Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي داود الطيالسي

Musnad Abu Dawood Tayalisi

by Abu Dawood Tiyalisi

2,890 Hadith613 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ · حديث 1402

1402 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَكَانَتْ تَقْرِي الضَّيْفَ وَتُطْعِمُ الْجَارَ وَالْيَتِيمَ وَكَانَتْ وَأَدَتْ وَأْدًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَلِي سَعَةٌ [ص:641] مِنْ مَالٍ أَفَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفَعُ الْإِسْلَامُ إِلَّا مَنْ أَدْرَكَهُ إِنَّهَا وَمَا وَأَدَتْ فِي النَّارِ» قَالَ: فَرَأَى ذَلِكَ قَدْ شَقَّ عَلَيَّ فَقَالَ: «وَأُمُّ مُحَمَّدٍ مَعَهَا مَا فِيهِمَا مِنْ خَيْرٍ»

حضرت سلمہ بن یزید رضی اللہ فر ماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کی :میری ماں فوت ہوگئی ہے،وہ مہمان نوازی کرتی اور پڑوسی اور یتیم کو کھانا کھلاتی تھی ،حالانکہ اس نے زمانہ جاہلیت میں بچی بھی زندہ درگور کی تھی ،میر ے پاس وسیع مال ہے کیا اس کو نفع ہو گا اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں ؟تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اسلام نفع نہیں دیتا مگر اس کو جس نے اسلام کو پایا ،بلاشبہ تو جہنم میں ہے ،آپ نے دیکھا کہ یہ بات اس آدمی پر دشوار گزری ،آپ نے فرمایا ام محمد اس کے ساتھ ہے ،ان دونوں کاموں (یعنی مہمان نوازی ،پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے )میں ا س کے لیئے فائدہ نہیں ہے۔)

سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ، ← عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1402

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ · حديث 1403

1403 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا} [الواقعة: 36] قَالَ: «مِنَ الثَّيِّبِ وَغَيْرِ الثَّيِّبِ»

حضرت سلمہ بن یزید الجعفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ عزو جل کے اس ارشاد کے متعلق فرماتے ہوئے سنا فرمایا :اس سے مراد شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہیں۔

«مِنَ الثَّيِّبِ وَغَيْرِ الثَّيِّبِ» ← أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا} [الواقعة: ← فِي قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ، ← جَابِرٍ ← شَيْبَانَ ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1403

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ · حديث 1404

1404 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ نَحَّازِ بْنِ جُدَيٍّ الْجُعْفِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقُدُورٍ فَأُكْفِئَتْ وَكَانَ فِيهَا لُحُومُ حُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ»

حضرت سنان بن سلمہ اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :ہم (خیبر میں )رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ،آپ نے ہانڈیوں کے متعلق حکم دیا تو ان کو الٹا دیا گیا ،حالانکہ اس دن ان میں پالتو گدھوں کا گوشت تھا۔

«كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَأَمَرَ بِقُدُورٍ فَأُكْفِئَتْ وَكَانَ فِيهَا لُحُومُ حُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ» ← أَبِيهِ ← سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ أَنَّهُ ← نَحَّازِ بْنِ جُدَيٍّ الْجُعْفِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1404

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ · حديث 1405

1405 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ، يَقُولُ: شَهِدْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَةُ، الْحَجُّ عَرَفَاتٌ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أَوْ تَمَّ حَجُّهُ»

حضرت بکیر بن عطا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبدالرحمن ٰ بن یعمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حاضر تھے،جب آپ نے فرمایا :حج (وقوف )عرفہ کا نام ہے ،حج عرفات (میں وقوف )کا نام ہے جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ کو پا لے (یعنی وہاں پہنچ جائے )اس نے حج پالیا ،اس کا حج مکمل ہو گیا ۔

شَهِدْتُ النَّبِيَّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1405

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ · حديث 1406

1406 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ، يَقُولُ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ»

حضرت عبدالرحمن ٰ بن یعمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ،آپ نے فرمایا :منی کے دن تین دن ہیں ،جس نے دو دن میں جلدی کی اس پر بھی کوئ گنا ہ نہیں اور جس نے تاخیر کی ،اس پر بھی گناہ نہیں ہے۔

شَهِدْتُ النَّبِيَّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1406

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ بِشْرُ بْنُ حَزْنٍ · حديث 1407

1407 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَزْنٍ النَّصْرِيِّ، قَالَ: افْتَخَرَ أَصْحَابُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ رَاعِي غَنَمٍ وَبُعِثَ مُوسَى وَهُوَ رَاعِي غَنَمٍ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ»

حضرت بشر بن حزن النصری فرماتے ہیں کہ اونٹو ں کے مالک اور بکریوں کے مالک نبی اکرم ﷺ کے پاس فخر کرنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:حضرت داؤد علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا اور وہ بکریاں چراتے تھے ،اور حضرت موسیٰ علیہ اسلام کو مبعوث کیا تو وہ بھی بکریاں چراتے تھےاور میں مبعوث کیا گیا ہوں تو میں نے بھی اپنے اہل خانہ کے لیئے عمدہ بکریاں چرائیں۔

أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ ← النَّبِيُّ «بُعِثَ دَاوُدُ وَهُوَ رَاعِي غَنَمٍ وَبُعِثَ مُوسَى وَهُوَ رَاعِي غَنَمٍ وَبُعِثْتُ ← افْتَخَرَ أَصْحَابُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ ← بِشْرِ بْنِ حَزْنٍ النَّصْرِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1407

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ يَزِيدُ أَبُو حَكِيمٍ · حديث 1408

1408 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوا النَّاسَ يُصِيبُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَشَارَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْهُ»

حضرت حکیم بن ابو یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :لوگوں کو بلواؤ،ان میں بعض کو بعض سے دکھ پہنچتا ہے،پس جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے مشورہ لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کی خیر خواہی کرے (یعنی اچھا مشورہ دے )۔

أَبِيهِ ← حكيم بن أبي يزيد، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1408

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ أَبُو عَقْرَبٍ · حديث 1409

1409 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ، قَالَ: سَأَلَ أَبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنِي زِدْنِي قَالَ: «صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنِي زِدْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِي قُوَّةً فَزِدْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُمْ يَوْمَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ» فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِي قُوَّةً فَزِدْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَنْ يَزِيدَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صُمْ ثَلَاثَةَ [ص:648] أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ»

حضرت ابو نوفل بن ابی عقرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرےوالد نے رسول اللہ ﷺ سے روزہ کے متعلق پوچھا ،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :مہینے میں ایک روزہ رکھا کرو ،عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ! میرے لیئے زیادہ کریں ،میرےلیئے زیادہ کریں !فرمایا مہینے میں ایک روزہ رکھا کرو ،عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ! میرے لیئے زیادہ کریں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :مہینے میں ایک روزہ رکھا کرو ،عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ! میرے لیئے زیادہ کریں،آپ ﷺ نے فرمایا مہینہ میں ایک روزہ رکھا کر!عرض کی یارسول اللہ ﷺ مجھ میں قوت ہے میرے لیئے زیادہ کردیں !تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہینے میں دو دن روزے رکھا کر ، عرض کی یارسول اللہ ﷺ مجھ میں قوت ہے میرے لیئے زیادہ کردیں یہاں تک کہ مجھے گمان ہو گیا کہ آپ میرے لیئے ہر گز زیادہ نہیں کریں گے ،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو۔

الصَّوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ» فَقَالَ: ← سَأَلَ أَبِي رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1409

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ · حديث 1410

1410 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنَ الرُّومِ فَلَمَّا قَرُبْنَا مِنْ حِمْصَ قُلْنَا: لَوْ مَرَرْنَا بِوَحْشِيٍّ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ فَلَقِينَا رَجُلًا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: هُوَ رَجُلٌ قَدْ غَلَبَتْ عَلَيْهِ الْخَمْرُ فَإِنْ أَدْرَكْتُمَاهُ وَهُوَ صَاحَ لَمْ تَسْأَلَاهُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرَكُمَا وَإِنْ أَدْرَكْتُمَاهُ شَارِبًا فَلَا تَسْأَلَاهُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ قَدْ أُلْقِيَ لَهُ شَيْءٌ عَلَى بَابِهِ وَهُوَ جَالِسٌ صَاحٍ فَقَالَ: ابْنُ الْخِيَارِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ مَا رَأَيْتُكَ مُنْذُ حَمَلَتْكَ إِلَيَّ أُمُّكَ بِذِي طُوًى إِذْ وَضَعَتْكَ فَرَأَيْتُ قَدَمَيْكَ فَعَرَفْتُهُمَا قَالَ: قُلْتُ: جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ فَقَالَ: سَأُحَدِّثُكُمَا كَمَا حَدَّثْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلَنِي، كُنْتُ عَبْدًا لِآلِ مُطْعِمٍ [ص:650] فَقَالَ لِي ابْنُ أَخِي مُطْعِمٍ: إِنْ أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرٌّ فَانْطَلَقْتُ يَوْمَ أُحُدٍ مَعِي حَرْبَتِي وَأَنَا رَجُلٌ مِنَ الْحَبَشَةِ أَلْعَبُ بِهَا لَعِبَهُمْ فَخَرَجْتُ يَوْمَئِذٍ مَا أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ أَحَدًا وَلَا أُقَاتِلَهُ إِلَّا حَمْزَةَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا أَنَا بِحَمْزَةَ كَأَنَّهُ بَعِيرٌ أَوْرَقُ مَا يَرْفَعُ لَهُ أَحَدٌ إِلَّا قَمَعَهُ بِالسَّيْفِ فَهِبْتُهُ وَبَادَرَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ سِبَاعٍ فَسَمِعْتُ حَمْزَةَ يَقُولُ: إِلَيَّ يَا ابْنَ مُقَطِّعَةِ الْبُظُورِ فَشَدَّ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ وَجَعَلْتُ أَلُوذُ مِنْهُ فَلُذْتُ بِشَجَرَةٍ وَمَعِي حَرْبَتِي حَتَّى إِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ هَزَزْتُ الْحَرْبَةَ حَتَّى رَضِيتُ مِنْهَا ثُمَّ أَرْسَلْتُهَا فَوَقَعَتْ بَيْنَ ثَنْدُوَتَيْهِ وَذَهَبَ لَيَقُومَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَتَلْتُهُ ثُمَّ أَخَذْتُ حَرْبَتِي مَا قَتَلْتُ أَحَدًا وَلَا قَاتَلْتُهُ فَلَمَّا جِئْتُهُ عُتِقْتُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْتُ الْهَرَبَ مِنْهُ أُرِيدُ الشَّامَ فَأَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا وَحْشِيُّ وَاللَّهِ مَا يَأْتِي مُحَمَّدًا أَحَدٌ فَيَشْهَدُ بِشَهَادَتِهِ إِلَّا خَلَّى عَنْهُ فَانْطَلَقْتُ فَمَا شَعَرَ بِي إِلَّا وَأَنَا قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ أَشْهَدُ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ فَقَالَ: «أَوَحْشِيٌّ؟» قُلْتُ: نَعَمْ وَحْشِيٌّ قَالَ: «وَيْحَكَ [ص:651] حَدِّثْنِي عَنْ قَتْلِ حَمْزَةَ» فَأَنْشَأْتُ أُحَدِّثُهُ كَمَا حَدَّثْتُكُمَا فَقَالَ: «وَيْحَكَ يَا وَحْشِيُّ غَيِّبْ عَنِّي وَجْهَكَ فَلَا أَرَاكَ» فَكُنْتُ أَتَّقِي أَنْ يَرَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَبَضَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَلَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ مُسَيْلِمَةَ مَا كَانَ وَانْبَعَثَ إِلَيْهِ الْبَعْثُ انْبَعَثْتُ مَعَهُ وَأَخَذْتُ حَرْبَتِي فَالْتَقَيْنَا فَبَادَرْتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَرَبُّكَ أَعْلَمُ أَيُّنَا قَتَلَهُ فَإِنْ كُنْتُ قَتَلْتُهُ فَقَدْ قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ وَشَرَّ النَّاسِ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: كُنْتُ فِي الْجَيْشِ يَوْمَئِذٍ فَسَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ فِي مُسَيْلِمَةَ: قَتَلَهُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ

حضرت عبید اللہ بن عدی خیار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم روم سے واپس آئے تو جب ہم حمص کے قریب ہوئے تو ہم نے کہا :اگر ہم حضرت وحشی کے پاس جائیں تو ہم ان سے حضرت حمزہ کے قتل کی تفصیل پو چھتے ہیں ،سو ہم ایک آدمی سے ملے ،ہم نے اس سے حضرت وحشی کا ذکر کیا اس نے کہا کہ وہ ایسا آدمی ہے جس پر نشہ غالب رہتا ہے ،اگر تم اس کو پاؤ ،اور وہ صحیح ہو تو تم ا س سےکوئی شے بھی پوچھو گے تو وہ بتائے گا ،اگر تم اس حالت میں پاؤ کہ اس نے شراب پی ہو تو تم دونوں اس سے کچھ نہ پوچھنا سو ہم دونوں چلے یہاں تک کے ان کے پاس پہنچ گئے ،انہوں نے دروازے پر کوئی شے ڈالی ہوئی تھی اور وہ درست حالت میں بیٹھے ہوئے تھےانہوں نے کہا :اے ابن خیار ! میں نے عرض کی جی ہاں ! میں نے آپ کو اس وقت دیکھا جب آپ کی والدہ آپ کو حالت حمل میں میرے پاس ذی طویٰ میں لائی تھی ،جب اس نے تجھے جنا ،تو میں نے تیرے پاؤں کو دیکھا تو میں نے انہیں پہچان لیا ۔کہا کہ میں نے عرض کی :ہم آپ سے حضرت حمزہ کے قتل کی تفصیل پوچھنے آئے ہیں،انہوں نے کہا کہ میں تم سے ایسے ہی بیان کرو ں گا جیسے میں نے حضور اکرم ﷺ سے بیان کیا تھا جس وقت آپ نے مجھ سے پوچھا تھا ،میں آل مطعم کا غلام تھا ،مجھے مطعم کے بھائی کے بیٹے نے کہا اگر تو حضرت حمزہ کو قتل کرے گا میرے چچا کے بدلے میں تو اس کے بعد تو آذادہو گا ۔سو میں نے احد کے دن اپنے نیزہ کو ساتھ لے کر چلا ،میں حبشی آدمی تھا ،میں کھیل میں بڑی مہارت رکھتا تھا ،سو میں احد کے دن نکلا میرا ارادہ حضرت حمزہ کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے کا نہیں تھا ۔میں نےدیکھا کہ وہ مست خاکستری اونٹ کی طرح لگ رہے تھے اور کوئی بھی آپ کے سامنے آنے کی جراءت نہیں کر رہا تھا ،میں موقع کی تلاش کرنے لگا ،اسی دوران سباع کی اولاد میں سے ایک فرد سامنے آ نکلاتو میں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا :اے ختنہ کرنے والی کے بیٹے !میرے سامنے آ!(یہ کہہ کر )آپ نے اس پر حملہ کیا اور اسے موت کےگھاٹ اتارد یا ،میں درختوں میں چھپتا چھپاتا آپ پر حملے کی تیاری کرنے لگا اور میرے پاس چھوٹا نیزہ تھا یہاں تک کہ جب میں قدرت غلبہ پانے کے قریب ہوا تو میں نے اپنے چھوٹے نیزے کو حرکت دی ،جب مجھے اطمینان ہو گیا تو میں نے اسے آپ پر پھینک دیا اوروہ آپ کی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے نکل گیا ،آپ نے کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن بے سود،پھر میں نے اپنا چھوٹا نیزہ لیا ،اس کے ساتھ میں نے کسی اور کو قتل نہیں کیا اور نہ کسی کو قتل کروں گا ،جب میں واپس آیا تو میں آزاد کردیا گیا ،جب نبی اکرم ﷺتشریف لائے تو میں بھاگ کر ملک شام کی طرف چلا گیا تو ایک شخص مجھے آ کر کہنے لگا :اےوحشی !تجھ پر افسوس !جو شخص محمد ﷺ کے پاس کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے جائے گا آپ ﷺ ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے ،تو میں وہاں سے چل پڑا تو میں آپ کے بالکل پس پشت کھڑے ہو کر کلمہ شہادت پڑھنے لگا تو آپ نے پوچھا کیا تو وحشی ہے ؟میں نے عرض کی :ہاں یا رسول اللہ ! فرمایا تجھ پر افسوس ! تو مجھے حضرت حمزہ کے قتل کا واقعہ سنا تو میں نے وہ ماجرا سنایا جو میں نے تم دونوں کو سنایا ہے ،پھر آپ نے فرمایا اے وحشی تجھ پر افسوس ! تو میری نظروں سے دور ہو جا تیرا چہرہ میں نہ دیکھوں ۔تو میں اپنے آپ کو اس چیز سے بچاتا تھا کہ کہیں نبی اکرم ﷺ مجھے دیکھ نہ لیں ،یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کا انتقال ہو گیا ۔جب مسلیمہ والا واقعہ پیش آیا ،جو لشکر اس کی طرف روانہ ہوا ان میں میں بھی شامل تھا تو میں نے اپنا چھوٹا نیزہ لیا ،جب ہم ایک دوسرے کے مد مقابل ہوئے تو میں نے اس کی طرف جلدی سے حملہ کردیا اسی طرح ایک انصاری شخص نے بھی اس پر حملہ کردیا تیرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم سے اسے کس نے اسے قتل کیا ؟اگر میں نے قتل کیا ہے تو میں نے لوگوں میں سے بہتر کو بھی شہید کیا ہے اور بدترین کو بھی قتل کیا ہے ،سلیمان بن یسار بھی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس دن میں بھی لشکر میں تھا تو میں نے مسلیمہ بن کذاب کے متعلق کسی کو کہتے ہو ئے سنا کہ اسے کالے غلام نے قتل کیا ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1410

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ صُهَيْبٌ · حديث 1411

1411 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [يونس: 26] قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعُودًا فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ؟ أَلَيْسَ قَدْ بَيَّضَ وُجُوهَنَا وَثَقَّلَ مَوَازِينَنَا وَأَدْخَلَنَا الْجَنَّةَ؟ فَيُقَالُ لَهُمْ ذَلِكَ ثَلَاثًا " قَالَ: «فَيَتَجَلَّى لَهُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَيَكُونُ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ أَعْظَمَ مِمَّا أُعْطُوا»

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی "فرمایا :جب اہل جنت جنت میں داخل ہو ں گے تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا :اے جنت والو ! تمھارے لیے اللہ کے ہا ں وعدہ ہے ،وہ کہیں گے وہ کہیں گے وہ کیا ہے ؟کیا ہمارے چہروں کو سفید اور ہمارے میزان کو بھاری اور ہم کو جنت میں داخل نہیں کیا ہے!ان کو یہ تین مرتبہ کہا جائے گا،فرمایا کہ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا ،وہ اس کی طرف دیکھیں گے تو وہ ان کے ہاں ااس سے بھی بڑی نعمت ہو گی جو ان کو عطا کیا گیا تھا۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1411

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ · حديث 1412

1412 - حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ صَالِحًا أَبَا الْخَلِيلِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذِبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا» [ص:654].

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :دو بیع کرنے والوں کو اختیار ہوتا ہے جدا ہونے تک ،اگر دونوں سچ بولیں اور (مال کی حالت و کیفیت )بیان کردیں تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر دونوں جھوٹ بولیں اور چھپائیں تو دونوں کی بیع میں برکت ختم کر دی جائے گی ۔

حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← صَالِحًا أَبَا الْخَلِيلِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← دَاوُدُ، ← يُونُسَ

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1412

مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ · حديث 1413

1413 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ هَمَّامٌ: حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا

حضرت ہمااز قتادہ از صالح از عبداللہ بن حارث از حکیم بن حزام از نبی کریم ﷺ اسی کی مثل حدیث روایت کی ۔

النَّبِيِّ مِثْلَ هَذَا ← حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← أَبُو التَّيَّاحِ، ← أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ هَمَّامٌ: ← النَّبِيِّ مِثْلَ هَذَا ← حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← صَالِحٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ،

Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1413

chevron_left Previous
1…272829…76
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter
1. Book
    70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter
1. Book
    364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
192. Chapter
193. Chapter
194. Chapter
195. Chapter
196. Chapter
197. Chapter
198. Chapter
199. Chapter
200. Chapter
201. Chapter
202. Chapter
203. Chapter
204. Chapter
205. Chapter
206. Chapter
207. Chapter
208. Chapter
209. Chapter
210. Chapter
211. Chapter
212. Chapter
213. Chapter
214. Chapter
215. Chapter
216. Chapter
217. Chapter
218. Chapter
219. Chapter
220. Chapter
221. Chapter
222. Chapter
223. Chapter
224. Chapter
225. Chapter
226. Chapter
227. Chapter
228. Chapter
229. Chapter
230. Chapter
231. Chapter
232. Chapter
233. Chapter
234. Chapter
235. Chapter
236. Chapter
237. Chapter
238. Chapter
239. Chapter
240. Chapter
241. Chapter
242. Chapter
243. Chapter
244. Chapter
245. Chapter
246. Chapter
247. Chapter
248. Chapter
249. Chapter
250. Chapter
251. Chapter
252. Chapter
253. Chapter
254. Chapter
255. Chapter
256. Chapter
257. Chapter
258. Chapter
259. Chapter
260. Chapter
261. Chapter
262. Chapter
263. Chapter
264. Chapter
265. Chapter
266. Chapter
267. Chapter
268. Chapter
269. Chapter
270. Chapter
271. Chapter
272. Chapter
273. Chapter
274. Chapter
275. Chapter
276. Chapter
277. Chapter
278. Chapter
279. Chapter
280. Chapter
281. Chapter
282. Chapter
283. Chapter
284. Chapter
285. Chapter
286. Chapter
287. Chapter
288. Chapter
289. Chapter
290. Chapter
291. Chapter
292. Chapter
293. Chapter
294. Chapter
295. Chapter
296. Chapter
297. Chapter
298. Chapter
299. Chapter
300. Chapter
301. Chapter
302. Chapter
303. Chapter
304. Chapter
305. Chapter
306. Chapter
307. Chapter
308. Chapter
309. Chapter
310. Chapter
311. Chapter
312. Chapter
313. Chapter
314. Chapter
315. Chapter
316. Chapter
317. Chapter
318. Chapter
319. Chapter
320. Chapter
321. Chapter
322. Chapter
323. Chapter
324. Chapter
325. Chapter
326. Chapter
327. Chapter
328. Chapter
329. Chapter
330. Chapter
331. Chapter
332. Chapter
333. Chapter
334. Chapter
335. Chapter
336. Chapter
337. Chapter
338. Chapter
339. Chapter
340. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
541. Chapter
542. Chapter
543. Chapter
544. Chapter
545. Chapter
546. Chapter
547. Chapter
548. Chapter
549. Chapter
550. Chapter
551. Chapter
552. Chapter
553. Chapter
554. Chapter
555. Chapter
556. Chapter
557. Chapter
558. Chapter
559. Chapter
560. Chapter
561. Chapter
562. Chapter
563. Chapter
564. Chapter
565. Chapter
566. Chapter
567. Chapter
568. Chapter
569. Chapter
570. Chapter
571. Chapter
572. Chapter
573. Chapter
574. Chapter
575. Chapter
576. Chapter
577. Chapter
578. Chapter
579. Chapter
580. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter