مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ عَنْ جَابِرٍ · حديث 1834
1834 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: انْتَهَى رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَهُ نَاضِحَانِ لَهُ إِلَى [ص:293] مُعَاذٍ، وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، فَاسْتَفْتَحَ مُعَاذٌ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ أَوِ النِّسَاءِ - قَالَ شُعْبَةُ: شَكَّ مُحَارِبٌ - فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الرَّجُلُ صَلَّى ثُمَّ انْطَلَقَ فَبَلَغَ الرَّجُلَ أَنَّ مُعَاذًا يَقُولُ: هُوَ مُنَافِقٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: " يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ، أَفَتَّانٌ، أَفَتَّانٌ - أَوْ قَالَ - فَاتِنٌ أَوَلَا قَرَأْتَ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى أَوْ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا - قَالَ شُعْبَةُ: شَكَّ مُحَارِبٌ - يُصَلِّي وَرَاءَكَ ذُو الْحَاجَةِ وَالصَّغِيرُ " أَوْ قَالَ: «وَالضَّعِيفُ» . شَكَّ مُحَارِبٌ
حضرت محارب بن دثار نے فرمایا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ انصار کا ایک آدمی آیا، اس کے ساتھ دو آدمی اور تھے ، حضرت معاذ کے پاس اور وہ مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے ، تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے سورۃ بقرہ یا سورۃ نساء شروع کی ، حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ محارب کو شک ہے ۔ سو جب اس آدمی نے دیکھا تو نماز پڑھی، پھر چلا گیا ، تو اس آدمی کو خبر پہنچی کہ حضرت معاذ نے کہا ہے کہ وہ منافق آدمی ہے ۔ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس بات کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے معاذ ! کیا تو فتنہ ڈالنا چاہتا ہے ؟ کیا تو فتنہ ڈالنا چاہتا ہے ؟ کیا تو فتنہ ڈالنا چاہتا ہے ؟ یا فرمایا فتنہ ڈالنے والے کیا تو " سبح اسم ربک الاعلیٰ ۔ واللیل اذا یغشی" یا " والشمس و ضحاھا " نہیں پڑح سکتا ، امام شعبہ فرماتے ہیں کہ محارب کو شک ہے ، تیرے پیچھے ضرورت مند اور بچے بھی ہوتے ہیں ، یا فرمایا : اور کمزور بھی ہوتے ہیں ۔ محارب کو شک ہے ۔
جَابِرًا ← مُحَارِبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1834
