Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2160

2160 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ» قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، قُلْتُ: سَمِعْتُهُ مِنْ أَنَسٍ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت انجشہ عورتوں کی سواریوں کو چلاتے تھے، حضرت انجشہ ایسے آدمی تھے جن کی آواز بڑی اچھی تھی اور جب حدی گاتے تو اونٹ تیز چلتے تھے، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے انجشہ ! تیرے لیے ہلاکت ہو! ٹھہر ٹھہر کر تو شیشوں کا چلا۔

مِنْ أَنَسٍ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ ← شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، قُلْتُ: ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ. ← أَنَسًا ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2160

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2161

2161 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ أَنْجَشَةُ يَحْدُو بِالنِّسَاءِ، وَكَانَ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ يَحْدُو بِالرِّجَالِ، وَكَانَ أَنْجَشَةُ حَسَنَ الصَّوْتِ، وَكَانَ إِذَا حَدَا أَعْنَقَتِ الْإِبِلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو طلحہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس بیماری میں تشریف لائے جس میں آپ کا انتقال ہوا تھا۔ تو آپ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، وہ پاکدامن اوربرد بار یعنی صبر کرنے والے لوگ ہیں ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2161

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2162

2162 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَ: «أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سب سے پہلی چیز جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی وہ آگ ہے، تمہیں مشرق سے مغرب کی جانب اکٹھا کرے گی۔

«أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ» ← دَخَلَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى النَّبِيِّ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، ← أَنَسٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2162

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2163

2163 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ نَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ مچھلی کا جگر تلا ہوا ہوگا۔

«أَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ نَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2163

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2164

2164 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ»

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہود کی عورت کو جب حیض آتا تو نہ اس کے ساتھ کھاتے اور نہ پیتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھا رہتے تھے۔ پس اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری : " آپ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں آپ فرمائیں وہ گندگی ہے" حتی یطھرن تک ۔ سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ کھائیں اور پئیں اور انہیں گھروں میں اکٹھا رکھیں اور وہ جو چاہیں کریں سوائے جماع کے ۔ یہودی کہنے لگے : اس آدمی نے اس سے کیا مراد لیا ہے کہ وہ ایسی چیز کو چھوڑ دے سوائے اس کے کہ وہ ہمارے معاملات کی مخالفت کرے۔ سو حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر آئے ۔ انہوں نے یہودیوں کی اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم ان سے جماع نہ کریں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا یہاں تک کہ ہم کو گمان ہوا کہ ہم دونوں کی بات پر غصہ کیا ہے پس وہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ تو پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دودھ کا ہدیہ لے کر آئے ۔ تو آپ نے ان دونوں کے پیچھے انہیں بھیجا حتیٰ کہ ان دونوں نے دودھ پیا۔ تو ان کو یقین ہو گیا کہ ان پر غصہ نہیں کیا گیا۔

«أَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2164

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2165

2165 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنَ الْيَهُودِ إِذَا حَاضَتْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُشَارِبُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى} [البقرة: 222] إِلَى قَوْلِهِ: {حَتَّى يَطْهُرْنَ} [البقرة: 222] ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَأَنْ يُشَارِبُوهُنَّ وَأَنْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَيَفْعَلُوا مَا شَاءُوا إِلَّا الْجِمَاعَ " فَقَالَتِ الْيَهُودُ: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَذَكَرَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُجَامِعُهُنَّ؟ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ، فَجَاءَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةُ لَبَنٍ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا حَتَّى سَقَاهُمَا مِنَ اللَّبَنِ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو دو ادمی اللہ کے لیے باہم محبت کرتے ہیں ان میں سے افضل وہ ہے جو اپنے صاحب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2165

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2166

2166 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَحَابَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ أَفْضَلَهُمَا أَشَدُّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت صفیہ کو سات اروس کے بدلے میں خریدا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2166

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2167

2167 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ [ص:534]، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اشْتَرَى صَفِيَّةَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ»

امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ ہم سے ایک شخص نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت نضر بن انس سے سنا ، اس شخص نے ایک حدیث کو دوسری حدیث سے ملا دیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت مالک جو حضرت انس کے والد ہیں ، انہوں نے اپنی بیوی حضرت ام سلیم سے کہا، یہ حضرت انس کی والد ہ ہیں کہ اس آدمی نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کو حرام قرار دیا ہے۔ سو وہ چلے یہاں تک کہ شام آئے ، وہ یہاں فوت ہوگئے ، پس حضرت ابو طلحہ آئے ، انہوں نے حضرت ام سلیم کو نکاح پیغام بھیجا۔ حضرت ام سلیم نے ان سے گفتگو کی انہوں نے کہا : اے ابو طلحہ ! تیرے جیسے آدمی کو واپس نہیں کرتی ہوں ، لیکن تو کافر مرد ہے اور میں مسلمان عورت ہوں ، میں تیرے ساتھ شادی کرنا مناسب نہیں سمجھتی ہوں۔ ابو طلحہ نے کہا : یہ تیری کیا عادت ہے ۔ ام سلیم نے کہا : میری کوئی عادت ہے؟ ابو طلحہ نے کہا : صفراء اور بیضا ( یعنی سونا یا چاندی) ۔ حضرت ام سلیم نے کہا : میں تیرا مسلمان ہونا چاہتی ہوں ۔ حضرت ابو طلحہ نے کہا : اس سے میرے لیے کیا ہوگا؟ حضرت ام سلیم نے کہا: میں اس کے بدلے تیری ہو جاؤں گی، جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ۔حضرت ابو طلحہ نبی اکرم کے پاس جانے کے لیے چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: تمہارے پاس ابو طلحہ آیا ہے، اسلا م اس کی آنکھوں کے درمیان چمک رہا ہے ۔ حضرت ابو طلحہ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی جو ام سلیم نے کہی تھی، آپ نے اس پر شادی کروادی۔ حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ ہم کو خبر پہنچی کہ ان کا مہر بہت بڑا تھا کہ وہ ان کے اسلام کو بطور مہر ان پر راضی ہوگئیں ۔ اس کے بعد شادی ہوئی اور ام سلیم بہت خوبصورت آنکھوں والی تھیں ، حضرت ابو طلحہ کے ساتھ رہیں یہاں تک کہ ان کےہاں بیٹا پیدا ہوا ، حضرت ابو طلحہ اس سے بہت پیار کرتے تھے ، وہ بچہ بیمار ہو گیا اور حضرت ابو طلحہ اس کی دوائی لینے کے لیے گئے ۔حضرت ابو طلحہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں چلے گئے اور بچہ فوت ہو گیا۔ حضرت ام سلیم نے کہا کہ ابو طلحہ کو کوئی نہ بتائے بیٹے کی موت کے متعلق یہاں تک کہ میں ان کوا س کی موت کے بارے میں بتاؤں گی، سو انہوں نے بچہ کے اوپر کپڑا وغیرہ رکھ دیا اور حضرت ابوطلحہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے آئے یہاں تک کہ وہ ام سلیم کے پاس آئے ، کہا : میرا بیٹا کیسا ہے ؟ ام سلیم نے کہا : ابو طلحہ ! جب آپ بیمار چھوڑ گئے ہیں اس سے اب بہت بہتر ہے ، انہوں نے کہا : شکر ہے اللہ کی ہی تمام تر تعریفیں ہیں ، سو وہ ان کے پاس رات کا کھانا لائیں تو انہوں نے کھانا کھایا ، پھر حضرت ام سلیم اٹھیں ، خوشبو لگائی ان کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا تو حضرت ابو طلحہ نے ان سے جماع کیا ، جب ام سلیم کو معلوم ہوا کہ انہوں نے کھانا کھالیا ہے اور جماع کر لیا ہے تو کہا: اے ابو طلحہ ! آپ بتائیں کہ اگر کوئی قوم کسی قوم کے پاس عاریتاً کوئی شئے رکھے ، پھر وہ ان سے مانگیں تو کیا وہ ان کو دینے سے منع کردیں گے؟ ابو طلحہ نے کہا : نہیں ! حضرت ام سلیم نے کہا : بے شک اللہ عزوجل نے آپ کو بیٹا عاریتاً دیا تھا پھر اس کو لے لیا ہے ، سو آپ اپنے بیٹے پر ثواب کی امید رکھیں اور صبر کریں ۔ تو حضرت ابو طلحہ کو غصہ آگیا ، پھر کہا: مجھے تو نے چھوڑے رکھا جب میں نے جماع کر لیا پھر مجھے میرے بیٹے کی وفات کا بتایا ہے ۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے صبح کو اور ساری خبر بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری رات میں برکت دے ! پھر ام سلیم حاملہ ہو گئیں اور حضرت ام سلیم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کرتی تھیں جب آپ نکلتے تھے ، حضرت ام سلیم بھی نکلتی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں داخل ہوتے آپ بھی داخل ہوتیں تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تیرے ہاں بچہ پیدا ہو تو اس کو میرے پاس لانا۔ فرماتی ہیں کہ میں ایک رات کو مدینہ کے قریب ہوئی تو مجھے درد شروع ہو گئی تو انہوں نے دعا کی : اے اللہ ! میں داخل ہوتی جب تیرا نبی داخل ہوتا تھا اور میں نکلتی تھی جب تیرا نبی نکلتا تھا۔ اور اب یہ معاملہ ہو گیا ہے ۔ سو انہوں نے بچہ جنا اور انہوں نے اپنے بیٹے سے انس کہا : اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤ۔ سو حضرت انس نے بچے کو اٹھا یا اور اس کو لے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گئے اور آپ اونٹوں یا بکریوں کو داغ رہے تھے، جب آپ نے دیکھا تو حضرت انس سے فرمایا: بنت ملحان نے بچہ جنا ہے ؟ حضرت انس نے عرض کی جی ہاں! آپ کے ہاتھ جو تھا اس کو پھینک دیا اور اس بچے کو پکڑا ، اس کے بعد فرمایا : عجوہ کھجوریں لاؤ! سو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوروں کو پکڑا ، اس بچے کو تحنیک ( یعنی گھٹی ) دی اور بچہ ان کھجوروں کو چوسنے لگا، اس کے بعد فرمایا: انصار کی کھجور سے محبت دیکھو ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے گھٹی دی اور اس نام عبداللہ رکھا۔ حضرت ثابت نے فرمایا ان کو بہترین مسلمانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2167

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2168

2168 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ ثَابِتٍ. حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: عَنْ أَنَسٍ وَحَدَّثَنَاهُ شَيْخٌ، سَمِعَهُ مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَقَدْ دَخَلَ حَدِيثُ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ أَبُو أَنَسٍ لِامْرَأَتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّمُ الْخَمْرَ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الشَّامَ فَهَلَكَ هُنَاكَ، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ فَخَطَبَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَكَلَّمَهَا فِي ذَلِكَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، مَا مِثْلُكَ يُرَدُّ، وَلَكِنَّكَ امْرُؤٌ كَافِرٌ، وَأَنَا امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ، لَا يَصْلُحُ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ، فَقَالَ: مَا ذَاكَ دَهْرُكِ قَالَتْ: وَمَا دَهْرِي؟ قَالَ: الصَّفْرَاءُ وَالْبَيْضَاءُ، قَالَتْ: فَإِنِّي لَا أُرِيدُ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ، أُرِيدُ مِنْكَ الْإِسْلَامَ، قَالَ: فَمَنْ لِي بِذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَكَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:535]، وَرَسُولُ اللَّهِ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: «جَاءَكُمْ أَبُو طَلْحَةَ، غُرَّةُ الْإِسْلَامِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ» فَجَاءَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَتَزَوَّجَهَا عَلَى ذَلِكَ، قَالَ ثَابِتٌ: فَمَا بَلَغَنَا أَنَّ مَهْرًا كَانَ أَعْظَمَ مِنْهُ، إِنَّهَا رَضِيَتِ الْإِسْلَامَ مَهْرًا فَتَزَوَّجَهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً مَلِيحَةَ الْعَيْنَيْنِ، فِيهَا صِغَرٌ، فَكَانَتْ مَعَهُ حَتَّى وُلِدَ لَهُ بُنَيٌّ، وَكَانَ يُحِبُّهُ أَبُو طَلْحَةَ حُبًّا شَدِيدًا، وَمَرِضَ الصَّبِيُّ وَتَوَاضَعَ أَبُو طَلْحَةَ لِمَرَضِهِ أَوْ تَضَعْضَعَ لَهُ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَاتَ الصَّبِيُّ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: لَا يَنْعَيَنَّ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ أَحَدٌ ابْنَهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَنْعَاهُ لَهُ، فَهَيَّأَتِ الصَّبِيَّ وَوَضَعَتْهُ، وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: كَيْفَ ابْنِي؟ فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، مَا كَانَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ السَّاعَةَ، قَالَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ، فَأَتَتْهُ بِعَشَائِهِ، فَأَصَابَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَتْ فَتَطَيَّبَتْ وَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَأَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنَّهُ طَعِمَ وَأَصَابَ مِنْهَا، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ، أَرَأَيْتَ لَوَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا قَوْمًا عَارِيَّةً لَهُمْ، فَسَأَلُوهُمْ إِيَّاهَا، أَكَانَ لَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ [ص:536] أَعَارَكَ ابْنَكَ عَارِيَّةً ثُمَّ قَبَضَهُ إِلَيْهِ، فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ وَاصْبِرْ، فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ: تَرَكْتِينِي حَتَّى إِذَا وَقَعْتُ بِمَا وَقَعْتُ بِهِ، نَعَيْتِ إِلَيَّ ابْنِي، ثُمَّ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا» فَتَلَقَّتْ مِنْ ذَلِكَ الْحَمْلَ، وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَخْرُجُ مَعَهُ إِذَا خَرَجَ، وَتَدْخُلُ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَلَدَتْ فَأْتُونِي بِالصَّبِيِّ» فَأَخَذَهَا الطَّلْقُ لَيْلَةَ قُرْبِهِمْ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ أَدْخُلُ إِذَا دَخَلَ نَبِيُّكَ، وَأَخْرُجُ إِذَا خَرَجَ نَبِيُّكَ، وَقَدْ حَضَرَ هَذَا الْأَمْرُ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، وَقَالَتْ لِابْنِهَا أَنَسٍ، انْطَلِقْ بِالصَّبِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ أَنَسٌ الصَّبِيَّ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَسِمُ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ لِأَنَسٍ: «أَوَلَدَتْ بِنْتُ مِلْحَانَ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَأَلْقَى مَا فِي يَدِهِ، فَتَنَاوَلَ الصَّبِيَّ، فَقَالَ: «ائْتُونِي بِتَمْرَاتٍ عَجْوَةٍ» فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرَ فَجَعَلَ يُحَنِّكُ الصَّبِيَّ، وَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ: «انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ» فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ ثَابِتٌ: وَكَانَ يُعَدُّ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ

حضرت علی بن زید بن جدعان ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ روم کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ایک ریشم کا جبہ بھیجا ۔ آپ نے اس کو پہنا گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپ کے سینے پر آگے پیچھے ہورہا ہے، سو صحابہ کرایم اس کو ہاتھ لگانے لگے اور کہنے لگے : ہمیشہ آپ پر اس قسم کا آسمان سے اترتا ہی رہے ۔ آپ نے فرمایا : تم اس پر تعجب کر رہے ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! معاذ کے لیے جنت میں اس سے بھی زیادہ نرم رومال ہے۔ پھر آپ نے اس جبہ کو حضرت جعفر کی طرف بھیجا ۔ تو انہوں نے اس کو پہن لیا۔ پھر وہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا تھا ۔ انہوں نے عرض کی : اس کے ساتھ میں کیا کروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔اس کو اپنے نجاشی بھائی کی طرف بھیج دے۔

مَالِكٌ أَبُو أَنَسٍ لِامْرَأَتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ: ← شَيْخٌ، سَمِعَهُ مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، وَقَدْ دَخَلَ حَدِيثُ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ ← أَنَسٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2168

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2169

2169 - حَدَّثَنَا يُونُسُ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتُقَةَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثَدْيَيْهِ يَتَذَبْذَبَانِ، فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَلْمِسُونَهَا وَيَقُولُونَ: لَأُنْزِلَ [ص:538] عَلَيْكَ هَذَا مِنَ السَّمَاءِ، فَقَالَ: «مَا تَعْجَبُونَ مِنْهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمِنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَلْيَنُ مِنْ هَذَا» ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ، فَلَبِسَهَا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا» قَالَ: مَا أَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: «أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ»

حضرت علی بن زید ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی بھی موت کی تمنا نہ کرے ۔ سو اگر کوئی ضرور ہی یہ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ یہ کہے : اے اللہ ! جب تک میری زندگی میرے لیے بہتر ہے تو مجھے زندگی دے ، اور جب میرے لیے میری وفات بہتر ہے تو مجھے وفات دے دے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2169

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2170

2170 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، فَإِنْ كَانَ لَابُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي "

حضرت علی بن زید ،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ماہ صبح کی نماز سے قبل (پہلے ) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس سے گزرے ۔ آپ فرماتے : نماز ! اے اہل بیت! " انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیرا"۔

النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2170

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ · حديث 2171

2171 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَمُرُّ عَلَى بَابِ فَاطِمَةَ شَهْرًا قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَيَقُولُ: " الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ، {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ} [الأحزاب: 33] "

حضرت علی بن زید سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب معراج کی رات مجھے سیر کرائی گئی تو میرا گزر ایسی قوم کے پاس سے ہوا کہ ان کے ہونٹ آگ سے کاٹے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا : اے جبریل ! یہ کو ن لوگ ہیں ۔ تو انہوں نے بتایا : یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے خطیب حضرات ہیں ۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَمُرُّ عَلَى بَابِ فَاطِمَةَ شَهْرًا قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ← أَنَسٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2171

chevron_left Previous
1…151617…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter