Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1750

1750 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي مُلْكِ آلِ الزُّبَيْرِ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا، هَلْ لَهَا نَفَقَةٌ؟ فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا، لَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقُلْتُ [ص:215]: إِنَّهُ لَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةً، قَالَ: «صَدَقَ» ثُمَّ قَالَ: «اعْتَدِّي فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ يَأْتُونَهَا وَلَكِنِ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، وَعَسَى أَنْ تُلْقِينَ عَنْكِ ثِيَابَكِ أَوْ بَعْضَ ثِيَابِكِ» قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي خَطَبَنِي أَبُو الْجَهْمِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَهُوَ رَجُلٌ شَدِيدٌ عَلَى النِّسَاءِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ لَا مَالَ لَهُ» قَالَتْ: ثُمَّ خَطَبَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَتَزَوَّجْتُهُ، فَبَارَكَ اللَّهُ لِي فِي أُسَامَةَ

حضرت ابو بکر بن ابی الجہم فرماتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ، حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، آل زبیر کے دور حکومت میں ،ہم نے ان سے طلاق ثلاثہ والی عورت کے متعلق پوچھا کہ کیا اس کے لیے نفقہ ہے ؟ ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ) فرمایا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں، مجھے سکنیٰ ( گھر ) و نفقہ ( خرچ) نہیں دیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے اپ سے اس بات کا ذکر کیا ، میں نے عرض کی : میرے لے اس نے گھر و خرچہ نہیں رکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اس نے سچ کہا، پھر آپ نے فرمایا : تو ام شریک کے گھر عدت گزار پھر فرمایا: مہاجرین اس کے پاس آتے ہیں تو عدت ابن ام مکتوم کے گھر گزار ، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے ، ہو سکتا ہے کہ تیرا کپڑا اتر جائے یا تیرا بعض کپڑا اتر جائے ۔ آپ فرماتی ہیں پس میں نے ایسے ہی کیا تو جب میری عدت گزر گئی تو مجھے ابوجہم نے نکاح کا پیغام بھیجا، یہ قریش کے ایک آدمی تھے اور معاویہ بن سفیان نے بھی ۔ پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رہا ابوجہم تو وہ عورتوں پر بڑا سخت ہے ، اور رہ گیا معاویہ تو وہ مال دار نہیں ہے ۔ آپ فرماتی ہیں : پھر مجھے حضرت اسامہ بن زید نے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے ان سے شادی کر لی ، سو اللہ تعالیٰ نے اسامہ کے ساتھ نکاح میں مجھے برکت دی ۔

دَخَلْتُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1750

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1751

1751 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ طَابٍ، وَسَقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا: أَيْنَ تَعْتَدُّ؟ فَقَالَتْ: أَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي، أَيْ: أَتَحَوَّلُ وَيَوْمَئِذٍ نُودِيَ فِي النَّاسِ: الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَخَرَجْتُ فِيمَنْ خَرَجَ مِنَ النِّسَاءِ وَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، مِمَّا يَلِي الصَّفَّ الْمُؤَخَّرَ مِنَ الرِّجَالِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ بَنِيَ عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا الْبَحْرَ، وَإِنَّ سَفِينَتَهُمْ قَذَفَتْهُمْ إِلَى سَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ، وَهُنَاكَ دَابَّةٌ يُوَارِيهَا شَعَرُهَا، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهَا قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، ثُمَّ قَالَتْ: إِنَّ فِيَ ذَلِكَ الدَّيْرِ مَنْ هُوَ إِلَى رُؤْيَتِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، فَدَخَلْنَا، فَإِذَا رَجُلٌ مُكَبَّلٌ فِي الْحَدِيدِ بِضَرُورَةٍ، فَقَالَ : أَخَرَجَ صَاحِبُكُمْ؟ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَاتَّبِعُوهُ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ، أَيُطْعِمُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ أَكَثِيرَةُ الْمَاءِ هِيَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ أَكَثِيرَةُ الْمَاءِ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَوْ قَدْ خَرَجْتُ لَوَطِئْتُ الْبِلَادَ غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ " قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِخْصَرَتِهِ: «أَلَا وَهَذِهِ طَيْبَةُ يُومِئُ إِلَى أَرْضِ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةُ مَكَّةُ»

حضرت اما م شعبی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہا نے ہماری مہمان نوازی ان کھجوروں سے کی جنہیں ابن طاب کہا جاتا تھا اور پینے کے لیے ستو دیئے ، سو ہم نے ان سے طلاق ثلاثہ والی عورت کے متعلق پوچھا کہ وہ عدت کہاں گزارے گی ؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اجازت دی تھی کہ میں اپنے گر ایک سال عدت گزاروں ، اس دن لوگوں کو الصلوٰۃ جامعہ کے ساتھ پکارا گیا تھا، سو میں بھی عورتوں کے ساتھ نکلی ، اور میں اس پہلی صف میں تھی جو صف مردوں کے آگے والی صف کے ساتھ ملی ہوئی تھی ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا : تمیم داری کے چچا زاد سمندر میں سوار تھے ، ان کی کشتی کو سمندر نے سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ میں پھینک دیا، وہاں ایک جانور تھا جو اپنے بالوں میں چھپا ہوا تھا۔ جب ہم اس کے پاس گئے تو اس نے کہا: میں جساسہ ہوں ، پھر اس نے کہا: اس جزیرہ میں ایک آدمی ہے ، تم میں سے کون اس کو دیکھنے کا شوک رکھتا ہے ۔ پس ہم داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، اس نے کہا: تم کو تمہارے صاحب یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھیجا ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ! اس نے کہا: اس کی اتباع کرو۔ پھر اس نے کہا : مجھے کھجوروں کے باغ کے متعلق بتاؤ کہ کیا وہ کھاتے ہیں ؟ ہم نے کہا: ہاں ! پھر اس نے کہا: مجھے بتاؤ ! کیا بحیرہ طبریہ بہت زیادہ پانی والا ہے ؟ ہم نے کہا: ہاں ! پھر اس نے کہا: مجھے زغر چشمہ کے متعلق بتاؤ کہ کیا وہ بہت زیادہ پانی والا ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں ! اس نے کہا : اگر میں نکلا تو سارے شہروں کو اپنے قدموں تلے روندوں گا سوائے مکہ اور مدینہ کے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے عصا کے ساتھ اشارہ کیا، یعنی سر زمین مدینہ اور مکہ کی طرف

الشَّعْبِيِّ، ← سَيَّارٌ أَبُو الْحَکَمِ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1751

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1752

1752 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:219] لِأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصُرِ» قَالَ: فَكُنَّ كُلُّهُنَّ يُسَافِرْنَ إِلَّا زَيْنَبَ وَسَوْدَةَ، فَإِنَّهُمَا قَالَتَا: لَا تُحَرِّكُنَا دَابَّةٌ بَعْدَمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے دن اپنی ازواج سے فرمایا : بے شک تمہارا یہ حج ہو گیا اس کے بعد چٹائیوں کی پشتوں کو لازم پکڑو یعنی اپنے گھروں میں رہو، پھر فرمایا کہ پھر ان سب نے سفر کیا سوائے زینب اور سودہ کے ۔ دونوں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سننے کے بعد ہم نے اپنی سواری کو حرکت نہیں دی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأمَۃِ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1752

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ وَأُمُّ الْفَضْلِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1753

1753 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ أَنْ تَشْتَرِطَ فِي الْحَجِّ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ضباعہ بنت زبیر کو حکم دیا کہ وہ حج میں شرط لگائے ، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے ایسے ہی کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعِکْرِمَةَ ← عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ← حَبِيبُ بْنُ يَزِيدَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1753

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ وَأُمُّ الْفَضْلِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1754

1754 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ، قَالَ: تَمَارَى النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، «فَبَعَثَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ»

حضرت عمیر مولیٰ حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنے کے متعلق جھگڑنے لگے ، حضرت ام الفضل نے کہا: میں تم سے زیادہ اس کے متعلق جانتی ہوں، سو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ایک برتن بھیجا تھا، اس میں دودھ تھا ، تو آپ نے اسے نوش کیا۔

أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، «فَبَعَثَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبَ» ← تَمَارَى النَّاسُ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: ← عُمَيْرٍ مَوْلَی أُمِّ الْفَضْلِ ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1754

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1755

1755 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنِ ابْنِ بِنْتِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ فَقَطَعْتُهَا، وَقُلْتُ: «لَا يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ بَعْدَهُ»

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشکیزہ سے منہ لگا کر پانی پیتے ہوئے دیکھا، میں نے اس جگہ کو کاٹ لیا، میں نے کہا : اس سے آپ کے بعد کوئی نہ پئے ( احترام کے پیش نظر ) ۔

جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ ← ابْنِ بِنْتِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← شَرِيکٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1755

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1756

1756 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: اخْتَلَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا حَاضَتْ، وَقَدْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ زَيْدٌ: يَكُونُ آخِرَ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تَنْفِرُ إِذَا شَاءَتْ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: لَنْ نُتَابِعَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَنْتَ تُخَالِفُ زَيْدًا، فَقَالَ: سَلُوا صَاحِبَتَكُمْ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ: حِضْتُ يَوْمًا بَعْدَمَا طُفْتُ بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْفِرَ، وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: حَبَسْتِينَا، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْفِرَ "

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم کا اس عورت کے متعلق اختلاف ہو گیا، جسے یوم نحر حیض کا خون آنا شروع ہو جائے حالانکہ وہ طواف کعبہ کر چکی ہو۔ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے : وہ آخر میں بیت اللہ کا طواف کرے ، جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا : جب چاہے چلی جائے۔ تو انصار کہنے لگے : اے ابن عباس ! ہم ہر گز آپ کی اتباع نہیں کریں گے کیونکہ آپ نے حضرت زید کے ساتھ اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے ۔ تو آپ نے جواباً کہا : تم اپنے ساتھی حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے دریافت کر لو ۔ تو وہ کہنے لگیں : طواف کعبہ کے بعد مجھے بھی ماہواری لاحق ہو گئی تو مجھے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نکل جانے کا حکم دیاتھا، اسی طرح حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی اسی بیماری میں مبتلا ہوئیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگیں کہ تو نے ہمیں روک لیا ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بھی نکل جانے کا حکمم صادر فرمایا۔

سَلُوا صَاحِبَتَكُمْ أُمَّ سُلَيْمٍ، ← الْأَنْصَارُ: لَنْ نُتَابِعَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَنْتَ تُخَالِفُ زَيْدًا، ← ابْنُ عَبَّاسٍ: تَنْفِرُ إِذَا شَاءَتْ، ← زَيْدٌ: يَكُونُ آخِرَ عَهْدِهَا ← زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا حَاضَتْ، وَقَدْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ، ← اخْتَلَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1756

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ زَيْنَبُ الثَّقَفِيَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1757

1757 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ الثَّقَفِيَّةُ، امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَهَا أَنْ لَا تَمَسَّ الطِّيبَ إِذَا خَرَجَتْ إِلَى صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ»

حضرت زینب ثقفیہ زوجہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جب تو نماز عشاء کے لیے آئے تو خوشبو لگا کر نہ نکلا کر ۔

حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ الثَّقَفِيَّةُ، امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1757

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ زَيْنَبُ الثَّقَفِيَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1758

1758 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنِّسَاءِ: «تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ» فَقَالَتْ زَيْنَبُ لِعَبْدِ اللَّهِ: أَيُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ وَفِي بَنِي أَخِي أَوْ أُخْتِي أَيْتَامٍ؟ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ، فَقَالَ: سَلِي عَنْ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ زَيْنَبُ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا: زَيْنَبُ، جَاءَتْ تَسْأَلُ عَمَّا جِئْتُ أَسْأَلُ عَنْهُ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ، فَقُلْنَا لَهُ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ: أَيُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِي بَنِي أَخِي أَيْتَامٍ أَوْ بَنِي أُخْتِي أَيْتَامٍ فِي حِجْرِي؟ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ هِيَ؟» فَقَالَ: زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَزَيْنَبُ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْبِرْهُمَا أَنَّ لَهُمَا أَجْرَيْنِ أَجْرَ [ص:227] الْقَرَابَةِ وَأَجْرَ الصَّدَقَةِ»

حضرت زینب ثقفیہ زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کو حکم دیا کہ صدقہ ادا کیا کرو، اگرچہ وہ زیورات سے ہو۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا میرے لیے کافی ہے کہ میں اپنی زکوٰۃ آپ کو اور اپنی بھائی کے بیٹے اور اپنی بہن کے یتیم بیٹوں کو دوں ۔ اور حضرت عبداللہ غریب آدمی تھے ، انہوں نے فرمایا کہ تو اس بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھ ۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی ، وہاں انصار کی ایک عورت تھی، اس کو بھی زینب کہا جاتا تھا۔ وہ بھی وہی مسئلہ پوچھنے کے لیے آئی تھی ، جو میں پوچھنے آئی تھی، حضرت بلال ہمارے پاس آئے ، ہم نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھو اور ہمارے بارے نہ بتانا کہ ہم کون ہیں کہ کیا ہمارے لیے یہ کافی ہے کہ ہم اپنی زکوٰۃ اپنے بھتیجوں اور بھانجوں کو دے دیں جو ہماری پرورش میں ہیں اور وہ یتیم ہیں ؟ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے ، آپ سے اس بات کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : وہ کون سی زینبیں ہیں ، ( حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ) عرض کیا: زینب زوجہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور اک زینب انصار کی عورت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا : ان کو بتا دے کہ ان دونوں کے لیے دو اجر ہیں : ( 1) ایک رشتہ داری کا (2) اور ایک زکوٰۃ ادا کرنے کا ۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1758

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أُمُّ حُصَيْنٍ الْأَحْمَسِيَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1759

1759 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ الْأَحْمَسِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي جَدَّتِي حُصَيْنُ الْأَحْمَسِيَّةُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدًا حَبَشِيًّا مَا قَادَكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا»

حضرت حصین الاحمسی فرماتے ہیں کہ مجھے میری دادی حضرت حصین الاحمسیہ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر تم پر حبشی غلام بھی امیر مقرر کر دیا جائے جو کتاب اللہ کو پڑھنے والا ہو تو اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

«إِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدًا حَبَشِيًّا مَا قَادَكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَخْبَرَتْنِي جَدَّتِي حُصَيْنُ الْأَحْمَسِيَّةُ، ← يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ الْأَحْمَسِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1759

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أُمُّ حُصَيْنٍ الْأَحْمَسِيَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1760

1760 - حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً»

حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر منڈانے والوں کے لیے تین مرتبہ دعا کی اور قصر کرنے والوں کے لیے ایک مرتبہ ۔

جَدَّتِہٖ ← يَحْيَی بْنِ حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1760

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَأُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1761

1761 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ الْكَاذِبُ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا»

حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جو دو آدمیوں کے درمیان صلح کروائے ( جھوٹ بول کر ) وہ جھوٹا نہیں ہے ، اور فرمایا وہ بھلائی کر رہا ہے یا بھلائی کو بڑھا رہا ہے ۔

أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1761

chevron_left Previous
1…565758…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter541. Chapter542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter