Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2136

2136 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ، آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ تَرَكَهُ مَا شَاءَ أَنْ يَتْرُكَهُ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَلِمَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ»

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ شجاعت والے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2136

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2137

2137 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْجَعَ النَّاسِ»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے۔

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ أَشْجَعَ النَّاسِ» ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2137

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2138

2138 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ أَوْ عُثْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشَّفَاعَةُ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنَ أُمَّتِي»

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے ۔ اور ہم میں میرے اور میری والدہ اور خالہ ام حرام کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اٹھو : میں تم کو نماز پڑھاؤں ۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی وقت نماز کے علاوہ ۔ ایک آدمی نے حضرت ثابت سے عرض کی : حضرت انس کو کہاں کھڑا کیا گیا تھا؟( حضرت ثابت نے ) فرمایا : دائیں جانب جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ہمارے اہل خانہ کے لیے دنیا و آخرت کی ہر بھلائی ملنے کی دعا کی۔ میری والدہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ آپ کا چھوٹا سا خادم ہے ، آپ اللہ سے اس کے لیے بھی دعا کریں کہا کہ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے ہربھلائی کی دعا کی۔ سو آپ نے جو دعا میرے لیے کی تھی وہ یہ تھی۔ اے اللہ ! اس کے مال اور اس کی اولاد میں اضافہ فرما اور اس کے لیے اس میں برکت بھی دے ۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کہ لوگوں ذکر کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میری اپنی پشت سے اسّی (80) کے قریب اولاد ہوئی ۔

«الشَّفَاعَةُ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنَ أُمَّتِي» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← الْحَكَمُ أَوْ عُثْمَانُ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2138

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2139

2139 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نَحْنُ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي أُمُّ حَرَامٍ، فَقَالَ: «قُومُوا أُصَلِّي بِكُمْ» فَصَلَّى بِنَا فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ، قَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ: فَأَيْنَ جُعِلَ أَنَسٌ؟ قَالَ: جَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، فَكَانَ فِي آخِر مَا دَعَا لِي: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ» قَالَ أَبُو دَاوُدَ: فَذَكَرُوا أَنَّ أَنَسًا قَالَ: فَوُلِدَ مِنْ صُلْبِي ثَمَانُونَ

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو تم نہ کھڑے ہو جب تک مجھے دیکھ نہ لو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2139

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2140

2140 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي»

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میری پھوپھی کا بیٹا حارثہ بد ر کے دن دیکھنے کے لیے نکلا۔ وہ لڑائی کے لیے نہ نکلا تھا اور اس کو تیر لگا تو وہ شہید ہو گیا۔ سو اس کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی ، اس نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر حارثہ جنت میں ہے تو میں صبر کروں گی اور اگر اس کے علاوہ ہے تو آپ بھی دیکھیں گے میں کیا کرتی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ام حارثہ ! جنتیں بہت زیادہ ہیں اور حارثہ فردوس اعلیٰ میں ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2140

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2141

2141 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ ابْنُ عَمَّتِي حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ غُلَامًا نَظَّارًا، مَا خَرَجَ إِلَى الْقِتَالِ، وَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:517]، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ يَكُنْ حَارِثَةُ فِي الْجَنَّةِ فَسَأَصْبِرُ، وَإِنْ يَكُ غَيْرَ ذَلِكَ فَسَتَرَى مَا أَصْنَعُ، فَقَالَ: «يَا أُمَّ حَارِثَةَ، إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى»

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز پڑھاتا ہو۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نماز آپ کے قریب تھی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور حکومت آیا تو وہ فجر کی نماز میں قراءت لمبی کرتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2141

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2142

2142 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ أَخَفَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ، وَكَانَتْ صَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ مُقَارِبَةً، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ مَدَّ فِي الْفَجْرِ»

حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ای پیالہ لائے ۔ پس فرمایا کہ اس پیالہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی اور شہد اور دودھ اور نبیذ پلاتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2142

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2143

2143 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ قَدَحًا، فَقَالَ: «سَقَيْتُ فِي هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّرَابَ؛ الْمَاءَ، وَالْعَسَلَ، وَاللَّبَنَ، وَالنَّبِيذَ»

حضرت چابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا۔ میں آپ کی ایک دن خدمت کررہا تھا، سو جب آپ کی خدمت سے فارغ ہوا اور میں نے اپنی والدہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو میں نے بچوں کو دیکھا کہ کھیل رہے ہیں تو میں ان کا کھیل دیکھنے لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس آئے تو انہیں سلام کیا پھر مجھے بلوایا تو مجھے اپنے کسی کام کے لیے بھیجا اور میں کسی مجلس میں بیٹھ گیا ۔ یہاں تک کہ میں آپ کے پاس آیا تو میری والدہ نے مجھے پوچھا کہ میں اس وقت پر نہ پہنچا جس وقت پر پہنچتا تھا، انہوں نے کہا: اے بیٹے ! تجھے کس نے روکا تھا؟ میں نے ان کو بتایا تو میری والدہ نے فرمایا : کس کام کے لیے آپ نے تجھے بھیجا تھا؟ میں نے عرض کی : اے والدہ ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز ہے ، میری والدہ نے کہا: اے میرے بیٹے ! اس راز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرنا، پس لوگوں میں سے کسی کو نہ بتانا۔

أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ قَدَحًا، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2143

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2144

2144 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَدَمْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ خِدْمَتِي وَرَجَعْتُ أُرِيدُ أُمِّي، رَأَيْتُ صِبْيَانًا يَلْعَبُونَ، فَقُمْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ، فَانْتَهَى إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ دَعَانِي فَبَعَثَنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ، وَجَلَسَ فِي فَيْءٍ حَتَّى أَتَيْتُهُ [ص:519]، فَاحْتَبَسْتُ عَنِ أُمِّي عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كُنْتُ آتِيهَا فِيهَا» فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، مَا حَبَسَكَ؟ فَأَخْبَرْتُهَا، فَقَالَتْ: فَمَا هَذَا الَّذِي بَعَثَكَ؟ فَقُلْتُ: «يَا أُمَّهْ، إِنَّهُ سِرُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، فَاحْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ، «فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَلَوْ كُنْتُ مُخْبِرًا بِهِ أَحَدًا أَخْبَرْتُكَ بِهِ يَا ثَابِتُ»

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں آج کے دن کوئی چیز نہیں پہچانتا جسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پہچان لیتا تھا۔لوگوں نے عرض کی: اے ابو حمزہ ! اور نماز؟ فرمایا کیا میں نے تم کو نماز کے متعلق حدیث سنا نہ دی؟

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2144

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2145

2145 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَنَسٍ فَقَالَ: «وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ شَيْئًا كُنْتُ أَعْرِفُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَالصَّلَاةُ؟ قَالَ: «أَوَلَيْسَ [ص:520] أَحْدَثْتُمْ فِي الصَّلَاةِ مَا أَحْدَثْتُمْ؟»

حضرت ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت چھاپہ مارتے ، سو صبح کے وقت اگر اذان سنتےتو رک جاتے ورنہ چھاپہ مارتے۔

«أَوَلَيْسَ [ص:520] أَحْدَثْتُمْ فِي الصَّلَاةِ مَا أَحْدَثْتُمْ؟» ← يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَالصَّلَاةُ؟ ← «وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ شَيْئًا كُنْتُ أَعْرِفُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← كُنَّا عِنْدَ أَنَسٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2145

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2146

2146 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ عِنْدَ الصَّبَاحِ، فَيَسْتَمِعُ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ»

حضرت ثابت ، حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عباد بن بشر الانصاری اور اسید بن حضیر الانصاری دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے نکلے ۔ ایک پر اندھیری رات میں جب دونوں واپس اپنے گھر آئے ۔ تو ان دونوں کے آگے روشنی ہو گئی ۔ حتیٰ کہ جب انہوں نے ارادہ کیا جدا ہونے کا تو دونوں میں سے ہر ایک کے لیے روشنی ہو گئی ۔

أَذَانًا أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ» ← «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُغِيرُ عِنْدَ الصَّبَاحِ، فَيَسْتَمِعُ، فَإِنْ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2146

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ · حديث 2147

2147 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ الْأَنْصَارِيَّ، وَأُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ [ص:521] الْأَنْصَارِيَّ، خَرَجَا إِلَى الصَّلَاةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ حِنْدِسٍ، يَعْنِي ظَلْمَاءَ، فَلَمَّا رَجَعَا إِلَى بِيُوتِهِمَا، صَارَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا ضَوْءٌ، حَتَّى إِذَا أَرَادَا أَنْ يَتَفَرَّقَا، صَارَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ضَوْءٌ "

حضرت ثابت ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر یہ دعا کرتے تھے: ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ فی الاخرۃ حسنۃ و قتا عذاب النار۔ امام شعبہ فرماتے ہیں کہ: میں نےاس کا حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ۔ تو انہوں نے کہا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی یہی دعا کرتے تھے ۔لیکن اسے مرفوع روایت نہیں کرتے تھے۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 2147

chevron_left Previous
1…131415…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter