Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمُوسَى بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2184

2184 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا»

حضرت محمد بن راش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت موسیٰ بن انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خضاب لگایا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : وہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک نہیں پہنچاتے کہ آپ خضاب لگاتے تھے۔ لیکن حضرت ابوبکر حناء وکتم کا خضاب لگاتے تھے( کتم سے مراد وہ نیل کے پتے ہیں جن سے خضاب تیار کیا جاتا ہے اور حناء سے مراد مہندی ہے)۔

أَنَسٍ، ← مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2184

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَمُوسَى بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2185

2185 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ: أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: «لَمْ يَبْلُغْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنْ يَخْضِبَ، وَلَكِنْ أَبُو بَكْرٍ [ص:548] كَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ»

حضرت عبداللہ بن ابو بکر بن انس ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل ایک فرشتے کو ہر رحم میں مقرر کرتا ہے ، پس عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! نطفہ ، اے میرے رب ! علقہ ، اے میرے رب ! مضغہ ۔ جب اللہ عزوجل اس کی تخلیق مکمل کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، وہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! مذکر یا مؤنث ، بد بخت یا سعادت مند۔ یہ سارے معاملات اس کی ماں کے پیٹ میں لکھ دئیے جاتے ہیں۔

أَنَسًا ← سَأَلْتُ مُوسَى بْنَ أَنَسٍ: أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2185

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2186

2186 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ، عَزَّ وَجَلَّ، وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ نُطْفَةٌ، يَا رَبِّ عَلَقَةٌ، يَا رَبِّ مُضْغَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يُتِمَّ خَلْقَهَا قَالَ: يَا رَبِّ ذَكَرًا أَمْ أُنْثَى، شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، فَيُكْتَبُ ذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ "

حضرت عبداللہ بن ابو بکر بن انس ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی حجرہ مبارک میں جھانک کر دیکھا ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تیر موجود تھا ، اس شخص نےچپکے سے وہ تیر اٹھا یا ۔ حضرت انس فرماتےہیں کہ : میں نے اس شخص کو دیکھا کہ اس نےآپ کو مارنے کے لیے تیر اٹھایا۔

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَکَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَکًا ← أَنَسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2186

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2187

2187 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعضِ حُجَرِهِ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِشْقَصٌ، فَقَالَ أَنَسٌ: «فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ»

حضرت عبید اللہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق سوال کیا گیا ۔ تو آپ نے فرمایا : کبیرہ گناہ یہ ہیں ۔ (1) اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شرک کرنا، (2) والدین کی نافرمانی کرنا، (3) کسی کو قتل کرنا، ( 4) اور جھوٹی گواہی یا جھوٹی بات کہنا۔

رَأَيْتُهُ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ» ← أَنَسٍ، ← أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ فِي بَعضِ حُجَرِهِ، وَمَعَ النَّبِيِّ مِشْقَصٌ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2187

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2188

2188 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَبَائِرِ، فَقَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ» أَوْ «قَوْلُ الزُّورِ»

حضرت عبدالرحمٰن بن الاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے نماز میں تکبیر رکوع و سجدہ میں تکبیر کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: آپ اللہ اکبر کہا کرتے تھے۔ جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اٹھتے اور جب سجدہ کرتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے۔ عرض کی : کس سے روایت ہے؟ انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔ حضرت ابوبکر سے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اور حضرت حکیم نے ان سے کہا : اور حضرت عثمان سے ؟ انہوں کہا: اور حضرت عثمان سے بھی۔

الْکَبَائِرُ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2188

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2189

2189 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، وَسُئِلَ عَنِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ، فَقَالَ: «يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ» قَالَ: عَنْ مَنْ؟ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعَنْ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ حَكِيمً: وَعَنْ عُثْمَانَ؟ قَالَ: وَعَنْ عُثْمَانَ

حضرت عبدالرحمٰن ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ریشمی کپڑا بھیجا۔ تو حضرت عمر وہ لے کر آپ کے پاس تشریف لائے ۔ عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے میری طرف یہ بھیجا ہے حالانکہ آپ نے ریشم کے متعلق وہ کچھ فرمایا ہے جو فرمایا ہے تو آپ نے فرمایا: میں نے تیری طرف اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تو اس کو پہن لے ۔ بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ تو اس سے نفع اٹھائے۔

عُثْمَانَ، ← عُثْمَانَ، ← لَهُ حَكِيمٌ ← عُمَرَ، ← أَبِي بَكْرٍ، ← النَّبِيِّ ← مَنْ ← يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتِينِ ← التَّكْبِيرِ فِي الصَّلاةِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ ← أَنَسًا، وَسُئِلَ ← عبد الرحمن بن الأصم ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2189

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2190

2190 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِثَوْبِ سُنْدُسٍ، فَأَتَاهُ عُمَرُ [ص:551]، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذَا، وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ يَعْنِي: فِي الْحَرِيرِ فَقَالَ: «إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهُ، وَلَكِنْ تَنْتَفِعُ بِهِ أَوْ تَسْتَمْتِعُ بِهِ»

حضرت اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے اور ان کےبستر پہ سوتے ۔ ان کو بتایا گیا کہ یہ آپ کے بستر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آرام فرمارہے ہیں ۔ سو وہ آپ کے پاس گئی ۔ اور آپ کو بہت زیادہ پسینہ آیا تھا اور یہ گرمی کا موسم تھا۔ سو انہوں نے ایک برتن پکڑ ا اور آپ کا پسینہ مبارک اس برتن میں ڈالنا شروع کر دیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے ۔ تو آپ نے فرمایا: تم کیا کررہی ہو؟ انہوں نےعرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کی برکت لےرہی ہوں ۔ اس کو ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے ٹھیک کہا ہے۔

أَنَسٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2190

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2191

2191 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ ثَمَّ، قَالَ: فَأُتِيَتْ يَوْمًا، فَقِيلَ لَهَا: هُوَ ذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِكِ، فَانْتَهَتْ إِلَيْهِ وَقَدْ عَرِقَ عَرَقًا شَدِيدًا، وَذَلِكَ فِي الْحَرِّ، فَأَخَذَتْ قَارُورَةً فَجَعَلَتْ تَأْخُذُ مِنَ ذَلِكَ الْعَرَقِ فَتَجْعَلُهُ فِي الْقَارُورَةِ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا تَصْنَعِينَ؟» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَرَكَتُكَ، نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:552]: «أَصَبْتِ»

حضرت اسحاق بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ھوازن کےلوگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بہت زیادہ عورتیں ، بچے اور اونٹ اور گائیں لائے ۔ تو مسلمان اس دن بھاگ گئے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے : اے ھوازن ! اے مہاجرین اور انصار کے گروہ ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ اے مسلمانوں کے گروہ ! میری طرف آؤ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ سو مشرکین کو بغیر نیزہ مارے اور بغیر کوئی تیر مارے اللہ نے شکست دے دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن فرمایا : جس نے کسی مشرک کو قتل کیا۔ اس کا سامان اس کے لیے ہے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن بیس کافر مارے تھے او ر ان کا اسلحہ لے لیا۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! تحقیق میں نے ایک شخص پر حملہ کیا اور اس کی گردن کی رگ پر تلوار ماری اور اسے اس کی گردن سے الگ کر دیا، اس پہ زرہ تھی سو دیکھئے کون اس کو لے گیا۔ تو ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس کو لیا ہے۔ سو آپ نے وہ مجھ کو دی اور مجھے اس سے راضی کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی آپ سے کسی چیز کا سوال کیا جاتا آپ عطاء کر دیتے تھے یا خاموش ہو جاتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : نہیں ! اللہ کی قسم ! اللہ مال فئی اپنے شیروں میں سے کسی شیر کو نہیں دیتا پھر ہم اسے دے دیتے۔ پس تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عمر نے سچ کیا ہے۔ کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس خنجر دیکھا ۔ ( حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا : میں چاہتی ہوں اگر مشرکین میں سے کوئی میرے قریب آیا میں اس کے پیٹ پہ ماروں گی۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور آپ نے فرمایا : اے ام سلیم ! بے شک اللہ کافی ہے اور اچھا ہے۔ انہوں ( حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ ) نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! انہیں مار دئیے یہ آپ سے بھاگ جائیں گے۔

أَنَسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2191

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2192

2192 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: جَاءَتْ هَوَازِنُ يَوْمَ حُنَيْنٍ تُكْثِرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَئِذٍ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا هَوَازِنُ، يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَيَّ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُطْعَنَ بِرُمْحٍ أَوْ يُرْمَى بِسَهْمٍ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: «مَنْ قَتَلَ مُشْرِكًا فَلَهُ [ص:553] سَلَبُهُ» فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَمَلْتُ عَلَى رَجُلٍ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ، وَعَلَيْهِ دِرْعٌ، فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَخَذْتُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَعْطِنِيهَا وَأَرْضِهِ مِنْهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، أَوْ يَسْكُتُ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا، وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ ثُمَّ نُعْطِيكَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ عُمَرُ» قَالَ: وَرَأَى أَبُو طَلْحَةَ مَعَ أُمِّ سُلَيْمٍ خِنْجَرًا، فَقَالَ: مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: أُرِيدُ إِنْ دَنَا أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بَطْنَهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو طَلْحَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْتُلْ هَؤُلَاءِ يَنْهَزِمُوا بِكَ

حضرت اسحاق بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب یہ آیت اتری :" لن تنا لوالبر" تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے ۔ عرض کی : میں چاہتا ہوں کہ ہم سے اللہ راضی ہو جائے اور میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میری اریحاء والی زمین صدقہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں چاہیں اس کو تقسیم کردیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ کہا کہ انہوں نے وہ باغ حضرت حسان بن ثابت اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔

أَنَسٍ، ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2192

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2193

2193 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ} [آل عمران: 92] الْآيَةَ، جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَى اللَّهَ يَسْتَقْرِضُنَا، وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ أَرْضِي بِأَرِيحَاءَ صَدَقَةٌ، فَلْيَضَعْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ شَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهَا فِي قَرَابَتِكَ» قَالَ: فَجَعَلَهَا حَدَائِقَ بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ

حضرت اسماعیل بن عبداللہ بن ابو طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی بھی نہیں دیکھا کہ آپ کی خوشبو دی اور آپ نے اس کو واپس کردیا ہو۔

لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: الْآيَةَ، جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2193

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2194

2194 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فَضَالَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ قَطُّ فَرَدَّهُ»

حضرت حفص بن عبداللہ بن انس روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں کچھ لوگ ہیں جن کے خیر کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شر کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے لیے شر کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور خیر کے بند کردئیے جاتے ہیں ۔ سو خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کے سامنے خیر کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور بربادی اس شخص کے لیے جس کے سامنے برائی کھول دی جاتی ہے۔

«مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ قَطُّ فَرَدَّهُ» ← أَنَسٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← ابْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2194

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَحَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2195

2195 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ النَّاسِ نَاسًا مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ نَاسًا مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ، فَطُوبَى لِمَنْ كَانَ مَفَاتِيحُ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ، وَوَيْلٌ لِمَنْ جُعِلَ مَفَاتِيحُ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ»

حضرت عتاب مولیٰ حضرت ھرمز کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے ان ہاتھوں سے بیعت کی ، سننے اور اطاعت پر جتنی میں طاقت رکھوں گا۔

أَنَسٍ، ← حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← محمد بن أبي حميد الأنصاري ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2195

chevron_left Previous
1…171819…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter