Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو الطُّفَيْلِ · حديث 2820

2820 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ بِالْبَيْتِ، وَأَنَّ ذَلِكَ [ص:415] سُنَّةٌ قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟، قَالَ: صَدَقُوا؛ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ؛ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ عَنْهُ وَلَا يُدْفَعُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ كَيْ يَسْمَعُوا كَلَامَهُ، وَلَا تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ قُلْتُ: يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟، قَالَ: صَدَقُوا؛ قَدْ «رَمَلَ» وَكَذَبُوا؛ لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ؛ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ فَلَمَّا صَالَحُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنْ الْعَامِ الْقَابِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «ارْمُلُوا» وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ قَالَ: صَدَقُوا؛ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُرِيَ الْمَنَاسِكَ عَرَضَ لَهُ [ص:416] شَّيْطَانٌ عِنْدَ الْمَسْعَى، فَسَابَقَهُ، فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى أَتَى بِهِ مِنًى، فَقَالَ: مُنَاخُ النَّاسِ هَذَا، ثُمَّ انْتَهَى إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ شَيْطَانٌ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ بِهِ إِلَى جَمْرَةِ الْوُسْطَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ أَتَى جَمْرَةَ الْقُصْوَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ عَرَفَةَ فَقَالَ: هَذِهِ عَرَفَةُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي لِمَ سِمِّيَتْ عَرَفَةَ؟، قَالَ: لَا قَالَ: لِأَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لَهُ: أَعَرَفْتَ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ أُمِرَتِ الْجِبَالُ فَخَفَضَتْ رُءُوسَهَا وَرُفِعَتْ لَهَا الْقُرَى، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر کیا اور بے شک یہ سنت ہے۔ آپ نے فرمایا : انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی بولا۔ میں نے عرض کی :سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : سچ یہ ہے کہ آپ نے اونٹ پر طواف کیا ہے اور( جھوٹ یہ ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو مار بھی رہے تھے اور ہٹا بھی رہے تھے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے تو صحابہ کرام اس اونٹنی کو مار بھی رہے تھے اور اس کو ہنکا بھی رہے تھے تاکہ اپنی کلام سنا سکیں ان کے ہاتھ نہیں پہنچ رہے تھے ، میں نے عرض کی: وہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کیا ہے، اور بلاشبہ یہ سنت ہے؟ ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا: انہوں نے سچ بھی کاہ اورجھوٹ بھی کہا، میں نے عرض کی : سچ کیا ہے اور جھوٹ کیاہے؟ آپ نے فرمایا : سچ یہ ہے کہ آپ نے رمل کیا اور جھوٹ یہ ہے کہ یہ سنت نہیں ہے۔ ( وجہ رمل یہ ہے کہ ) قریش نے کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ مرجائیں، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے صلح کی کہ ہم آئندہ سال آئیں گے تو مکہ میں تین دن ٹھہریں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ آئے ، اور مشرکین قعیقان کی جانب تھے ، آپ نے صحابہ سے فرمایا: رمل کرو ! اور یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے عرض کی: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور بلاشبہ یہ سنت ہے۔ آپ نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا ، بے شک ابراہیم علیہ السلام کو جب حج کے ارکان کا حکم ہوا تو شیطان آپ کے سامنے سعی کے مقام پر آیا ، سو اس نے آپ سے دور لگائی ، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے ، پھر حضرت جبریل علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لے چلے یہاں تک کہ آپ کو منیٰ میں لے آئے ، فرمایا : یہاں لوگ قربانی کریں گے، پھر انہیں جمرہ عقبہ کے پاس لے کر آئے ، پھر شیطان آپ کے سامنے ہوا، آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ جمرہ وسطیٰ کے پاس چلا گیا ، شیطان اس جگہ بھی آپ کے سامنے ہوا اس جگہ بھی آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں ۔ یہا تک کہ وہ چلا گیا، پھر آپ جمرہ قصویٰ کے پاس آئے ، اس جگہ بھی شیطان آپ کے سامنے ہوا تو آپ نے اس جگہ بھی اس کو سات کنکریاں ماریں ، پھر آپ کو حضرت جبریل علیہ السلام مزدلفہ لے کر آئے ، عرض کی : یہ مشعر حرام ہے، پھر آپ کو عرفہ لے کر آئے ، عرض کی : یہ عرفہ ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ جانتے ہیں کہ عرفہ کو عرفہ کیوں کہتےہیں ؟ عرض کی : نہیں! فرمایا کیونکہ جبریل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عرض کی تھی کہ کیا آپ نے پہچان لیا ( کہ کس وجہ سے اسکو عرفہ کہتے ہیں)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ابراہیم علیہ السلام کو جب حکم دیا گیا کہ لوگوں کے لیے حج کا اعلان کرو ، تو پہاڑوں کو حکم دیا گیا تو انہوں نے اپنے سر کو جھکا دیا اور آبادیاں آپ کے سامنے اٹھا دی گئیں، سو انہوں نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُکَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2820

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمِقْسَمٌ · حديث 2821

2821 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «احْتَجَمَ صَائِمًا»

حضرت مقسم ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھنا لگوایا روزہ کی حالت میں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2821

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمِقْسَمٌ · حديث 2822

2822 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَعْفَرًا وَزَيْدًا وَابْنَ رَوَاحَةَ، يَعْنِي فِي جَيْشِ مُؤْتَةَ، فَتَخَلَّفَ ابْنُ رَوَاحَةَ، وَمَضَى الْقَوْمُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خَلَّفَكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْجُمُعَةُ، أُجَمِّعُ ثُمَّ أَرُوحُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»

حضرت مقسم ،حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر اور حضرت زید اور ابن رواحہ کو بھیجا یعنی جنگ موتہ میں ، تو حضرت ابن رواحہ پیچھے رہ گئے باقی لوگ چلے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: آپ کیوں پیچھے رہے ہیں ؟ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! جمعہ کے لیے میں جمعہ پڑھوں گا، پھر میں چلا جاؤں گا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں صبح یا شام کرنا دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْحَجَّاجِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2822

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمِقْسَمٌ · حديث 2823

2823 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا»

حضرت مقسم ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ اور احرام کی حالت میں پچھنا لگوایا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2823

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمِقْسَمٌ · حديث 2824

2824 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَامَ فِي رَمَضَانَ، فَلَمَّا بَلَغَ عُسْفَانَ أَفْطَرَ»

حضرت مقسم ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان شریف میں روزہ رکھا ، جب عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ نے افطار کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2824

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمِقْسَمٌ · حديث 2825

2825 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَأَوْضَعَ النَّاسُ نُودِيَ فِي النَّاسِ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ» فَمَا رَأَيْتُ مِنَ رَافِعَةٍ يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا

حضرت مقسم ،حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب میدان عرفات سے واپس آئے تو لوگ تیزی سے چلنے لگے۔ لوگوں کو آواز دی گئی : اے لوگو: نیکی تیز گھوڑے اور سواریاں کرنے میں نہیں ہے، میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوں ، یہاں تک کہ آپ مزدلفہ آگئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2825

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمِقْسَمٌ · حديث 2826

2826 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ [ص:421] فَأَتَى عَلَى غُلَيِّمٍ مِنْهُمْ فَحَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «لَا تَرْمِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»

حضرت مقسم ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کمزور اہل خانہ کو مزدلفہ کی رات آگے بھیجا ، سو آپ ان کے چھوٹے سے بچے کے پاس آئے ، آپ نے اپنے پاؤں کے ساتھ اسے حرکت دی، اور فرمایا: جمرہ عقبہ کو کنکری نہ مارنا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2826

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ · حديث 2827

2827 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ مِنَّا يَجِدُ الشَّيْءَ يُحَدِّثُ [ص:422] نَفْسَهُ، لَأَنْ يَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ قَالَ: قَالَ أَحَدُهُمَا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَقْدِرْ مِنْكُمْ إِلَّا عَلَى الْوَسْوَسَةِ» وَقَالَ الْآخَرُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ»

حضرت عبداللہ بن شداد بن الھاد ، حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ عرض کی گئی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم میں سے کوئی آدمی اپنے دل میں کوئی ایسی بات پاتا ہے کہ اسکو زبان پر لانے سے کوئلہ ہو جانے کو پسند کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان میں سے ایک یہ پڑھ لے: الحمد للہ الذی لم یقدر منکم الا علی الوسوسیۃ " دوسرا پڑھے :" الحمد للہ الذی رد امرہ الی الوسلوسۃ"

قِيلَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← ذَرٍّ، ← مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2827

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَكُرَيْبُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ · حديث 2828

2828 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ [ص:423]، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ أَوْ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ: اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي، وَقُضِيَ وَلَدٌ بَيْنَهُمَا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ «أَوْ» لَمْ يُسَلَّطْ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ " لَمْ يَرْفَعْهُ الْأَعْمَشُ، وَرَفَعَهُ مَنْصُورٌ

حضرت کریب ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر ان میں کوئی ایک ، یا فرمایا: تم میں سے کوئی ایک جب اپنے اہل خانہ کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے: " اللھم جنبنی الشیطان ، وجنب الشیطان ما رزقنی " ان کے لیے اولا د لکھ دی گئی ، اس کو شیطان نقصان نہ پہنچا سکے گا، یا اس پر شیطان مسلط نہ ہوسکے گا۔ امام اعمش نے اس کو مرفوع بیان نہیں کیا۔ لیکن منصور نے اس کو مرفوع بیان کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، ← شُعْبَةُ، [ص:21] ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2828

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَكُرَيْبُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ · حديث 2829

2829 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَرَقَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَقَامَ إِلَى قِرْبَةٍ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، يَعْنِي رِبَاطَهَا، ثُمَّ صَبَّ فِي جَفْنَةٍ أَوْ قَصْعَةٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ، أَوْ قَالَ فِي صَلَاتِهِ، شَكَّ شُعْبَةُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَعِنْ أَمَامِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَاجْعَلْنِي نُورًا» أَوِ: «اجْعَلْ [ص:425] لِي نُورًا» شَكَّ شُعْبَةُ ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكُنَّا نَعْرِفُ نَوْمَهُ بِنَفْخِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت کریب بن ابو مسلم ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گزاری ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگہبانی کی، فرمایا کہ پس آپ سوگئے ، پھر آپ جاگے تو آپ نے اپنے چہرے کو دھویا ۔اور دونوں ہاتھوں کو پھر سو گئے، پھر جاگے تو آپ مشکیزے کی طر ف کھڑے ہوئے ، اس کے سوراخ کو کھولا، یعنی اس کے بندھن کو پھر پیالہ یا برتن سے چلو لیا تو اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرہ کو دھویا ، اور آپ نے اچھی طرح وضو کیا ، دو وضوں کے درمیان ، پھر آپ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے، سو میں آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکمل نماز تیرہ رکعتیں تھیں ، آپ اپنے سجد ہ میں یا نماز میں یہ پڑھ رہے تھے، شعبہ کو شک ہے" اے اللہ میری سماعت میں نور کردے ! میرے دل مین نور بھردے اور میری انکھوں میں نور رکھ دے ! اورمیرے اوپر اور میرے نیچے اور میرےپیچھے ، اور میرے آگے ، اور میرے دائیں جانب ، اور میری بائیں جانب ، کو نور بنا دے اور مجھے نور بنا دے ، اور میرے لیے نور بنادے ۔ پھر آپ سو گئے پھر آپ خراٹے لینےلگے ، یہاں تک کہ ہم نے آپ کے خراٹوں کی وجہ سے آپ کو سویا ہوا معلوم کر لیا، پھر آپ نماز کے لیے نکلے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2829

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَكُرَيْبُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ · حديث 2830

2830 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْهُ امْرَأَةٌ عَنْ صَبِيٍّ لَهَا: هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟، قَالَ: «وَلَكِ أَجْرٌ»

حضرت کریب ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک عورت نے اپنے بچے کے متعلق پوچھا کہ کیا ا س کے لیےحج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ( ہاں !) اور تیرے لیے بھی ثواب ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2830

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ · حديث 2831

2831 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَبِي يُكَلِّمُهُ وَهُوَ مُعْرِضٌ عَنْهُ، مُقْبِلٌ عَلَى رَجُلٍ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ لِي: أَيْ بُنَيَّ، أَمَا رَأَيْتَ ابْنَ عَمِّكَ؟، كُنْتُ أُكَلِّمُهُ فَلَا يُجِيبُنِي قُلْتُ: يَا أَبَهْ، أَمَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ يُكَلِّمُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَوَ كَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَرَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: وَرَأَيْتَهُ؟ " قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بِذَلِكَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَرَأَيْتَهُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ»

حضرت عمار بن ابو عمار ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے والد ( حضرت عباس رضی اللہ عنہ) کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، سو میرے والد ! آپ کے ساتھ گفتگو کرنے لگے۔اور آپ نے ان سے اعراض کیا ، اور ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوگئے ۔پس جب نکلے تو مجھے میرے والد نے کہا: اے میرے لخت جگر ! تونے اپنے چچا زاد کو نہیں دیکھا کہ میں ان کے ساتھ گفتگو کرتا تھا وہ مجھے جواب نہیں دیتے تھے، میں نے عرض کی: اے ابا جان ! کیا آپ نے ان کے پاس وہ آدمی نہیں دیکھا جس کے ساتھ وہ گفتگو کر رہے تھے، انہوں نے کہا : نہیں ! فرمایا : کیا ان کے پاس کوئی موجود تھا؟ حضرت ابن عباس نے عرض کی: جی ہاں ! وہ واپس آئے ، عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ کے پاس کوئی تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ نے اس کو دیکھا تھا؟ ( حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ) عرض کی کہ مجھے عبداللہ نے بتایا ہے اس کے متعلق، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے ، فرمایا : کیا تو نے اس کو دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ جبریل علیہ السلام تھے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2831

chevron_left Previous
1…707172…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter