مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2556
2556 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ [ص:180] مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضْلًا، يَلْتَمِسُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَإِذَا أَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَلَسُوا فَأَظَلُّوهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَامُوا عَرَجُوا إِلَى رَبِّهِمْ، فَيَقُولُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ أَعْلَمُ: «مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟» فَيَقُولُونَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ يُسَبِّحُونَكَ، وَيُمَجِّدُونَكَ، وَيَحْمَدُونَكَ، وَيُهَلِّلُونَكَ، وَيُكَبِّرُونَكَ، وَيَسْتَجِيرُونَكَ مِنْ عَذَابِكَ، وَيَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ، فَيَقُولُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: «وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي وَنَارِي؟» ، فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: «فَكَيْفَ وَلَوْ رَأَوْهُمَا؟، فَقَدْ أَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا، وَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا» فَيُقَالُ: إِنَّ فِيهِمْ رَجُلًا مَرَّ بِهِمْ فَقَعَدَ مَعَهُمْ، فَيَقُولُ: «وَلَهُ قَدْ غَفَرْتُ، إِنَّهُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ»
حضرت سہیل بن ابو صالح اپنے والد سے ، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ کے فرشتے سیاحت کرتے ہیں ، ذکر کی مجالس تلاش کرتے ہیں ، جب ایسے لوگوں کے پاس آتے ہیں جو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہیں ، وہ بیٹھ جاتے ہیں ، پس ان کو اپنے پروں کے ساتھ ڈھانپ لیتے ہیں ، اس جگہ سے لے کر آسمان دنیا تک ، سو جب وہ کھڑے ہوتے ہیں تو اپنے رب کے ہاں جاتے ہیں ۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ، حالانکہ اللہ زیادہ جانتا ہے: کہاں سے آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں ، وہ تیری تسبیح اور تیری حمد، اور تیری بزرگی ، اور تیری تہلیل ، اور تیری تکبیر کرتے ہیں اور تجھ سے تیرے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں اور تجھ سے جنگ مانگتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے میری دوزخ اور جنت دیکھی ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : نہیں ! ( اللہ عزوجل ) فرماتا ہے: اگر ان دونوں کو دیکھ لیں تو ( پھر کیا عالم ہوگا) ؟َ ( اللہ عزوجل فرماتا ہے : فرشتو! تم گواہ رہنا کہ) جس سے پناہ مانگتے ہیں اس سے میں نے ان کو پناہ دے دی، اور جو وہ مانگتے تھے میں نے ان کو عطا کردیا۔ کہا جاتا ہے : ان میں سے ایک آدمی ایسا تھا جو ان کے پاس سے گزر ا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ تو ( اللہ عزوجل ) فرماتا ہے : میں نے اس کو بھی معاف کر دیا کیونکہ وہ ایسی قوم ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں ہوسکتا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2556
