Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2388

2388 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَلَنْ يَرَاحَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا» فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَرَادَ أَنْ يَدَّعِيَهُ، قَالَ جُنَادَةُ: إِنَّمَا أَنَا سَهْمٌ مِنْ كِنَانَتِكَ، فَارْمِ بِي حَيْثُ شِئْتَ

حضرت یزید بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس نے سمجھا نہیں ہے جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2388

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2389

2389 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ» يَعْنِي الْقُرْآنَ

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2389

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2390

2390 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک پہاڑی پر رہنے اجڈ مزدور اعرابی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ) آیا ، پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمیں ہجرت کے متعلق آگاہ فرمائیں ! کیا ہجرت اس علاقے کو چھوڑنے کا نام ہے جہاں آپ سکونت پذیر تھے؟ یا کسی خاص جگہ پر جانے کا نام ہے؟ یا کسی قوم کے لیے خاص ہے؟یا جب آپ کا انتقال ہوجائے گا تو ہجرت ختم ہو جائےگی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات سن کر خاموش ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد پوچھا: سوال کرنے والا کہا ں ہے؟ وہ اعرابی کہتے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں یہاں ہوں ، تو آپ نے فرمایا : ہجرت سے مراد یہ ہے کہ تم ظاہری اور مخفی برائیوں سے اجتناب کر لو، پھر تم جہاجر ہو، اگر چہ تمہاراانتقال شہر میں ہی کیوں نہ ہو۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← خَالِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2390

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2391

2391 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حَنَانَ بْنِ خَارِجَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ عُلْوِيٌّ جَرِيءٌ جَافٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الْهِجْرَةِ، أَهِيَ إِلَيْكَ حَيْثُ كُنْتَ؟ أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْرُوفَةٍ؟ أَمْ لِقَوْمٍ خَاصَّةً؟ أَمْ إِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «الْهِجْرَةُ أَنْ تَهْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، ثُمَّ أَنْتَ مُهَاجِرٌ وَإِنْ مِتَّ فِي الْحَضَرِ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَخَلْقٌ تُخْلَقُ، أَمْ نَسْجٌ تُنْسَجُ؟، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِمَّ تَضْحَكُونَ؟ أَمِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا؟» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ تَتَشَقَّقُ عَنْهَا ثَمَرُ الْجَنَّةِ، بَلْ تَتَشَقَّقُ عَنْهَا ثَمَرُ الْجَنَّةِ» مَرَّتَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا تَقُولُ فِي الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ؟ فَقَالَ [ص:36]: «يَا عَبْدَ اللَّهِ، ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَاغْزُهَا، وَابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَجَاهِدْهَا، فَإِنَّكَ إِنْ قُتِلْتَ فَارًّا بَعَثَكَ اللَّهُ فَارًّا، وَإِنْ قُتِلْتَ مُرَائِيًا بَعَثَكَ اللَّهُ مُرَائِيًا، وَإِنْ قُتِلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَكَ اللَّهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا»

حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سوال کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ہمیں جنتیوں کے کپڑوں کےمتعلق بتائیں ، کیا ان کپڑوں کو پیدا کیا جائےگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے جبکہ کچھ لوگ مسکرانے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کیوں ہنس رہے ہو؟ کیا اس جاہد کی وجہ سے جو عالم بن کر سوال کررہا ہے؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سائل کے متعلق دریافت کیا تو اس نے جواب دیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں یہاں ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جنتی پھل اس سے الگ ہوجائے گا بلکہ جنتی پھل اس سے دو مرتبہ علیحدہ ہو جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : ہجرت اور جہاد کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ ! اپنی ذات سے شروع کر اور اسی سے جہاد کر، یعنی جہاد بالنفس کر ، اپنی ذات سے ہی جہاد کر، اگر تو راہ فرار اختیار کرتا ہوا شہید کردیا گیا تو اللہ تعالیٰ تجھے فرار ہوتے ہوئے اٹھا ئے گا اگر تو ریا کاری کرتا ہوا شہید کردیا گیا تو اللہ تعالیٰ تجھے ریاکاری کرتے ہوئے ( قیامت کے دن ) اٹھائے گا، اگر تو نے صبر کرتے ہوئے اور احتساب کرتےہوئے جام شہادت نوش کیا تو اللہ تعالیٰ تجھے اسی حالت میں اٹھائے گا۔

جَاءَ أَعْرَابِيٌّ عُلْوِيٌّ جَرِيءٌ جَافٍ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2391

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2392

2392 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، إِنَّ هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهَا»

حضرت جبیر بن نفیر کا بیان ہے کہ ان سے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر زرد رنگ کے دو کپڑے دیکھے تو فرمایا : اے عبداللہ ! یہ کپڑے کفار کے ہیں ، تو اس کو نہ پہن۔

رَأَی رَسُولُ اللَّهِ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ ← إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ← خالد بن معدان أن جبير بن نفير ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2392

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2393

2393 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَتَمُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهِ سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْهُ» فَقِيلَ: وَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ: «يَذْبَحُهُ فَيَأْكُلُهُ وَلَا يَقْطَعْ رَأْسَهُ فَيُرْمَى بِهِ»

حضرت صہیب مولیٰ حضرت ابن عامر ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے چڑیا کو بغیر حق کے مارا اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے پوچھے گا۔ آپ سے عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نےفرمایا : اس کو ذبح کرنا اور اس کے بعد اس کو کھانا، اس کے سر کو نہ کاٹا جائے اور اس کو پھینک دیا جائے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← صُهَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَامِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَتَمُّ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2393

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2394

2394 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ هِلَالٍ أَوْ هِلَالَ بْنَ طَلْحَةَ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَوْمُ ثَلَاثَةٍ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ، مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» فَقُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ: «فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا»

حضرت طلحہ بن ہلال یا ہلال بن طلحہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :ہر ماہ کے تین روزے رکھنا سال بھر روزے رکھنے کے برابر ثواب ہے، جو ایک نیکی کرے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام والا روزہ رکھ ، ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن افطار کر۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← طَلْحَةَ بْنَ هِلَالٍ أَوْ هِلَالَ بْنَ طَلْحَةَ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2394

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2395

2395 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ جَابِرٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَتَاهُ مَوْلًى لَهُ فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا، يَعْنِي رَمَضَانَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: هَلْ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَّا لَا فَارْجِعْ فَدَعْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:39] يَقُولُ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ»

حضرت وہب بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں تھا ، آپ کے پاس آپ کا ایک غلام آیا ، اس نے عرض کی : میرا ارادہ ہے کہ میں پورا مہینہ یہاں رہوں ، یعنی رمضان کا مہینہ ، اس کو حضرت عبداللہ نے کہا : کیا تو نے اپنے گھر والوں کے لیے اتنا سازو سامان چھوڑا ہے جو ان کے لیے کافی ہو؟ اس نے عرض کی: نہیں! تو ( حضرت عبداللہ نے ) فرمایا :واپس جاؤ !سو اپنے گھر والوں کے لیے اتنا سازو سامان چھوڑ کر آؤ جو ان کے لیے تیرے آنے تک کافی ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا : آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو اس کےزیر کفالت ہیں ان کا حق ضائع کردے۔

«كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ» ← رَسُولَ اللَّهِ [ص:323] ← أَمَّا لَا فَارْجِعْ فَدَعْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ، فَإِنِّي ← لَا۔ ← لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: هَلْ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ؟ ← إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا، يَعْنِي رَمَضَانَ، ← شَهِدْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَتَاهُ مَوْلًى لَهُ ← وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2395

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2396

2396 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَكَانَ صَدُوقًا مُسْلِمًا، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ «يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، وَأَنَّهُمْ لَوْ أُرْسِلُوا عَلَى النَّاسِ لَأَفْسَدُوا عَلَيْهِمْ مَعَايِشَهُمْ، وَلَنْ يَمُوتَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَرَكَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ أَلْفًا [ص:40] فَصَاعِدًا، وَأَنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ ثَلَاثَ أُمَمٍ، تَاوِيلَ، وَتَارِيسَ وَمَنْسَكَ»

حضرت وہب بن جابر ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کی مثل حدیث بیان کرتے ہیں کہ مگر تھوڑا سا اس میں اضافہ ہے۔ کہا کہ وہ پھر ہم سے بیان کرنے لگے کہ یاجوج و ماجوج آدمی کی اولاد سے ہیں اور ان کو اگر لوگوں پر چھوڑ دیا جائے تو ان کی معیشت تباہ کردیں اور ان میں سے کوئی بھی مرتا تو اپنے پیچھے ایک ہزار سے زیاد اولاد چھوڑتا اور ان کے پیچھے تین قسم کی امتیں ہیں ، تاویل اور تاریس اور منسک۔

النَّبِيِّ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَكَانَ صَدُوقًا مُسْلِمًا، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2396

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2397

2397 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ عِنْدَهُ أَيَّامُ الْعَشْرِ فَقَالَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ [ص:41] أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَمَلُ فِيهِ مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَأَكْبَرَهُ وَقَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ وَكَانَ مُهْجَتُهُ فِيهِ»

حضرت عبداللہ بن باباہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ کے پاس ذی الحجہ کے دس دنوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا : کچھ ایام اللہ عزوجل کو عمل کےلحاظ سے زیادہ پسند ہیں جتنے پسند ذی الحجہ کے دن دنوں کے ہیں ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جہاد بھی نہیں ! وہ اس سے بڑا عمل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جہاد فی سبیل اللہ نہیں، مگر اس شخص کا جو اپنی ذات اور اپنے مال سمیت جہاد کے لیے نکلے اور ( راہ حق میں ) غبار آلود ہو جائے۔

عِنْدَهُ أَيَّامُ الْعَشْرِ ← حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2397

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2398

2398 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ أَيُّوبُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: «مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ تِيبَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِيَوْمٍ تِيبَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَاعَةٍ تِيبَ عَلَيْهِ» فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ} [النساء: 17] الْآيَةَ قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جس نے موت سے ایک سال پہلے توبہ کر لی اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔اور جس نے مرنے سے ایک دن پہلے توبہ کر لی اس کی توبہ بھی قبول کی جائے گی۔اور جس نے مرنے سے ایک گھڑی پہلے توبہ کر لی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔راوی فرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے عرض کی کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: انما التوبۃ علی اللہ للذین یعملون السو ء بجھالۃ " توبہ صرف ان کے لیے ہے جو بڑائی کرے نہ جاننے کی بناء پر ۔ آپ نے فرمایا : میں وہی بیان کررہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ أَيُّوبُ ← رجل من بنى الحارث ← إبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2398

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ الْأَفْرَادُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو · حديث 2399

2399 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَطَفِقَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ، يَقُولُ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرَى أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ، فَقَالَ: «احْلِقْ وَلَا حَرَجَ» قَالَ: فَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ أَوْ يَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ الْأُمُورِ بَعْضِهَا قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ إِلَّا [ص:43] قَالَ: «افْعَلُوا ذَلِكَ وَلَا حَرَجَ»

حضرت عیسیٰ بن طلحہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کے دن سواری پر سوار تھے، لوگوں نے آپ سے پوچھنا شروع کر دیا ، ایک آدمی نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری رائے میں رمی کرنے سے پہلے قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، سو میں نے قربانی کی ہے رمی سے پہلے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : رمی کرو کوئی حرج نہیں، دوسرے نے پوچھا : میں نہیں سمجھتا کہ حلق نحر سے پہلے ہے ، میں نے قربانی کی حلق سے پہلے ۔ آپ نے فرمایا : حلق کرالے کوئی حرج نہیں ہے، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس دن سے نہیں سنا مگر یہ کہ جو آپ سے پوچھا گیا کہ آدمی بھول کر یا انجانے کی بناء پر بعض امور پہلے کرلے ایک دوسرے سے ، مگر آپ نے یہی فرمایا کر لو کوئی حرج نہیں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2399

chevron_left Previous
1…343536…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter