مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ · حديث 1570
1570 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ مِنْ غَارِ حِرَاءٍ، انْتَهَى إِلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي» فَزُمِّلَ، ثُمَّ قَالَ: «يَا خَدِيجَةُ وَاللَّهِ لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي» فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ، وَتَصِلَ الرَّحِمَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، فَانْطَلِقْ فَانْطَلَقَتْ بِهِ إِلَى وَرَقَةَ، وَكَانَ شَيْخًا أَعْمَى، يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ، فَقَالَتْ: أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مَا يَقُولُ ابْنُ أَخِيكَ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: مَاذَا تَقُولُ يَا ابْنَ أَخِي؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هُوَ وَاللَّهِ النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى فَلَيْتَنِي حَيًّا يَوْمَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَأَنْصُرَكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا قَالَ: «وَمُخْرِجِيَّ قَوْمِي؟» قَالَ: نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَأُوذِيَ، فَلَيْتَنِي فِيهَا [ص:77] جَذَعًا
حضرت عروہ بن زبیر ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب غار حرا سے واپس آئے تو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھا دو۔ پس آپ کو چادر اوڑھا دی گئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے خدیجہ ! اللہ کی قسم ! میں اپنے اوپر خوف کرتا ہوں ، تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آ پ سے کہا : خوشخبری ہو ! اللہ کی قسم ! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ سچی بات کہتے ہیں ، اور رشتہ داری جوڑتے ہیں ، اور مہمانوں کی عزت کرتے ہیں اور حق بات کی رہنمائی کرتے ہیں ، سو وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت ورقہ کی طرف لے گئیں ، وہ نابینا بزرگ تھے وہ انجیل کو عبرانی زبان میں پڑھتے تھے ، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے میرے چچا کے بیٹے ، سنئے آپ کے بھائی کا بیٹھا کیا کہتا ہے ؟ حضرت ورقہ نے آپ سے کہا : اے میرے بھتیجے ! آپ کیا کہتے ہیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہ ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اترا، کاش میری اس وقت تک زندگی ہو جس وقت آ پکی قوم آپ کو ( آپ کے شہر ) مکے سے نکالے گی ، میں آپ کی اس وقت مدد کرتا۔ آ پ نے فرمایا : میری قوم مجھے نکالے گی ؟ اس نے کہا : ہان ! جو کوئی بھی آپ کی مثل احکام لے کر آیا اسے اذیت دی گئی ، کاش میں اس وقت آپ کی مدد کرتا۔
عَائِشَةَ ← الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1570
