مسند أبي داود الطيالسي · کتاب ‹ حَدِيثُ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ · حديث 1270
1270 - حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا قَالَ: فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقٍ يَعْنِي نَخْلَةً فَقُلْتُ أَنَا: هِيَ مِنْ أَرْضِي وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هِيَ مِنْ أَرْضِي فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَمَا تَرَى انْظُرْ أَمَا تَرَى؟ إِنَّهَا مِنْ أَرْضِي فَأَبَى وَقَالَ لِي [ص:494] كَلِمَةً نَدِمَ عَلَيْهَا فَقَالَ: يَا رَبِيعَةُ قُلْ لِي مِثْلَ مَا قُلْتُ لَكَ حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا قَالَ: قُلْتُ لَا قَالَ: فَقَالَ: وَاللَّهِ إِذًا لَأَسْتَعْدِيَنَّ عَلَيْكَ قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ، نَعَمْ فَانْطَلَقَ يَؤُمُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ قَوْمِي فَقَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ هُوَ الَّذِي قَالَ لَكَ مَا قَالَ وَيَسْتَعْدِي عَلَيْكَ فَانْطَلَقُوا مَعِي فَقُلْتُ لَهُمْ: أَتَدْرُونَ مِنْ هَذَا؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ غَضْبَانُ فَيَغْضَبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغَضَبِهِ وَيَغْضَبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِغَضَبِ رَسُولِهِ فَيَهْلِكُ رَبِيعَةُ، ارْجِعُوا فَرَدَدْتُهُمْ وَانْطَلَقْتُ وَقَدْ سَبَقَنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَّ عَلَيْهِ فَلَمَّا جِئْتُ قَالَ لِي: «يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَلِلصِّدِّيقِ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَالَ لِي شَيْئًا وَقَالَ لِي: قُلْ مِثْلَ مَا قُلْتُ لَكَ حَتَّى يَكُونَ قِصَاصًا فَقُلْتُ: لَا أَقُولُ لَكَ مِثْلَ مَا قُلْتَ لِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَلْ فَلَا تَقُلْ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لَكَ وَلَكِنْ قُلْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " فَقُلْتُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَا بَكْرٍ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَا بَكْرٍ فَوَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَبْكِي
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے زمین دی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زمین دی ۔ کہتے ہیں کہ ہمارا کھجور کے متعلق اختلاف ہو گیا تو میں نے کہا: یہ میری زمین میں ہے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : یہ میری زمین میں ہے ۔ پس انہوں نے کہا : اے ابو بکر ! کیا رائے ہیں آپ کی ذرا دیکھیں آپ کی کیا رائے ہے ؟ یہ میری زمین میں ہے ' سو آپ نے انکار کر دیا ' پھر مجھ سے آپ نے ایسی بات کی جس پر آپ نادم ہو ئے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اے ربیعہ ! مجھے بھی وہی بات کہو جو میں نے تم سے کہی ہے ' یہاں تک کہ تیرا بدلہ ہو جائے ۔ کہا کہ میں نے عرض کی : نہیں ! (حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) فرمایا : اللہ کی قسم ! تب تو میں تیرے خلاف ضرور مدد چاہو ں گا ' کہا کہ میں نے عرض کی : آپ ٹھیک ہے ' سو آپ چلے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت کروا رہے تھے اور میں آپ کے پیچھے آیا اور میری قوم کے لوگ بھی آئے ' انہوں نے کہا : اللہ ابو بکر پر رحم فرمائے ! وہ کیسے کر سکتے ہیں جو خود ہی آپ کے خلاف بات کریں گے ۔ پس وہ میرے ساتھ چلے ' میں نے ان کو کہا : تم جانتے ہو یہ کو ن ہے ؟ یہ ابو بکر صدیق ہیں ' دو میں سے دوسرے جو دونوں غار میں تھے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ کو غصہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ عزوجل ناراض ہوتا ہے ' سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے ربیعہ ہلاک ہو گیا ؛ واپس جاؤ ! پس میں نے ان کو لوٹا دیا اور میں چل پڑا ' آپ مجھ سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ؛ سو آپ کو بتایا تو جب میں آپ کے پاس آیا ' مجھے آپ نے فرمایا : اے ربیعہ تجھے اور صدیق کو کیا ہوا ؟ میں عرض کی : یا رسول اللہ ! انہوں نے مجھے کوئی بات کہی ہے ؛ اور انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے وہی کہو جو میں نے کہا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ' تم نہ کہنا اس طرح جو اس نے کہا ہے ۔ لیکن کہو: اے ابو بکر ! اللہ آپ کو معاف فرمائے ! سو میں نے کہا : اے ابو بکر اللہ آپ کو معاف فرمائے ! اے ابو بکر !اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ! تو حضرت ابو بکر اس حالت میں پلٹے کہ آپ رو رہے تھے ۔
يَا أَبَا بَكْرٍ أَمَا تَرَى انْظُرْ أَمَا تَرَى؟ ← أَبُو بَكْرٍ: هِيَ مِنْ أَرْضِي ← هِيَ مِنْ أَرْضِي، ← فَاخْتَلَفْنَا فِي عَذْقٍ يَعْنِي نَخْلَةً، فَقُلْتُ ← أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ أَرْضًا وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، ← رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← أَبُو دَاوُدَ،
Musnad Abu Dawood Tayalisi · Book › Chapter · Hadith 1270
