Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2400

2400 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُجَادِلُوا فِي الْقُرْآنِ فَإِنَّ جِدَالًا فِيهِ كُفْرٌ»

حضر ت سلیمان بن یسار ،حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قرآن میں نہ جھگڑو اس میں جھگڑنا کفر ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2400

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2401

2401 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي حُشٍّ مِنْ حُشَّانِ الْمَدِينَةِ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَقَرُبَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ رَفِيعُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ» فَإِذَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَقَرُبَ يَحْمَدُ اللَّهَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ خَفِيضُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ» فَأَذِنْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَرُبَ يَحْمَدُ اللَّهَ حَتَّى جَلَسَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو [ص:45]، أَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: «أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ»

حضرت محمد بن عبید ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے باغوں میں سے کسی باغ میں تھے کہ ایک آدمی نے اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو اجازت دے دو، اور ساتھ ہی اسے جنت کی خوشخبری بھی دے دو دیکھا تو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔سو میں نے آپ کو اجازت بھی دی اور جنت کی خوشخبری بھی دی، آپ قریب ہوئے تو اللہ کی تعریف کی یہاں تک کہ بیٹھ گئے ۔ پھر ایک اور آدمی نے اجازت مانگی ، اس آدمی کی آواز اونچی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایااس کو اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو۔ تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے آپ کو اجازت اور جنت کی خوشخبری دی ، وہ قریب ہوئے تو اللہ کی تعریف کی اور بیٹھ گئے۔ پھر ایک اور آدمی نے اجازت چاہی ، اس آدمی کی آواز پست تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اس کو اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو اور ساتھ ہی اس پر آزمائش کی بھی جو اس کو پہنچے گی۔ پس میں نے ان کو اجازت دی اور جنت کی خوشخبری بھی دی تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے وہ قریب ہوئے اور اللہ کی حمد کی یہاں تک کہ بیٹھ گئے ۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں کہاں ہوں ؟ آپ نے فرمایا : تو اپنے باپ کے ساتھ ہوگا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَنَفِيِّ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2401

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2402

2402 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ: قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيََ، صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيََ، صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيََ»

حضرت ابو عیاض ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : مہینہ میں ایک روزہ رکھ تیرے لیے پورے ماہ کا ثواب ہوگا اور دو روزے رکھ تیرے لیے اس کے علاوہ کا ثواب ہوگا، تین روزے رکھ تیرے لیے اس کے علاوہ ثواب ہو گا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبَا عِيَاضٍ ← زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2402

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2403

2403 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ [ص:46] صَلَاةِ الْقَائِمِ»

حضرت ابو یحییٰ الاعرج ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ کر نماز پڑھنے کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے آدھا ثواب ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِی يَحْيَی الْأَعْرَجِ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2403

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2404

2404 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى قَوْمٍ يَتَوَضَّئُونَ، وَكَانَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: «أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ» أَوْ «لِلْعَرَاقِيبِ» قَالَ شُعْبَةُ أَحَدُهُمَا

حضرت ابو یحییٰ الاعرج ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قوم کے پاس ائے جو وضو کررہی تھی، اور آپ سفر کی حالت میں تھے، فرمایا : خوب اچھی طرح وضو کرو ، ہلاکت ہے ان اعقاب ( ایڑیوں ) کے لیے آگ کی۔ یا فرمایا: عراقیب کے لیے ۔ امام شعبہ ان دونوں میں سے ایک کے بارے میں فرماتے ہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِی يَحْيَی الْأَعْرَجِ ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2404

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2405

2405 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ نُورًا مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ»

حضرت ابن دیلمی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے عرض کی : مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ یہ بیان کرتے ہیں کہ بد بخت وہ ہوتا ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت ہوگا؟ آپ نے فرمایا : میں کسی کے لیے جائز نہیں سمجھتا کہ وہ مجھ پر جھوٹ باندھے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ بے شک اللہ عزوجل نے مخلوق کو اندھیرے مین پیدا کیا ، پھر ان پر نور ڈالا اپنے نور سے ، جس کو اس نورسے کچھ پہنچا وہ ہدایت والا ہوگیا اور جس کو نہیں پہنچا وہ گمراہ ہو گیا۔

ابن الديلمي ← رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2405

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2406

2406 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَرْفَعُ الْعِلْمَ بِقَبْضٍ يَقْبِضُهُ، وَلَكِنْ يَرْفَعُ الْعُلَمَاءَ بِعِلْمِهِمْ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَحَدِّثُوا، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا»

حضرت عروہ بن زبیر ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ علم کو نہیں اٹھا ئے گا مگر تھوڑا تھوڑا کر کے لیکن علماء کو ان کے علم کے ساتھ اٹھائے گا یہاں تک کہ کوئی عالم نہیں رہے گا، لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے ان سے پوچھیں گے وہ ان کو بتائیں گے ، وہ خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

أَشْهَدُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2406

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2407

2407 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ [ص:49] بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو نَوْفًا فَقَالَ: حَدِّثْ، فَإِنَّا، قَدْ نُهِينَا عَنِ الْحَدِيثِ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأُحَدِّثَ وَعِنْدِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ، يَخْرُجُ خِيَارُ الْأَرْضِ إِلَى مُهَاجَرِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَيَبْقَى فِي الْأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا، تَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَتَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ، وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ» وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا قُطِعَ قَرْنٌ نَشَأَ قَرْنٌ كُلَّمَا قُطِعَ قَرْنٌ نَشَأَ قَرْنٌ كُلَّمَا قُطِعَ قَرْنٌ نَشَأَ قَرْنٌ ثُمَّ يَخْرُجُ [ص:50] فِي بَقِيَّتِهِمُ الدَّجَّالُ»

حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کسی سواری پر سوار ہو کر تشریف لائے اور کہنے لگے : حدیث سناؤ! تحقیق ہمیں حدیث کو بیان کرنے سے روکا گیا ہے، تو کہنے لگے : میں حدیث بیان کرنے والا نہیں حالانکہ میرے پاس قریش میں ایک صحابی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہے۔ تو حضرت عبداللہ بن عمرو کہنے لگے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہوگی اور روئے زمین کے نیک لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ کی طرف نکلیں گے اور روئے زمین پر برے لوگ باقی رہ جائیں گے ، انہیں ان کی سر زمین پھینک دے گی ۔اور ذات الٰہی ان سے نفرت کا اظہار کرے گی۔ اور آگ انہیں بندوں اور خنزیروں کا ساتھی بنا دے گی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرق کی جانب سے ایک قوم نکلے گی وہ قرآن پڑھیں گے وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، جب بھی ایک گروہ کو مارا جائے گا دوسرا پیدا ہو جائے گا، جب دوسرے کو مارا جائے گا تیسرا پیدا ہو جائے گا ، ایک گروہ کے بعد دوسرا گروہ پیدا ہوتا رہے گا ، پھر ان کی باقیات سے دجال نکلے گا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مَا كُنْتُ لَأُحَدِّثَ وَعِنْدِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ مِنْ قُرَيْشٍ ← الْحَدِيثَ. ← قَدْ نُهِينَا ← حَدَّثَ ← أَتَى عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو نَوْفًا ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2407

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2408

2408 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ [ص:51]، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْوَهْطَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَأَمَرَ مَوَالِيَهُ أَنْ يَتَسَلَّحُوا، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»

قبیلہ مخزوم سے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ اپنے چچا سے کہ حضرت معاویہ نے ارادہ کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمرو کا تھیلا لے لیں ، حضرت عمرو نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ مسلح رہیں ، آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا، آپ نے فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو انسان اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے۔

رجلا من بني مخزوم ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2408

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2409

2409 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، يُحَدِّثُ عَنْ شُمَيْطِ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ جَابَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، عَاقٌّ وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ، وَلَا مُدْمِنٌ»

حضرت جابان ، حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں نافرمان ، احسان جتلانے والا، ولدالزنا اور شراب کا عادی داخل نہیں ہوں گے۔

«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، عَاقٌّ وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ، وَلَا مُدْمِنٌ» ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جابان ← شُمَيْطِ بْنِ نُبَيْطٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2409

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ · حديث 2410

2410 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَبَّرَ عَلَى النَّجَاشِيِّ أَرْبَعًا»

حضرت سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت نجاشی کے جنازہ پر چار تکبیرں کہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2410

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا أَسْنَدَ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ · حديث 2411

2411 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قُلْتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِأَخِيكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ: أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَوْتَ "

حضرت سعید ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تو نے جمعہ کےدن اپنے بھائی سے کچھ اس حالت میں کہ امام خطبہ دے رہا ہو کہ تو خاموش ہوجا! تو تو نے لغو بات کی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2411

chevron_left Previous
1…353637…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter