Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2556

2556 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ [ص:180] مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضْلًا، يَلْتَمِسُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَإِذَا أَتَوْا عَلَى قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَلَسُوا فَأَظَلُّوهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا قَامُوا عَرَجُوا إِلَى رَبِّهِمْ، فَيَقُولُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ أَعْلَمُ: «مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟» فَيَقُولُونَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ يُسَبِّحُونَكَ، وَيُمَجِّدُونَكَ، وَيَحْمَدُونَكَ، وَيُهَلِّلُونَكَ، وَيُكَبِّرُونَكَ، وَيَسْتَجِيرُونَكَ مِنْ عَذَابِكَ، وَيَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ، فَيَقُولُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: «وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي وَنَارِي؟» ، فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقُولُ: «فَكَيْفَ وَلَوْ رَأَوْهُمَا؟، فَقَدْ أَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا، وَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا» فَيُقَالُ: إِنَّ فِيهِمْ رَجُلًا مَرَّ بِهِمْ فَقَعَدَ مَعَهُمْ، فَيَقُولُ: «وَلَهُ قَدْ غَفَرْتُ، إِنَّهُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ»

حضرت سہیل بن ابو صالح اپنے والد سے ، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ کے فرشتے سیاحت کرتے ہیں ، ذکر کی مجالس تلاش کرتے ہیں ، جب ایسے لوگوں کے پاس آتے ہیں جو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہیں ، وہ بیٹھ جاتے ہیں ، پس ان کو اپنے پروں کے ساتھ ڈھانپ لیتے ہیں ، اس جگہ سے لے کر آسمان دنیا تک ، سو جب وہ کھڑے ہوتے ہیں تو اپنے رب کے ہاں جاتے ہیں ۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ، حالانکہ اللہ زیادہ جانتا ہے: کہاں سے آئے ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں ، وہ تیری تسبیح اور تیری حمد، اور تیری بزرگی ، اور تیری تہلیل ، اور تیری تکبیر کرتے ہیں اور تجھ سے تیرے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں اور تجھ سے جنگ مانگتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : کیا انہوں نے میری دوزخ اور جنت دیکھی ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں : نہیں ! ( اللہ عزوجل ) فرماتا ہے: اگر ان دونوں کو دیکھ لیں تو ( پھر کیا عالم ہوگا) ؟َ ( اللہ عزوجل فرماتا ہے : فرشتو! تم گواہ رہنا کہ) جس سے پناہ مانگتے ہیں اس سے میں نے ان کو پناہ دے دی، اور جو وہ مانگتے تھے میں نے ان کو عطا کردیا۔ کہا جاتا ہے : ان میں سے ایک آدمی ایسا تھا جو ان کے پاس سے گزر ا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ تو ( اللہ عزوجل ) فرماتا ہے : میں نے اس کو بھی معاف کر دیا کیونکہ وہ ایسی قوم ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں ہوسکتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2556

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2557

2557 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ مُتَوَالِيَاتٍ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ»

حضرت صفوان بن سلیم ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے لگاتار تین جمعے چھوڑے بغیر عذر کے اللہ عزوجل اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2557

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2558

2558 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا [ص:182] أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ: «يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ» فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ فَيُنَادِي فِي السَّمَاءِ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ، قَالَ: وَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا كَانَ كَذَلِكَ

حضرت سہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ عزوجل جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلواتا ہے ، فرماتا ہے : اے جبریل ! میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان میں آواز دی جاتی ہے کہ بے شک فلاں آدمی سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو، فرمایا کہ اہل آسمان اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کی قبولیت زمین میں رکھ دی جاتی ہے، اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو اس کا حشر بھی اسی طرح ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2558

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2559

2559 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

حضرت سہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : گھوڑے کی پیشانی میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک بھلائی رکھ دی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2559

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2560

2560 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَالَ: هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ مِنْ أَهْلَكِهِمْ "

حضرت سہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے کہا کہ لوگ ہلاک ہو گئے، تو وہ بھی ان ہلاک ہونے والوں میں سے ہے۔

هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ مِنْ أَهْلَكِهِمْ ← مَنْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2560

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2561

2561 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُسْلِمٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ [ص:184] فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ فِي عَوْنِ أَخِيهِ»

حضرت ابو صالح ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتاہے ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مشکلات دور کرتے گا، اور جو کسی مسلمان پر آسانی پیدا کرتا ہے تو اللہ عزوجل دنیاو آخرت میں اس پر آسانی کرے گا، اور جو کسی مسلمان کی دنیا میں پردہ داری کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ داری کرتا ہے، اللہ عزوجل اپنے اس بندہ کی مدد میں ہوتا ہے جو اپنے بھائی کی مددکرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2561

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2562

2562 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَانَ ثِقَةً قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ كَنْزِهِ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِكَنْزِهِ فَيُحْمَى صَفَائِحًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ إِبِلِهِ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِإِبِلِهِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، وَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي [ص:186] زَكَاةَ غَنَمِهِ إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَبِغَنَمِهِ كَأَوْفَرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطُؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، فَيُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْخَيْلُ؟، قَالَ: " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَالْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى آخَرَ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ يَتَّخِذُهَا فَيَحْبِسُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا فَلَهُ أَجْرٌ، وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ فَأَطَالَ لَهَا كَانَ لَهُ بِكُلِّ مَا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَتْهَا أَوْ أَخْطَاهَا أَجْرٌ، وَلَوْ مَرَّ بِهَا عَلَى نَهَرٍ فَسَقَاهَا مِنْهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ «حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا» وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَرَجُلٌ اتَّخَذَهَا تَعَفُّفًا وَتَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا، وَلَا يَنْسَى حَقَّهَا فِي ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا، وَفِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، وَأَمَّا الَّتِي عَلَيْهِ وِزْرٌ فَرَجُلٌ اتَّخَذَهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَرِيَاءً النَّاسِ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الْحُمُرِ؟، قَالَ: " مَا نَزَلَ عَلَيَّ فِيهِ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْجَامِعَةُ: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ [ص:187] يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 8] "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو خزانہ کا مالک اپنے خزانہ کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ہے اس کو اور اس کے خزانہ کو قیامت کےدن لایا جائے گا، اس کو جہنم کی آگ میں گرایا جائے گا، اس کے ساتھ اس کی پیشانی اور اس کی پیٹھ کو داغا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا ۔ وہ دن پچاس ہزار سال کی مقدار کا ہوگا جو سال تم شمار کرتےہو۔ جو اونٹوں کا مالک اونٹوں کی زکوٰۃ نہیں دیتا ہو گا، قیامت کے دن اسے اور اس کے اونٹوں کو لایا جائے گا، اس کے اونٹ بہت زیادہ ہوں گے ، ان کے لیےپتھریلی زمین بنائی جائے گی، وہ اونٹ اس کو اپنے پاؤں کے نیچے روندیں گے، جب ان اونٹوں کا آخری حصہ ختم ہوگا تو پہلے از سر نو شروع ہوں گے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اس دن اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا ۔ وہ دن پچاس ہزار سال کا ہوگا دنیا کے سالوں کی طرح ، اس کے بعد وہ اپنی جگہ جنت یا دوزخ میں دیکھ لیں گے۔ اور جو بکریوں کا مالک ہوگا اور ان بکریوں کی زکوٰۃ نہیں دیتا ہو گا ، وہ خود اور اس کی بکریاں قیامت کے دن لائی جائیں گی، دنیا کی مقدار سے زیادہ لائی جائیں گی اور ان کے لیے پتھریلی زمین بنائی جائے گی۔وہ بکریاں اس کو اپنے سینگوں اور پاؤں سے روندیں گی ، آخری بکری کے گزرنے کے بعد پہلی دوبارہ سے آئیں گی ، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر دے گا، اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کی مسافت جتنی ہوگی، جو دنیا میں شمار کیا جاتا ہے۔پس وہ اپنا ٹھکانہ جنت میں یا جہنم میں دیکھ لے گا۔ عرض کی گئی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اور گھوڑوں کے متعلق ؟ آپ نے فرمایا: گھوڑے کی پیشانی میں اللہ عزوجل نے قیامت کے دن تک بھلائی ہی لکھ دی ہے ، گھوڑے بھی تین قسم کے ہیں : ایک گھوڑا آدمی کے لیے ثواب کا ذریعہ ہے ، وہ گھوڑا جس کو آدمی نے اللہ کی راہ کےلیے رکھا ، وہ گھوڑا جو کچھ پیٹ میں دالتا ہے ، اس آدمی کو اس کا بھی ثواب ملتا ہے۔ اگر چرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو چرنا بھی ثواب کا ذریعہ بنے گا، اگر کسی بلندی پر چڑھے گا تو ہر قدم کے بدلے اس آدمی کو ثواب ملے گا، اگر وہ گھوڑا کسی نہر پر گزرا اور وہاں پانی پیا تو اس کا پانی پینا بھی ثواب کا ذریعہ ہوگا، یہاں تک کہ اس کی لید اور پیشاب میں بھی ثواب ہے ۔ ایک گھوڑا وہ ہے جو آدمی کے لیے پردہ بنے گا۔وہ آدمی جو گھوڑا عزت ، سوال سے بچنے کے لیے اور خوبصورتی کے لیے رکھتا ہے۔ وہ گھوڑا جو آدمی کے لیے عذاب کا ذریعہ بنے گا ۔جو اس نے لوگوں کے دکھاوے کے لیے رکھا ۔ عرض کی گئی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس کے متعلق کوئی جامع آیت نازل نہیں ہوئی ، سوائے اس کے جو ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو زرہ برابر بھی برائی کرے گا وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سهيل بن أبي صالح المدني، ← وهيب بن خالد-وكان ثقة- ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2562

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو صَالِحٍ · حديث 2563

2563 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَيُفْتَحُ عَلَيْهِ» قَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا وَاسْتَشْرَفْتُ رَجَاءَ أَنْ يُدْفَعَ إِلَيَّ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَعَا عَلِيًّا فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ فَقَالَ: «قَاتِلْ، وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ» فَسَارَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى مَا [ص:188] أُقَاتِلُ؟، قَالَ: " حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ

حضرت سہیل اپنے والد سے وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا : میں جھنڈا اس کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتاہو گا تو اللہ تعالیٰ فتح دے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حکومت کو کبھی پسند نہیں کیا اس دن سے پہلے ، سو میں نے اس امید کی خواہش کی کہ مجھے دیا جائے گا۔ پس جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو بلوایا، اور ان کو دے دیا، فرمایا : لڑ! اورپیچھے نہ دیکھ یہاں تک کہ اللہ عزوجل تجھے فتح دے ! وہ تھوڑے چلے ، پھر عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کب تک جنگ کروں ؟ فرمایا : اس وقت تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور یہ کہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے رسول ہیں، جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے اپنے خون اور اپنے مال بچالیے سوائے اس کے مگر حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وُهَيْبٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2563

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ · حديث 2564

2564 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَكَانَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لَبَعْضِنَا مِنَ الطَّعَامِ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِمَّنْ يَصْنَعُ لَنَا فَيُكْثِرُ فَيَدْعُونَا إِلَى رَحْلِهِ قُلْتُ: لَوْ [ص:189] أَمَرْتُ بِطَعَامٍ فَصُنِعَ وَدَعْوَتُهُمْ إِلَى رَحْلِي فَفَعَلْتُ، وَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالْعَشِيِّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ، فَقَالَ: سَبَقْتَنِي يَا أَخَا الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَعِنْدِي إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ؟، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ أَنْصَارِيًّا قَالَ: فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى أَحَدِ الْمُجَنِّبَتَيْنِ، وَبَعَثَ زُبَيْرًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى، وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ، ثُمَّ رَآنِي فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ، وَلَا تَأْتِنِي إِلَّا بِأَنْصَارِيٍّ» قَالَ: فَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: «انْظُرُوا قُرَيْشًا وَأَوْبَاشَهُمْ فَاحْصُدُوهُمْ حَصْدًا» قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَمَا أَحَدٌ مِنْهُمْ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا شَيْئًا، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ يُرِيدُ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا أَخَذَهُ، وَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبِيرَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ فَقَالَ [ص:190] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ» فَأَلْقَى النَّاسُ سِلَاحَهُمْ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ وَمَعَهُ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَتِهَا فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنِ صَنَمٍ مِنْ أَصْنَامِهِمْ وَهُوَ يَقُولُ: {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: 81] ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الصَّفَا فَعَلَا مِنْهُ حَتَّى يَرَى الْبَيْتَ، وَجَعَلَ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيَدْعُوهُ، وَالْأَنْصَارُ عِنْدَهُ يَقُولُونَ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَجَاءَ الْوَحْيُ، وَكَانَ الْحَقُّ إِذَا جَاءَ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رُفِعَ الْوَحْيُ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، قُلْتُمْ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ كَلَّا، فَمَا اسْمِي إِذًا، كَلَّا، إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ " فَأَقْبَلُوا يَبْكُونَ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ»

حضرت عبداللہ بن رباح فرماتے ہیں کہ ہم اپنا وفد لے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے: ہمارے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ہم میں سے بعض نے کھانا بنایا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمارے لیے کھانا بناتے تھے ، وہ بہت زیادہ کھانا بناتے تھے اور ہم کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتے ۔ میں نے عرض کی : اگر میں آپ کو کھانے کی دعو دوں جو بنایا جائے اور میں آپ کو اپنے گھر آنے کی دعوت دوں ، میں ایسا کروں گا، میں رات کو حضرت ابوہریرہ سے ملا میں میں نے عرض کی : اے ابوہریرہ ! دعوت آج رات میرے ہاں ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصاری بھائی ! تو مجھ سے سبقت لے گیا ہے، میں نے ان کو دعوت دی، آپ میرے پاس تھے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! میں تم کو ایک حدیث سناؤں ! حضرت عبداللہ انصاری تھے، فتح مکہ کا ذکر کیا اور فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت خالد بن ولید کو دو طرفوں میں سے ایک طرف کو بھیجا اور حضرت زبیر کو دوسری طرف بھیجا ابو عبید بن جراح کو باقی رہی فوج کے ساتھ کمان دے کر بھیجا، پھر مجھے دیکھا اور فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! لبیک و سعد یک ک! فرمایا : میرے پاس انصار کو بلاؤ اور انصار کے علاوہ کسی کو نہ بلاؤ ۔ میں نے ایسا ہی کیا ، پھر فرمایا : قریش کے اوباش جہاں دیکھو ان کو مار دو۔ ہم چلے تو ان میں سے کوئی بھی ہماری طرف نہ بڑھتا اور نہ کوئی آگے ہوتا، ان میں جو چاہتا تو یہ اس کو پکڑ لیتے ۔ ابو سفیان آیا ، اس نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قریش کی جوانی ختم ہوگئی، آج کے بعد قریش نہیں ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو ابو سفیان کے گھر آجائے وہ بھی امن والا ہے ، جو اسلحہ پھینک دے ووہ بھی امن والا ہے ۔ لوگوں نے اسلحہ پھینک دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، آپ نے طواف حجر اسود سے شروع کیا، اس کو استلام کیا ، پھر سات طواف کے چکر لگائے اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نفل اد اکیے پھر آئے تو آپ کے پاس کمان تھی، اس کی نوک بتوں کی آنکھوں میں چبھوتے اور پڑھتے : حق آگیا ، باطل چلا گیا، بے شک باطل جانے والا ہے۔ پھر چلے، یہاں تک کہ صفا پر آئے اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا ، اللہ کی حمد کی اور اس سے دعا کرنے لگے۔ انصار کے پاس ہی کہہ رہے تھے: بدحال آدمی کو قربت کی رغبت اور رشتے داروں سے نرمی کرنے کا کیال آنا شروع ہو گیا، وحی آنا شروع ہو گئی ۔ وحی جب آتی تھی تو ہم پر مخفی نہیں ہوتی تھی، جب وحی آنا ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : اے انصار ! تم کہتے ہو کہ آدمی کو رشتے داروں کی رغبت اور ان کی نرمی نے آ لیا ، ہر گز ایسا نہیں ہے ، پھر تو اس وقت میرا نام ہی نہیں رہا، ہر گز نہیں! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، میرا دنیا میں رہنا اور دنیا سے جانا تمہارے ساتھ ہی ہے۔ صحابہ کرام رونے لگے اور عرض کرنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کی قسم ! ہم نے ایسے نہیں کہا، اللہ کی قسم ! ہم نے صرف اللہ اور اس کے رسول پر رشک کرتے ہوئے کہا، بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری کرتا ہے اور تمہارا عذر قبول کرتاہے۔

وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَكَانَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لَبَعْضِنَا مِنَ الطَّعَامِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2564

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ · حديث 2565

2565 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ دُخَانُ جَهَنَّمَ وَغُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فِي مَنْخِرَيْ عَبْدٍ أَوْ قَدَمِ مُسْلِمٍ»

حضرت عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : وہ آنکھ جہنم میں داخل نہیں ہوگی جو اللہ عزوجل کے خوف کی وجہ سے روتی ہے ۔ حتیٰ کہ دودھ نکلا ہوا تھنوں میں واپس چلا جائے ( اسی طرح رونے والا جہنم میں نہیں جائے گا) اور جہنم کا دھواں اور اللہ کی راہ کا غبار دونوں جمع نہیں ہوں گے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2565

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو رَافِعٍ · حديث 2566

2566 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي [ص:193] هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَقَالَ: «رَأَيْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ حَتَّى أَلْقَاهُ»

حضرت ابو رافع ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے " اذالسماء انشقت" میں سجدہ کیا اور فرمایا کہ میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ، سو میں سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ مر جاؤ ں۔

أَبِي [ص:193] هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ← أَبَا رَافِعٍ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2566

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأَبُو رَافِعٍ · حديث 2567

2567 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ اسْمُ مَيْمُونَةَ أَوْ زَيْنَبَ بَرَّةَ، «فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ أَوْ زَيْنَبَ»

حضرت ابو رافع ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت میمونہ یا حضرت زینب کا نام برہ تھا، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام میمونہ یا زینب رکھا۔

كَانَ اسْمُ مَيْمُونَةَ أَوْ زَيْنَبَ بَرَّةَ، «فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ مَيْمُونَةَ أَوْ زَيْنَبَ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا رَافِعٍ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2567

chevron_left Previous
1…484950…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter