مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ مَا رَوَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1738
1738 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: " إِنَّ قَبْلَ خُرُوجِهِ عَامًا تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالْعَامَ الثَّانِيَ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا، وَالْعَامَ الثَّالِثَ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا حَتَّى لَا يَبْقَى ذَاتُ ضِرْسٍ، وَلَا ذَاتُ ظِلْفٍ، وَإِنَّ مِنْ أَكْبَرِ فِتْنَتِهِ أَنْ يَقُولَ لِلرَّجُلِ: إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أُمَّكَ وَأَبَاكَ، أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيَاطِينُ " ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَجَاءَ وَأَهْلُ الْبَيْتِ يَبْكُونَ، فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ، ثُمَّ قَالَ: «مَهْيَمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَنَا لَيَعْجَنُ عَجِينَهُ فَمَا يَخْتَبِزُ حَتَّى يَخْشَى أَنْ يَفْتَتِنَ، وَأَنْتَ تَقُولُ: «الْأَطْعِمَةُ تُزْوَى إِلَيْهِ» فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:203]: «إِنَّهُ يَكْفِي الْمُؤْمِنَ يَوْمَئِذٍ مَا يَكْفِي الْمَلَائِكَةَ» قَالُوا: فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَأْكُلُ وَلَا تَشْرَبُ وَلَكِنَّهَا تُقَدِّسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَعَامُ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ التَّسْبِيحُ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ، فَأَنَّا حَجِيجُهُ، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي، فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»
حضرت اسماء ( بنت یزید) رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : دجال کے ایک سال نکلنے سے پہلے آسمان سے تہائی بارش روک لی جائے گی اور زمین اپنا تہائی غلہ اگانا روک دے گی ، دوسرے سال آسمان دو تہائی قطرے ( یعنی بارش ) روک لے گا ( یعنی نہیں برسے گی ) اور زمین اپنا و تہائی غلہ اور تیسرے سال آسمان سے قطرے آنے بند ہو جائیں گے ، زمین اپنی اگانے والی اشیاء ( روک لے گی ) یہاں تک کہ داڑھ اور کھر والی کوئی شی باقی نہیں رہے گی ، ان فتنوں میں سے سب سے بڑا فتنہ یہ ہوگا کہ آدمی سے ( دجال ) کہے گا: اگر میں تیرے لیے تیری ماں اور تیرے پاب کو زندہ کر دوں تو کیا تو یقین کرے گا کہ میں تیرا رب ہوں ؟ سو ان کے لیے شیطان متمثل ہوں گے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کسی کام کے لیے نکلے تو آپ واپس آئے اور آپ کے اہل بیت رو رہے تھے ۔ آپ نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا ، پھر فرمایا : کیا ہوا ؟ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے دجال کا ذکر کیا ، اللہ کی قسم ! بے شک ہم میں کوئی آٹا گوندھتا ہے ، اس نے روٹی نہیں پکائی یہاں تک کہ فتنہ کا خوف ہونے لگا۔ اور آپ نے فرمایا : کھانا لپیٹ لیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مؤمن کے لیے اس دن کافی ہو گا وہی جو فرشتوں کے لیے کافی ہوتا ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بے شک فرشتے نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں ، لیکن وہ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مؤمن کا کھانا اس دن تسبیح ہو گی ، اگر وہ دجال نکلا اس حالت میں کہ میں تم میں ہوا تو میں اس کے لیے رکاوٹ بن جاؤں گے ، اگر میرے بعد نکلا تو اللہ ہی نگہبان ہوگا۔
أَسْمَاءَ ← شَهْرٍ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1738
