مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو رَافِعٍ · حديث 2568
2568 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَسْوَدَ أَوِ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تُنْقِي الْأَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ فَدُفِنَتْ، فَلَمْ يُؤْذِنُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا» فَانْطَلَقَ إِلَى الْقَبْرِ فَأَتَى عَلَى الْقُبُورِ فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا عَلَيْهِمْ بِصَلَاتِي» ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي، أَوْ أَخِي مَاتَ وَدُفِنَ فَصَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْأَنْصَارِيِّ
حضرت ابو رافع ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک کالا مرد یا کالی عورت مسجد کی صفائی کرتے تھے ( وہ فوت ہوئے ) تو اس کو دفن کردیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو طلاع نہیں دی گئی ، سو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتلاؤ! پس آپ اس کی قبر کی طرف چلے ، آپ اس کی قبر پر آئے فرمایا : بے شک یہ قبریں اپنے اہل پر اندھیرے سے بھری ہوتی ہیں ، اور اللہ عزوجل میری نماز کی برکت سے اس کو منور کردیتاہے۔ پھر قبر پر آئے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی، ایک انصاری آدمی نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرا باپ یا بھائی مرگیا ہے اور دفن کیا گیا ہے، اس کے لیے دعا کریں ! کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس انصاری کے ساتھ چل پڑے ( اور آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی) ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← أبو عامر الخزاز صالح بن رستم ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2568
