تم میں سے کوئی کھانا کھائے یعنی گوہ وغیرہ ، تو یہ دعا کرے : اے اللہ ! اس میں ہمارے لیے برکت دے۔ اور اس سے بہتر عطا فرما!

فَنَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ، ثُمَّ سَقَيْتُ خَالِدًا، ← «عَمَّكَ» أَوِ: «ابْنَ عَمِّكَ» يَعْنِي خَالِدًا، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ مُؤْثِرًا بِسُؤْرِكَ أَحَدًا، ← «إِنَّ الشَّرْبَةَ لَكَ، وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَهَا خَالِدًا» أَوْ ← «نَعَمْ» فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ مِنَ اللَّبَنِ ← «أَجَلْ» أَوْ ← لَهُ خَالِدٌ: كَأَنَّكَ قَذِرْتَهُ ← يَمِينِهِ، فَتَفَلَ عَلَيْهِ، يَعْنِي عَلَى الْأَضُبِّ، أَوْ كَلِمَةً شَبِيهَهَا، ← يَسَارِهِ‏.‏ ← أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ سَمْنًا وَأَضُبًّا وَلَبَنًا، وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← غَيْرُهُ: ابْنُ حَرْمَلَةَ، ← عَمْر بن حرملة، ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ [ص:443]، وَغَيْرُهُ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2846

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَصَالِحُ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ · حديث 2847

2847 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ، أَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ وَهُوَ بِعَرَفَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ وَاقِفٌ فَشَرِبَ "

حضرت صالح مولیٰ توامہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دودھ کا ایک برتن بھیجا ، اور آپ عرفہ کے دن میدان عرفات میں تھے ، آپ کھڑے ہوئے او ر آپ نے اس کو پیا۔

صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2847

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو غَطَفَانَ · حديث 2848

2848 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّتَيْنِ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَضْمَضَ أَحَدُكُمْ وَاسْتَنْثَرَ فَلْيَفْعَلْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا»

حضرت ابو غطفان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، انہوں نے وضو کیا ، تو کلی کی ، اور ناک میں پانی ڈالا دو دو مرتبہ اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی کلی کرے اور اپنی ناک کو صاف کرے تو وہ دو مرتبہ یا تین مرتبہ مبالغہ کے ساتھ کرے۔

رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّتَيْنِ، وَقَالَ: ← أَبِي غَطَفَانَ ← قَارِظٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2848

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَشُعْبَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2849

2849 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «جِئْتُ أَنَا وَالْعَبَّاسُ، عَلَى أَتَانٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَنَزَلْنَا وَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَمَا رَدَّنَا وَلَا نَهَانَا»

حضرت شعبہ مولیٰ حضرت ابن عباس ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ اتان پر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ، سو ہم اترے ، اور ہم آپ کے آگے سے گزرے ، تو آپ نے نہ ہمیں روکا اور نہ ہمیں منع کیا۔

جِئْت ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شُعْبَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2849

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَشُعْبَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2850

2850 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَجَدَ ضَمَّ يَدَيْهِ إِلَى جَنْبَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ رَبْضَةُ الْكَلْبِ، قَدْ «رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ»

حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ۔ اس نے عرض کی کہ آپ کا غلام جب سجدہ کرتا ہے تو اپنے ہاتھوں کو اپنی کروٹ سے ملاتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کتے کی طرح بیٹھنا ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کلائیوں کو دیکھا وہ سجدہ کی حالت میں جدا ہوتی تھیں۔

إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَجَدَ ضَمَّ يَدَيْهِ إِلَى جَنْبَيْهِ ← جَاءَ رَجُلٌ إلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← شُعْبَةُ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2850

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَشُعْبَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2851

2851 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ أَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى يَسَارِهِ سَبْعًا قَالَ: فَجَعَلَ يَوْمًا يَصُبُّ عَلَى يَسَارِهِ فَقَالَ لِي: تَدْرِي كَمْ صَبَبْتُ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، وَلِمَ لَا تَدْرِي؟، فَأَفْرَغَ عَلَى يَسَارِهِ سَبْعًا وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ»

حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ غسل جنابت کرتے تھے تو اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈالتےے سات مرتبہ ، ایک دن بائیں پر ڈال رہے تھے، مجھےکہا: کیا تو جانتا ہے کہ میں نے کتنی مرتبہ ڈالا ہے؟ میں نے عرض کی : نہیں! فرمایا: تیری ماں نہ رہے ! تو کیوں نہیں جانتا ؟ پس آپ نے سات مرتبہ پانی ڈالا ، پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔

كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ أَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى يَسَارِهِ سَبْعًا ← شُعْبَةُ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2851

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَشُعْبَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2852

2852 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ، فَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ»

حضرت شعبہ مولیٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ نے اپنے کمزور اہل خانہ کے ساتھ بھیجا ، پس ہم نے جمرہ کو کنکریاں ماریں فجر کی نماز کے ساتھ ہی،

«بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ، فَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شُعْبَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2852

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَشُعْبَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2853

2853 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مَرِيضٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ إِسْتَبْرَقٍ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَانُونٌ عَلَيْهِ تَصَاوِيرُ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ: مَا هَذَا يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا عَلِمْتُ بِهِ وَمَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا إِلَّا لِلتَّكَبُّرِ وَالتَّجَبُّرِ " وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ أَمَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالثَّوْبِ فَنُزِعَ عَنْهُ، وَقَالَ: اقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّصَاوِيرِ

حضرت شعبہ مولیٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور مسور بن مخرمہ ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، ان کی بیماری کے ایام میں اور ان پر ریشم کا کپڑا تھا، آپ کے سامنے ایک پردہ تھا اس پر تصویریں تھیں ۔ حضرت مسور نے عرض کی: اے ابن عبا س ! یہ کیا ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس کا علم نہیں ، میری رائے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع صرف تکبر و بڑائی کی وجہ سے کیا ہے اور ہم اللہ کے فضل اسے ایسے نہیں ہیں ۔ جب حضرت مسور چلے گئے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ، اس کپڑے کا ( جس پر تصویریں تھیں ) تو اس کو اتار دیا گیا اور فرمایا : ان تصویروں کے سروں کو کاٹ دو۔

شُعْبَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2853

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ · حديث 2854

2854 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ يَوْمًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهَا، لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ: «سَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ، وَلَكِنِ اجْعَلُوا لِي ذِمَّةَ اللَّهِ وَمَا أَخَذَ يَعْقُوبُ عَلَى بَنِيهِ إِنْ أَنَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ تَعْرِفُونَهُ لَتُبَايِعُنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ» قَالُوا: فَلَكَ ذَلِكَ قَالَ: «فَسَلُونِي عَمَّ شِئْتُمْ» قَالُوا: أَخْبِرْنَا عَنْ أَرْبَعِ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهَا: أَخْبِرْنَا عَنِ الطَّعَامِ الَّذِي حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ، وَأَخْبِرْنَا عَنْ مَاءِ الْمَرْأَةِ مِنْ مَاءِ الرَّجُلِ، وَكَيْفَ يَكُونُ مِنْهُ الذَّكَرُ حَتَّى يَكُونَ ذَكَرًا وَكَيْفَ تَكُونُ [ص:451] مِنْهُ الْأُنْثَى حَتَّى تَكُونَ أُنْثَى، وَأَخْبِرْنَا كَيْفَ هَذَا النَّبِيُّ فِي النَّوْمِ، وَمَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ؟ قَالَ: «فَعَلَيْكُمْ عَهْدُ اللَّهِ وَمِيثَاقُهُ، لَئِنْ أَنَا حَدَّثْتُكُمْ لَتُبَايِعُنِّي؟» فَأَعْطَوْهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ قَالَ: «أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا وَطَالَ سَقَمُهُ مِنْهُ، فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا، لَئِنْ شَفَاهُ مِنْ سَقَمِهِ لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ ألْبَانَ الْإِبِلِ، وَكَانَ أَحَبُّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانَ الْإِبِلِ؟» قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ» قَالَ: «فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَأَنَّ مَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ [ص:452] أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا عَلَا كَانَ لَهُ الْوَلَدُ وَالشَّبَهُ بِإِذْنِ اللَّهِ؛ فَإِنْ عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ كَانَ ذَكَرًا بِإِذْنِ اللَّهِ، وَإِنْ عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ كَانَتْ أُنْثَى بِإِذْنِ اللَّهِ؟» قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» قَالَ: «فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ هَذَا النَّبِيَّ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ؟» قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ» قَالُوا: أَنْتَ الْآنَ، حَدِّثْنَا مَنْ وَلِيُّكَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَعِنْدَهَا نُجَامِعُكَ أَوْ نُفَارِقُكَ قَالَ: «وَلِيِّيَ جِبْرِيلُ، وَلَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ وَلِيُّهُ» قَالُوا: فَعِنْدَهَا نُفَارِقُكَ، لَوْ كَانَ وَلِيُّكَ غَيْرَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَبَايَعْنَاكَ وَصَدَّقْنَاكَ قَالَ: «فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُصَدِّقُوهُ؟» قَالُوا: إِنَّهُ عَدُوُّنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ} [البقرة: 97] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَنَزَلَتْ: {فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضِبٍ}

حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ یہودیوں کا ایک گروہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم آپ سے سوال کرنا چاہتے ہیں ان سوالوں کا جواب صرف نبی ہی جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہو سوال کرو لیکن مجھ سے اللہ کے ذمہ اور اس پر جو حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں سے لیا تھا ، اس کے مطابق وعدہ کرو کہ میں اگر تم کو بتا دوں جس کو تم چاہتے ہو تو تم میری اسلام پر بیعت کرو گے۔ انہوں نے عرض کی: آپ کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: مجھ سے جو تم چاہو پوچھو، انہوں نے عرض کی : ہم کو چار چیزوں کے متعلق بتائیں ! ہم کو بتائیں اس کھانے کے متعلق جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کیا ہوا تھا تورات کے نازل ہونے سے پہلے ؟ اور ہمیں بتائیے کہ اس نبی کی نیند کیسے ہوتی ہے؟ اور فرشتوں میں آپ کا دوست کوں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم پر اللہ کا وعدہ اور میثاق ہے، اگر میں تمہیں بتا دیتا ہوں تو تم میری بیعت کرو گے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت مضبوط وعدہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمیں تم کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی ہے ، کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کے بندے حضرت یعقوب علیہ السلام سخت بیمار ہو گئے تھے، ان کی بیماری لمبی ہوگئی تھی، تو انہوں نے اللہ کے لیے نذرمانی کہ اگر انہیں اس مرض سے شفاء مل گئی تو میں ضرور اس دودھ کو اپنے اوپر حرام کرلوں گا جو سب سے زیادہ محبوب ہے اور اس کھانے کو جو سب سے زیادہ محبوب ہے، اور انہیں پینے والی چیز اونٹنی کا دودھ تھا اور محبوب ترین کھانا اونٹ تھا۔ تو ان یہودیوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہاں ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! تو اس پر گواہ رہنا ۔ اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ، وہی ہے جس نے تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری ، کیا تم جانتے ہو کہ مرد کا پانی سفید گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، سو جوان دونوں میں سے غالب آجائے بچہ اس کےمشابہ ہوگا اللہ کے حکم سے ، اور اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب ہوجائے تو لڑکا ہوگا ۔اللہ کے حکم سے ، اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو بچی ہوگی اللہ کے حکم سے انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہاں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان پ رگواہ رہنا ! آپ نے فرمایا : میں تم کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل فرمائی ہے، کیا تم جانتے ہو کہ یہ نبی ہے جس کی انکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا ہے، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی : اے اللہ تو اس پر گواہ رہنا! انہوں نے عرض کیا: اب آپ بتائیں کہ فرشتوں میں سے آپ کا دوست کون سا فرشتہ ہے؟ ہم آپ پرا سلام لائیں گے یا آپ سے جد ا ہوجائیں گے۔ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے دوست جبریل علیہ السلام ہیں ، اللہ عزوجل نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر یہ اس کے دوست ہیں انہوں نے کہا : ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں ، اگر آپ پر کوئی اور فرشتہ دوست ہوتا تو ہم آپ کی بیعت بھی کرتے اور ہم آپ کی تصدیق بھی کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کون سی رکاوٹ ہے کہ تم نے اس کی تصدیق نہیں کی ؟ انہون نے کہا : وہ فرشتوں میں سے ہمارا دشمن ہے، پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری : ۔" من کان عدو لجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ " آخرت آیت تک اور یہ نازل ہوئی : " فبائو ا بغضب علی غضب" وہ اللہ کے غضب پر غصب کے مستحق ہوئے"۔

حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ يَوْمًا إِلَى النَّبِيِّ فَقَالُوا: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2854

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ · حديث 2855

2855 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ، وَلَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلَّا وَعِنْدَهَا ذُو مَحْرَمٍ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِيَ تُرِيدُ أَنْ تَحُجَّ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ فِي جَيْشِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ»

حضرت ابو معبد ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی عورت سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو، اور کوئی آدمی کسی عورت کے پاس نہ آئے مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو، ایک آدمی نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری بیوی حج کا ارادہ کررہی ہے، اور میرا ارادہ ہے میں فلاں فلاں لشکر کے ساتھ جہاد میں نکلوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2855

chevron_left Previous
1…7273747576
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter